ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار۔۔۔ تحریر: یاسر ممتاز

کچھ دن پہلے آزاد کشمیر کے سابق صدر جنرل انور صاحب ایک تقریر کے دوران فرما رہے تھے کہ ہم پونچھ آزاد کشمیر کے لوگ قدامت پسند ضرور ہیں مگر ہمارا اپنا ایک کلچر ہے، اپنی اقدار اور اپنی ویلیوز ہیں. ان کی بات کو مزید آگے بڑھاتے ھوئے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں صدیوں سے خواتین کا معاشرے میں وہ رول ہر گز نہیں رہا جو شمالی وزیرستان، قندھار یا دوسرے قبائلی علاقوں میں ہوتا ہو گا۔ میری اسّی کی دھائی کی پیدائش ہے یعنی میں نوے کی دھائی میں جوان ہونا شروع ہوا اور مجھے نہیں یاد پڑتا کے ہمارے ہاں پچیس سال پہلے تک حجاب کی موجودہ شکل کا رواج تھا، دوپٹہ البتہ ہمیشہ سے استعمال ہوتا تھا۔ نقاب کی موجودہ شکل بھی بعد میں آئی جبکہ شٹل کاک برقعہ تو آج بھی شاید مدرسے کی بچیوں کے علاوہ کوئی نہیں پہنتا۔
جہاں تک لباس کی بات ہے تو مغربی معاشروں میں بھی سب لوگ ہر وقت برھنہ نہیں گھوم رہے ہوتے، معزز لوگ یہاں بھی عام طور پر اچھا اور ڈیسنٹ لباس پہنتے ہیں۔
آج ہمارے ہاں تعلیم کے میدان میں لڑکیاں، لڑکوں سے کہیں آگے ہیں، آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ہماری بچیاں گزشتہ بیس تیس، سال سے تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ گاؤں کی سطح پر مرد اور خواتین کا ایک دوسرے سے خیر خریت دریافت کرنا کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔ البتہ غیر ضروری بے تکلف ہونے کی آج بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ بازار میں خواتین کے غیر ضروری گھومنے پھرنے کو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا مگر ناگزیر حالات میں کوئی ایسی سخت قدغن بھی نہیں۔
مغربی معاشرے میں آج بھی خواتین اور مردوں کے درمیان تمام تر برابری کے باوجود بےشمار خواتین کو دفاتر میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے جسم کو کاروباری مقاصد کے لیے مردوں سے کہیں زیادہ آبجیکٹیفائی کیا جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود خواتین یہاں کی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لے رہی ہیں۔ خواتین آبادی کا نصف حصہ ہوتی ہیں اور انھیں عضو معطل سمجھنے والے معاشرے جدید دنیا میں ترقی نہیں کر سکتے. مثال کے طور پر ہمارے ہاں سرکار کے لاکھوں روپے خرچ کرنے اور بیس سال کی شب و روز محنت کے بعد ڈاکٹر بن جانے والی خواتین کو ساری زندگی کے لیے گھر پر بٹھانا ایک جہالت سے کم نہیں۔ یہی خواتین زچگی اور دوسرے پیچیدہ معاملات میں ایک مرد کے معاملے میں کہیں بہتر خدمات سرانجام دے سکتی ہیں۔
اگر کسی علاقے کا کلچر یا مذہب مخلوط اداروں کی اجازت نہیں دیتا یا اُس کے لیے سازگار نہیں تو خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ انتظام بھی کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔
اب جبکہ بہت سے کام گھر سے انٹرنیٹ پر کیے جا سکتے ہیں تو خواتین کے لیے کام کاج کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
ہمیں معاشرتی اعتبار سے اس معاملے میں اپنے رویّوں پر غور کرنے ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں