مسلمان محکوم و مجبور کیوں۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

یہ جو امت مسلمہ ہے جسےقرآن پاک میں ملت بھی کہا گیا ہے۔ایک عجیب رشتے میں بندھی ہے۔کہیں افریقہ میں یا مشرق بعید میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو پاکستان کا بنگلہ دیش کا چیچنیا کا کابل کا مسلمان بے چین ہو جاتا ہے
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیر و جوان بے تاب ہو جائے
یہ عقیدے اور ایمان کا رشتہ ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں جس کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ باہم جسد واحد کی مانند ہونے کے باوجود ایک ارب چالیس کروڑ مسلمان ساری دنیا میں بے بسی کی تصویر کیوں بنے ہوئے ہیں؟ساری دنیا میں مظلوم اور مقبوضہ خطوں کا تعلق کشمیر فلسطین چیچنیا روہنگیا ایریٹیریا مورو سب مسلمان ہیں۔غربت اور خانہ جنگی کا شکار بھی مسلمان ہیں۔جہالت اور افراتفری کا شکار اور بین الاقوامی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا مرکز بھی مسلمان۔۔کیا مسلمانوں کے پاس وسائل کی کمی ہے؟ باالکل نہیں انسانی وسائل کی بات کریں تو مسلمان ساری دنیا کی آبادی کا پچیس فیصد ہیں۔اس میں تیس سے چالیس سال کی آبادی دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔قدرتی وسائل کی بات کریں تو ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالی نے تیل گیس معدنیات کے ذخائر سے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ممالک کو خاص طور پر مالا مال کیا ہے۔یونیورسٹیوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے افواج بھی ستر لاکھ سے اوپر ہیں اور عالمی مارکیٹ میں اسلحہ کے سب سے بڑے بڑے خریداربھی مسلمان ممالک ہیں۔
آپ جتنا غور کرتے چلے جائیں گے مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک ہی وجہ نظر ائے گی وہ سب سے بڑی وجہ قوم پرستی کی بیماری ہے۔ذرا تصور کریں اگر پاکستان سعودی عرب ترکی ملائشیا بنگلہ دیش متحدہ عرب امارات قازقستان ایران اوراذربائیجان ایک ملک ہوتے تو ان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھ سکتا تھا؟کیا ان کو کسی بھی شعبے میں کسی غیر کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی تھی؟
چلئے چھوڑیے باقی ساری دنیا کو صرف عرب ممالک جو گلف کونسل میں شامل ہیں وہ ایک ملک ہوتے تو انھیں اسرائیل یا ہزاروں میل دور بیٹھا امریکہ آنکھیں دکھا سکتا تھا؟ کیا اسرائیل فلسطین پر قبضے کی جرات کر سکتا تھا۔؟یاد رکھیں عیسائی سامراجی ممالک چودہ سو سال بعد اس وقت سرزمین عرب میں قدم رکھنے اور ریشہ دوانیاں کرنے میں کامیاب ہوے جب انھوں نے عربوں میں قوم پرستی کا زہر اچھی طرح بھر دیا۔پہلے عربوں اور ترکوں کو لڑایا۔پھر عربوں کو باہم چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا۔سب کو بظاہر خودمختاری دے دی گئی لیکن دراصل انھیں اس قدر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا کہ سب اپنی وہ آزادی جو اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں میں نہیں دے سکتے تھے بخوشی باطل ممالک کے پاس رہن رکھ کر خوش ہو گے۔یہی معاملہ بنگلہ دیش کا ہے جنہیں یہ شکایت تھی کہ پاکستان میں رہ کر ان کو فیصلہ سازی کا اختیار نہیں آج بے بسی سے اپنے سیاسی اور انتظامی معاملات میں بھارت کی مداخلت اور معاشی استحصال دیکھنے پہ مجبور ہیں۔
جتنا غور کریں گے اس نتیجے پر پہنچیں گے قوم پرستی امت مسلمہ کے جسد میں اتارا جانے والا سب سے خوفناک خنجر ہے۔آج مسلمان اس لئے بے بس ہیں کہ ٹکڑوں میں بٹے ہیں طاغوت ابھی بھی خوش اور مطئمن نہیں وہ پاکستان سمیت ساری مسلمان ریاستوں میں نفرت کے بیج ہنوز بو رہا ہے تاکہ ان ریاستوں کو مزید کٹ ٹو سائز کیا جا سکے سوڈان اور انڈونیشیا کی مثال سامنے ہے۔ان سازشوں کا ایک ہی حل ہے واعتصمو بحبل اللہ جمیع ولاتفرقوا۔اج امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اپنی حکومتوں سے شکایت رہتی ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہونے کی بجائے باطل کے تابع ہے۔ذرا تنقید کرتے وقت ان ملکوں کی مجبوریوں اور کمزوریوں پہ بھی نگاہ ڈالا کریں ۔کیا یہ ملک آزادانہ سوچ اپنا کر اپنی حیثیت برقرار رکھ سکتے ہیں؟یہ بچارے تو چھوٹے چھوٹے راجواڑے ہیں ۔انکے باشندوں نے بھی کبھی باطل کے بہکاوے میں آکر اپنے مسلمان بھائیوں سے علیحدگی کا نعرہ بلند کیا تھا۔کیا ان کو آزاد کہا جاسکتا ہے؟اس کا حل یہ ہے کہ علاقائی نسلی اور لسانی تعصبات سے بلند ہو کر امت کی وحدت کے لئے کام کیا جائے۔اسلام کے دشمنوں نے پہلا وار بھی تعصب کا کیا تھا۔پہلی دراڑ ڈالنے کی کوشش بھی مہاجرین اور انصار کو تعصبات میں مبتلا کرنے کی نا پاک سازش سے ہوئی اس کے بعد دشمن نے مسلمانوں پر حملہ کرنے سے پہلے ان میں قوم پرستی کے بیج بوے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے واضع فرمادیا جس نے عصبیت کے لئے بلایا عصبیت کے لئے لڑا عصبیت پر مارا گیا وہ ہم میں سے نہیں۔
“امت کی خستہ حالی کی دوسری وجہ قرآن پاک کے الفاظ میں یہ ہے
“کیا تم اس کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو تم میں سے سے جو ایسا کریں گے ان کی سزا اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی کی زندگی میں رسوائی ان کا مقدر ہو اور اخرت میں انھیں گھسیٹ کر بدترین عذاب کی طرف لایا جائے گا۔”
مسلمان ممالک کی ذلت کی ساری داستان اس آیت میں دیکھی جا سکتی ہے۔۔مسلمانوں نے بطور فرد قران پاک کے بہت محدود حصے کو اپنا رکھا ہے۔ بس نکاح طلاق نماز روزے کی حد تک الکتاب کی پیروی ہو رہی ہے۔معاشرے اور ریاست میں الکتاب کے احکامات کو کوئی عمل دخل حاصل نہیں۔
نتیجہ کیا ہے؟ نتیجہ سمجھنے کے لئے ایک نوجوان انجنیئر کے سوال پہ غور کریں۔گذشتہ سے پیوستہ جمعہ کو مدینہ منورہ کی طرف عازم سفر تھے عزیز بھائی تفہیم اقبال کے دل میں مدینے کی قابل رشک محبت پائی جاتی ہے اکثر اس طرح کے سفر کا اہتمام کرتے ہیں اس مرتبہ مجھے اور انجنیئر جاسم عزیز کیانی کو بھی یہ شرف حاصل ہوا۔مغرب کی بے راہروی پہ بات ہو رہی تھی انجنیئر جاسم نے ایک سوال کر کے مجھے چکرا دیا وہ سوال آپ کے سامنے بھی رکھتا ہوں۔سوال یہ تھا کیا ساری خرابیوں کے باوجود ہم ان ملکوں کو کہ سکتے ہیں کہ ہمارے جیسے ہو جاو؟
اس کا جواب ہاں میں دینے کی کون ہمت کر سکتا ہے؟کیوں کہ خود ہمارے معاشروں اور ریاست میں اسلام نہیں الکتاب کی حکمرانی نہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ظلم نا انصافی قانون کی حکمرانی کی بجائے حکمرانوں کا قانون سود رشوت اقربا پروری جھوٹ بد دیانتی کرپشن وعدہ خلافی ملاوٹ چوری ذخیرہ اندوزی کا منظر ہے جا بجا اور قوام عالم میں خزی فی الحیات الدنیا۔
دنیا کی ذلت کا عالم یہ ہے کہ ستاون مسلمان ممالک اس اسرائیل سے تھرتھر کانپ رہے ہیں جس کی آبادی صرف لاہور شہر سے بھی کم ہے۔
اس کا حل بھی یہ ہے کہ الکتاب کو صرف نماز روزے کی حد تک نہیں معاشرے اور ریاست کی سطع پر حکمران بنایا جائے تاکہ ہم پورے اعتماد سے غیر مسلموں کو کہ سکیں اپنی ذاتی زندگی ہماری طرح اپنا معاشرہ ہمارا جیسا معاشرہ اور اپنی ریاست ہماری جیسی ریاست بنا لو فلاح پا جاو گے۔
تیسری وجہ قرآن پاک کی تعلیمات سے دوری ہے۔قرآن پر ایمان رکھنے والوں کی اکثریت کو پتہ ہی نہیں قرآن کے ان سے مطالبات کیا ہیں
ان تینوں بیماریوں کا تدارک کرنے میں اپنے کردار کا تعین کریں
فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں