مجھے کیوں نکالا ری میک 2020 ۔۔۔ تحریر:توقیر ریاض

وہ کہیں سے بھی ملکی سربراہ نہیں لگ رہا تھا ، سوجھا ھوا بوتھا ، نفرت سے بھری آنکھیں اور لبوُں پر آپکا ووٹ چوری ھو گیا کا شور ۔ وہ شروع سے ایک کاروباری شخصیت رہا جو ہمیشہ نفع نقصان دیکھتا تھا ، ملکی سربراہ کی طرح بات کرنے کا ڈھنگ اُسے کبھی آیاہی نہ تھا ۔ آج کی ناکامی نے اُسے چڑ چڑا اور اکھڑا بنا دیا تھا ، وہ اپنے ہی ملک جسکا کو وہ کچھ دن پہلے تک سربراہ رہا تھا آگ اُگل رہا تھا وہ شائد يیہ بھی بھول گیا تھا کے اسی نظام کے تحت گزشتہ انتخابات میں وہ نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ ان انتخابی نتائج کے مطابق بھی وہ ملک کی دوسری سب سے بڑا جماعت کا سربراہ تھا ۔

اُسکی سیاست کا محور ہمیشہ سے اسکی اپنی ذات رہی تھی کتنے ادروں کے سربراہان کو باجنبش قلم محض اسلئے فارغ کر دیاگیاتھا کے انھوں نے اختلاف کی جرات کی تھی ، اُسکی میڈیا سے کبھی نہ بنی آج بھی وہ اپنی شکست کا ملبہ میڈیااور مقتدر حلقوں پر ڈال رہا تھا ۔ وہ بار بار بد تمیز بچے کی طرح بضد تھا کے ہم جیت رہے تھے وہ واضح مارجن سے اور پھر ووٹوں کے انبار لائے گے ، کہیں سے بکسے بھرے گے ، سسٹم بیٹھ گیا ،مجھے ہروانے کی سازش رچی گئی، وہ اتنا کنفیوز تھا کے کچھ جگہوں پر گنتی روک دو کہہ رہا تھا اور کہیں پر گنتے رہو کہہ رہا تھا ، وہ ہڑبڑاہٹ اور سٹپٹاہٹ میں اتنا تک بھول گیا کے جن اشخاص پر وہ مبہم الفاظ میں الزام لگا رہا ھے وہ اسکے اپنے دور کے لگائے ھوئے ہیں ۔

اسکے الفاظ تضادات کا مجموعہ تھا جیسے کے ہمارا ملک ایک عظیم ملک بننے ہی والا تھا کے ہمیں الیکشن ہروائے گے لیکن سب کے زہن میں ایک ہی سوال تھا کے ابھی تو اسکی جماعت نے اپنی مدت پوری کی ھے پھر کیا ان دیکھی طاقت انہیں روکے تھے ملک کو عظیم بنانے سے ۔

وہ جب تک سربراہِ مملکت رہا اپنے ملک و قوم کے لئے زلت و رسوا کا باعث رہا اور آج ہار کر وہ اسی زلت کے تعفن میں دفن ھو رہا تھا ، اس پر اختیارات کے ناجائز استعمال ، اقربا پروری ، ٹیکس چوری جیسے بے شمار الزامات تھے لیکن وہ ہميشہ انکا جواب دينے کے بجائے اسے اپنے اور ملک کے خلاف سازش کا حصہ قرار دیتا رہا اور طرفہ تماشہ اسکے ساتھ کم عقلوں کی ايک ايسی فوج جو اُسکو درست بھی مانتی اور آج بھی يقين کئے ھے کے آج جس رسوائ کا سامنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ اسٹبلشمنٹ کی سازش ھے اور ہمارا امريکہ پھر سے عظيم بنتے بنتے رہ گيا ۔
نوٹ ۔ کسی بھی طرح کی مماثلت جان بوجھ کے ھو گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں