نواز شریف صاحب چاہتے کیا ہیں؟؟ تحریر: محتاب خان

تین بار کے سابق وزیر اعظم صاحب اسٹیبلشمنٹ کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اُ نکی سیاست ختم کیے جانے صورت میں وہ کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔جو عزت پالشیوں کے ریوڑ کے ریوڑ پال کر اور ہر سچی آواز کو جبر و دھونس سے دبا کر کمائی گئی ہے۔ وہ پے در پے انکشافات سے مٹائی نہ بھی جاسکی تب بھی دراڑیں ضرور ڈل جائیں گی۔

مجھے کیوں نکالا کی ناکامی کے بعد وہ اب زبان حال سے کہہ رہے ہیں۔ مجھے دوبارہ شامل کرو ورنہ تمہاری گیم بھی خراب کروں گا۔جب میرا کوئی اسٹیک ہی نہیں رہ گیا تو تمارے لیے جہاں تک ہو سکا مشکلات پیدا کرتا رہوں گا۔

یہ بات یقینی ہے کہ دو چوروں کی لڑائی زیادہ لمبی نہیں چلا کرتی۔ جلد از جلد آپس میں صلح کر لی جائے گی۔ شرائط، ضوابط اور طریقہ کار میں زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کرنے کی کوشش کی جائے گی، پھر لڑائی بڑائی مٹا کر سبھی راضی خوشی رہنے لگیں گے۔

رہ گئی پی ڈی ایم، تو اس کا حال بھی میثاق جمہوریت جیسا ہی ہونا ہے۔ جب تک اقتدار سے باہر ہیں خوب جوتوں میں دال بٹے گی۔

اختلاف ماضی کی طرح پہلی باری سے شروع ہوگا۔
زرداری صاحب کے سیاسی وعدے اب کون سا قران و حدیث ہونے لگے ہیں۔
اشارہ ہوگا تو میاں صاحب لانگ مارچ کے لیے بھی نکل آئیں گے اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ بھی پہنچیں گے۔
زرداری صاحب کو اشارہ ہوا تو وہ بلوچستان حکومت گرانے اور چئیرمین سینٹ کے انتخاب پر کندھے اب بھی پیش کریں گے۔

عوام خواب دیکھتے نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے گول چکر میں ہی رہیں گے۔

مولانا کا پتہ کاٹنے پر سبھی متفق ہیں۔ تمام تر بصیرت کے باوجود وہ اپنا مدرساتی نظام بچانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں