ہم منٹو کی عدالت میں۔۔۔ تحریر: سردار کامران غلام

تقسیم ہندوستان سے پہلے بھی منٹو کے افسانے فحاش نگاری کے الزامات کی وجہ سے پڑھنے کی ممانعت کا شکار رہے اور منٹو کبھی لاہور اور کبھی ممبئی کی عدالتوں میں اپنے کرداروں اور افسانوں کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئے۔ ایک بڑے ادیب کو زمانہ سمجھ نہ پایا اور اُسے فحاش نگاری پر پورے ہندوستان کی عدالتوں کی خاک چھاننی پڑی۔ ہزاروں اذیتیں سہنے کے باوجود منٹو جس نفسیاتی بلندی تک پہنچ کر انسان کی نفسیاتی اور فطری رحجانات بالخصوص برصغیر کے آدمی کے انسان بننے تک کے سفر کا تجزیہ کرنے سے باز نہ رہا۔

وہ مزاحمتی قلمکار تھا ، وہ جانتا تھا کہ وہ صحیح جان چکا ہے اور جوکرک اُسے مجبور کرتی تھی وہ لکھ ڈالتا تھا۔ نتیجہ کچھ بھی ہو، عدالت ہو یا اُسے فحاش نگار کہا جائے ، اُس کی قلم رکتی نہیں تھی۔ وہ ایک حقیقت نگار تھا ، معاشرہ جن حقیقتوں پر پردہ ڈالتا تھا ، وہ اُس پردے کو ہٹانے پر بضد تھا، حقیقت کو آشکار کرتا تھا چاہے حقیقت کتنی ہی بھیانک اور خوفناک کیوں نہ ہو۔ انسان کو صرف اور صرف اچھی تخلیق تصور کرنے والوں کے سامنے وہ حقیقت کا عریاں چہرہ لے آتا تھا اور پوچھتا تھا یہ بھی تو کوئی اندر کا انسان ہی ہے جو اسی معاشرے میں پایا جاتاہے.

جرائم کرنے والے بھی تو اسی معاشرے میں ہی پائے جاتے ہیں، کچھ قانون کی گرفت میں آ جاتے ہیں اور کچھ قانون سے چھپے رہتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے حقیقت اتنی خوبصورت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے معاشرہ بھی اپنی آنکھیں بند کر لیتاہے اور حقیقتوں سے منہ چراتا پھرتاہے۔ تعلیم و تربیت نے آدمی کو انسان کے سفر تک ساتھ دیامگر بدقسمتی سے آج بھی برصغیر میں تعلیم و تربیت عام نہ ہے جس کی وجہ سے آئے روز مختلف واقعات اور مختلف حادثات ہمارے بظاہر مہذب معاشرے کا منہ چڑھا رہے ہوتے ہیں۔لکھنے والے قلمکار اب بھی اتنے آزاد نہیں ہیں جتنے کہ منٹو کے دور میں ، آئے دن کتابوں پر پابندیاں لگتی رہتی ہیں، سب اچھا ہے ، دیکھنا چاہتے ہیں ، سننا چاہتے ہیں، اچانک سے جب کوئی برائی سامنے آ جاتی ہے تو ہم سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، کیا یہ اچھا نہیں؟ کہ لکھنے والے آزاد ہوں اور ان برائیوں کی خبر ہم تک پہنچتی رہے اور یہ برائیاں سر ہی نہ اُٹھا سکیں۔

منٹو کے افسانے “کھول دو، ہتک ، سڑک کنارے، کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت، یقینا انسان کے اندر پائے جانے والے ہیجان کو بیان کرتے ہیں۔ مختلف معنی میں لیے جاتے ہیں مگر جو نفسیاتی راز یہ کھولتے ہیں، یہ انہیں خاص بناتے ہیں۔ منٹو پر پابندی سے کیا انسانی نفسیات تبدیل ہو گئی؟ کیا ایسے کردار برصغیر کے معاشرے سے ختم ہو گئے؟یہ سوالات نہیں بلکہ یہ جوابات ہیں، ہندوستان میں حال ہی میں 85سالہ عورت کے ساتھ جنسی زیادتی ، پاکستان میں موٹر وے حادثہ، قصور میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کیا منٹو کے کرداروں کی حقیقت نہیں ہیں؟

Necrophilia اور Pedophilia آج ایک نفسیاتی بیماری کی صورت میں جانی جاتی ہیں ، ایسے کرداروں کے بارے می جو منٹو لکھتا تھا تو وہ ایک فحاش نگار تصور ہوتاتھا۔لیکن آج جدید دنیا کے اندر انہیں بیماری کہا جاتاہے۔ مرنے کے بعد منٹو کو بھی بہت ہی سراہا جاتاہے مگر جیتے جی اُسے ایک عدالت سے دوسری عدالت گھسیٹا جاتارہا ہے ۔ آج بھی لکھنے والوں پر پابندیاں اور رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، کیا اس سے یہ بیماریاں ختم ہو جائیں گی؟ کیا ایسے کردار معاشرے سے خودبخود ، آنکھیں بند کرنے ، تذکرہ نہ کرنے سے کہیں غائب ہو جائیں گی؟کیا ساری برائیں تذکرہ کرنے اور لکھنے سے پیدا ہوتی ہیں ؟ایسے تمام رحجانات جو انسان اختیار کرتاہے اُن سے آنکھ چرا کر نکل جانا اچھی علامت نہ ہے۔ پاکستان کے اندر نوجوانوں کی تعداد 60%سے بھی زیادہ ہے ، یہ ایک مثبت بات بھی ہے اور منفی بھی۔

اگر نوجوانوں کو تعلیم و تربیت کے زیور سے نہ آراستہ کیا گیا تو یہی نوجوان بے روزگاری اور بیکاری کے ستائے ، مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہوں گے جن میں ایسے بھیانک جرائم بھی موجود ہیں جن کا پہلے تذکرہ کیا جا چکاہے۔عادی مجرموں کو صرف کڑی سزائیںدینا ہی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ اس کیلئے پورے معاشرے کو آگے بڑھ کر ان موضوعات پر بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ سے لے کر تمام بڑے اداروں میں ان پر مکالمہ اور بحث کی ضرورت ہے۔ آج بھی عدالت میں سچ بولنے والے اور حقیقت بیان کرنے والے کو ہی گھسیٹا جاتاہے۔آج بھی اس پہ بات کرتے ہم ہچکچاتے ہیں، شرم سے پانی پانی ہو جاتے ہیں، زیادتی کرنے والا مرد جو ٹھہرا ، اُس کی عزت مرد ہونے کی وجہ سے محفوظ ، اور جس سے زیادتی ہو عورت ہو کر مجبور، درندہ ہونا صفت ٹھہری اور معصوم پھول ہونا جرم ٹھہرا۔ کیا یہ معیارات منٹو اب بھی تبدیل ہوئے ہیں، تیری عدالت میں یہ کہنا پڑرہاہے کہ نہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں