ضلع پونچھ میں والی بال روبہ زوال کیوں ؟ تحریر شمیم خان

والی بال کا کھیل آزاد کشمیر میں بہت شوق سے کھیلا جاتا ہے اور برسوں سے یہاں یہ کھیل ایک روایتی کھیل کی حثیت اختیار کر چکا ہے اور لوگوں کی اس سے دلچسپی گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی ہی رہی ہے
آزاد کشمیر کے والی بال میں ضلع پونچھ کا کردار بہت نمایاں رہا گزشتہ چالیس برس سے یہاں کے والی بال کے افق پر ضلع پونچھ ایک تابندہ ستارے کی طرح چمکتا رہا ہے اس عرصے میں ضلع پونچھ نے ایسے نامور کھلاڑی پیدا کیے جنھوں نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان میں کلب لیول ٹورنمنٹس اور پھر سات سمندر پار بھی جہاں کہیں موقع ملا اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے
لیکن تاریخ کا اصول ہے کہ ہر عروج کو زوال اتا ہے اور یہی زوال اب پونچھ کے والی بال پہ نظر آتا ہے گزشتہ برس ضلع کوٹلی کی ٹیم نے آزاد کشمیر چمپئین شپ جیت کر برسوں سے اس ایونٹ پر ضلع پونچھ کی تاریخی حکمرانی کا خاتمہ کیا وہاں گزشتہ دو برسوں سے ضلع سدھنوتی کے کھلاڑیوں نے والی بال کے میدان میں اپنا سکہ خوب جمایا اور برسوں بعد والی کے کھیل میں پونچھ کی برتری کو بھرپور طریقے سے چیلنج کیا ہے جو ایک طرف اس لحاظ سے مثبت بات ہےکہ کوٹلی اور سدھنوتی کے اضلاع میں نئی نسل نے اس کھیل کو اپنایا ہے اور بھرپور طریقے سے اس میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کیا وہاں پونچھ میں یہ کھیل ہر گزرتے دن کے ساتھ زوال پذیر ہوتا جارہا ہے آخر کیا وجہ ہےکہ ماضی میں مشکل حالات کے باوجود یہاں منظم کلب اپنا وجود رکھتے تھے اور شاندار کھلاڑی پیدا ہوئے آج سہولیات ہونے کے باوجود اس کھیل نے ترقی کی بجائے تنزلی کا راستہ کیوں اختیار کیا
ساری دنیا میں کھیلیں کمرشلائز ہوئی ہیں اور اس مفاداتی دوڑ نے کھیل سے اسکا حسن چھین لیا ملک، صوبہ ، ضلع یا گاوں اب کسی کی نظر میں اہمیت نہیں رکھتا ذاتی کارکردگی اور پیسے کو حصول کھیل کی بربادی کا ذریعہ بنا
ہمارے ہاں بھی یہی روایت اپنائی جارہی ہے محض جیت کے نام پر ہر حربہ استمعال کیا جاتا ہے پکڑ دھکڑ کر ٹیمیں بنائی جاتی ہیں اور محض جیت اور نام کے لیے کھیل کی روایات کو برباد کیا جاتا ہے
ضلع پونچھ میں منظم کلبوں کی روایت پورے آزاد کشمیر میں سب سے شاندار تھی اور درجنوں کلب انتہائی منظم انداز سے چلائے جاتے تھے نظم و ضبط کلبوں کا مثالی تھا ایونٹس کے اندر بھی ہر انتظامیہ بھرپور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی تھی محدود وسائل کے باوجود ہر سال منظم کلب اپنے ایونٹس باقاعدہ اور منظم طریقے سے منعقد کرواتے تھے آج ان سب باتوں کی کمی ہے
آج جدید ٹیکنالوجی کا عہد ہے سوشل میڈیا کے بے دریغ اور بے جا استمعال نے بھی نہیں جوان نسل کو کھیل کے میدان سے دور رکھا ہے اور آج کا نوجوان اپنا وقت کھیل کی بجائے سوشل میڈیا کو دینا پسند کرتا ہے
اسکے ساتھ ساتھ والی بال ایسوسی ایشن کا کردار بھی انتہائی کمزور رہا ہے بلکہ گزشتہ کہیں برسوں سے تو اس کا کوئی کردار دیکھنے کو نہیں ملا
ان سارے عوامل پر غور و فکر کی ضرورت ہے
پونچھ کے والی بال کے کرتا دھرتا لوگوں سے دردمندانہ اپیل ہےکہ وہ اس پہ توجہ دیں پونچھ میں والی بال کلبز کو علاقائی بنیادوں پر منظم کیا جائے مقامی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جائے پکڑ دھکڑ کی پالیسی ترک کی جائے والی بال ایسوسی ایشن کو فعال بنایا جائے ایونٹس کو منظم کیا جائے انھیں ٹائم فریم کے اندر مکمل کیا جائے جسکی وجہ سے لوگوں میں وقت کے زیاں کا احساس نہ ابھرے کیونکہ جس طرز کے ایونٹس اج ہو رہے ہیں عام لوگ اس سے بددل ہو رہے ہیں کیونکہ بے وقت کا کھیل بہت ساری سماجی برائیوں کو جنم دیتا ہے اس سے بچنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ لوگ اپنے بچوں کو کھیل کھیلنے سے روکنے کی کوشش کرینگے
اگر ان سب عوامل پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو وقت دور نہیں جب پونچھ سے والی بال کا سورج غروب ہو جائیگا اور یہ صرف قصے کہانیوں میں ملا کرے گا
سوچئیے گا ضرور

تحریر: شمیم خان

Shamim Khan
Shamim Khan

اپنا تبصرہ بھیجیں