تحریر: انیس قمر عباسی

دنیا کی چھت پر بیٹھ کر دنیا والوں کی باتیں سن کر مجھے ذرا بھی عجیب نہیں لگ رہا۔۔

پتا ہے کیوں؟؟

اس لیے کہ انسانوں نے تو محبت کو لین دین کا رشتہ بنا دیا ہے۔ جب تک کسی سے کوئی فائدہ مطلوب ہو تو محبت ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔۔

اور آپ لوگ تو جانتے ہیں نا کہ:

میری تو پہلی اور آخری محبت پہاڑ تھے۔

اور پہاڑوں سے محبت کو عام انسان نہیں سمجھ سکتا۔
پہاڑ جب آپ سے محبت کرنے لگیں تو وہ واپس نہیں جانے دیتے 😢😢 ۔۔

پہاڑوں میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ ہمیں اپنی راجدھانی میں کھینچ لائیں جہاں ہمارے وہ دوست ابد تک کے لیے ہوتے ہیں جن کی روحیں کبھی ان بلندیوں تک جانے کے لیے مچلا کرتی تھی۔

اور میں تو جس کی زندگی میں خوائش کی اب بھی ادھر ہی ہوں اور یہ تو غالب صاحب بہت عرصہ پہلے کہہ کے گئے تھے نا:

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے ـ

مجھے معلوم ہے فتوی بازی بھی ہو رہی ہے، کوئی اسے خود کشی کہہ رہا ہے اور کوئی اسے جاہلیت لیکن ان لوگوں کو کیا معلوم کہ:

محبت تو جلتے کوئلوں پر “احد احد” کی صدا کا نام ہے۔۔

محبت تو پوری رات بچھو کے ڈنگ کو بردادشت کرکے اپنے محبوب کی نیند میں خلل نہ ڈالنے کا نام ہے۔۔

محبت کی خاطر تو رب نے پوری دنیا تخلیق کر ڈالی۔۔

محبت تو کشتیاں جلا کر واپسی کے راستے ختم کرنے کا نام ہے۔۔

محبت نے تو فرہاد کے تیشے سے پہاڑوں کو کٹوا کر نہریں بنا دی تھی۔۔

لیکن میں یہاں اس لیے مطمئن اورسکوں سے ہوں کہ اس دنیا میں آپ جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس جذبہ کو سمجھتے ہیں ۔۔

سلائی مشین پر کمر جھکاے دیوی نے تو مجھے پہاڑوں کے ساتھ قبول کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میری محبت کی شدت میرے محبوب پہاڑوں جیسی بلند ہے اور یہ شدت اس کے لیے کافی ہے۔

آپ دونوں نے 14 فروری کا ذکر کیا لیکن بس ایک التماس ہے کہ آپ لوگ 14 فروری کو بے شک محبت مناو لیکن میری تو ساری زندگی پہاڑوں سے محبت میں گزری ہے اس لیے محبت کو اپنی پوری زندگی میں پھیلا دو۔۔۔

پھر دیکھنا جیسے مجھے میرے محبوب پہاڑ واپس نہیں آنے دے رہے ایسے ہی آ پ لوگ بھی ہمیشہ کے لیے اپنے محبوب کو پا لو گے ۔۔

پھر وہ محبوب چائے مجازی ہو یا حقیقی ۔۔۔۔

ان کوہ پیماوں کو مت بھلانا جو چوٹیوں سے لوٹ کر نہیں آتے۔۔۔
دور پہاڑوں کی چوٹیوں سے ،
علی صدپارہ

اپنا تبصرہ بھیجیں