2020 کے امریکی انتخابات۔۔۔۔تحریر: محتاب جان

2020 کے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کا پلڑا خاصا بھاری نظر آرہا۔ امريکی نشرياتی اداروں کے مطابق اب تک جو بائيڈن کو 254 اليکٹورل کالج ووٹ حاصل ہو چکے ہيں جبکہ ٹرمپ کو 214 ووٹ حاصل ہو سکے۔ اليکشن جيتنے کے ليے کسی بھی اميدوار کو 270 اليکٹورل کالج ووٹ درکار ہوتے ہيں۔ اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جن ميں دونوں اميدواروں کے درميان ووٹوں کا فرق انتہائی معمولی ہے۔ لیکن جو بائیڈن اب فتخ سے چند قدم ہی دور کھڑے دیکھائی دے رہے ہیں۔

جو بائیڈن اگر صدر منتخب ہوئے تو وہ اٹہتر سال کی عمر میں حلف اٹھانے والے امریکا کے معمر ترین صدر ہونگے۔ وہ امریکی سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں جنہیں امریکہ کے ایوانوں میں گھومتے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔

پینسلوینیا کے شہر سکرینٹن میں پیدا ہونے والے جو بائیڈن نے اپنا پچپن سے اب تک زندگی کا زیادہ حصہ ریاست ڈیلاویئر میں گزارا ہے۔ یہیں سے انہوں نے 1972 میں امریکی سینٹ کا اپنا پہلا الیکشن جیتا تھا۔ اور پھر مسلسل جیتتے چلے آئے ہیں۔

ذاتی زندگی میں بائیڈن ایک نسبتا ملنسار اور عوامی شخصیت کے طور معروف ہیں۔ وہ خوش اخلاقی اور لوگوں میں گھل مل جانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہیں ایک مضبوط اعصاب کا مالک شخص بھی مانا جاتا ہے۔ نجی زندگی کے دو بڑے سانحات کو ہمت اور حوصلے سے نہ صرف برداشت کیا۔ 1972 میں ان کی اہلیہ اور بیٹی کار حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ اور دنوں بیٹے شدید زخمی ہوگئے تھے۔ اُنہوں اپنی سینٹ کی پہلی رکنیت کا حلف ہسپتال سے ٹیلیفون پر لیا تھا۔ 2015 میں ان کے 46 سالہ صاحبزادے بیو بائیڈن دماغی کینسر کے باعث اچانک اُس وقت انتقال کر گئے جب اُن کی ریاستی گورنر کے عہدے کے الیکشن میں کامیابی یقینی مانی جا رہی تھی۔

بائیڈن عالمی سفارتکاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ تین بار سینٹ کی طاقتور امور خارجہ سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ 2008 میں صدر باراک اوباما کے نائب صدر بھی اپنے سفارتکاری کے تجربے کے باعث بنے تھے۔

جو بائیڈن عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ گمبھیر تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے سفارتکاری کو ترجیح دینے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

جو بائیڈن اگر صدر بنتے ہیں تو امریکہ کے عالمی روک میں واضع تبدیلی دیکھنے کو ملنے کی توقع ہے۔ اگر برصغیر کی بات کی جائے تو خطے میں ہندوستان کی اہمیت کے پیش نظر بائیڈن کی پالیسی ہمہ جہتی ہونے کی توقع ہے۔ چین سے نمٹنے کے لیے چار ملکی اتحاد آسٹریلیا، جاپان، ہندوستان اور امریکہ کو مزید توانائی ملنے کی امید ہے۔

یاد رہے کہ ہندوستان کے ساتھ بائیڈن کا بہت پرانا تعلق ہے، 1975میں پہلے جوہری دھماکوں کے بعد جب امریکی کانگریس میں ہندوستان پر اقتصادی پابندیاں لگانے کی قرار داد جس واحد ووٹ سے مسترد ہوئیتھی وہ سینیٹر جو بائیڈن کا ہی تھا۔ اسی طرح 2005 میں جوہری عدم پھیلاؤ کی ٹریٹی کا حصہ نہ ہوتے ہوئے ہندوستان امریکہ جوہری معاہدے پر ڈیمو کریٹس کو رام کر کے ہندوستان کو خصوصی رعایت دلوانے کا قانون پاس کروانے کا سہرا بھی جو بائیڈن کے ہی سر جاتا ہے۔
البتہ بائیڈن نے اپنے حالیہ بیانات میں مودی حکومت کے شہریت مخالف قانون، مسلمانوں سے تفریق اور جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حثیت کو ختم کرنے جیسے اقدام کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں اگرچہ ڈیموکریٹک صدر کا عمومی رویہ ہندوستان کے حوالے خاصہ نرم رہنے کی امید ہے۔ تاہم حقوق انسانی کے حوالے امریکہ کا سخت موقف دیکھنے کو ملے گا۔ جس کی وجہ سے ہندوستان میں ہندوتوائی جہاریت کو دی گئی ڈھیل نہیں چل سکے گی۔

جو بائیڈن پاکستان کے بھی ایک درجن سے زیادہ دورے کر چکے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ان کے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ براہ راست رابطے رہے ہیں۔ اور سول ملٹری کے مختلف پہلوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
یاد رہے 2009 میں پاکستان کے لیے امداد کے پیکج کو جمہوریت کے تسلسل، آزاد عدلیہ اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ایکشن سے مشروط کرنے کا معروف بل تیار کرنے والے بھی جو بائیڈن تھے۔ انہی کے نام سے یہ”بائیڈن لوگر بل” تھا۔ تاہم ان کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اس بل کو وزیر خارجہ جان کیری کے نام سے منسوب کر کے “کیری لوگر بل” کے نام سے امریکی پالیمان سے منظوری ملی تھی۔ واضع رہے کہ تب پاکستان میں عسکری قیادت کے اس پر شدید اعتراضات سامنے آئے تھے۔

مانا جاتا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی امیدوار کی کامیابی سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ تاہم نتن یاہو اپنے تمام میلے کپڑے جہاز میں بھر کر وہائٹ ہاوس کی لانڈر ی میں فری دھلوانے کے لیے لاتے ہیں۔ ٹرمپ کی عدم موجودگی میں وہ سہولت میسر نہیں رہے گی۔ بائیڈن بھی عرب مماک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم انسانی حقوق سے متعلق ان کے سخت موقف کی زد میں عرب ممالک کا آنا یقینی ہے اور کسی حد تک اسرائیل پر بھی دباو آسکتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ عرب ممالک کے لیے زیادہ سخت امتحان جو بائیڈن کی ایران پالیسی بن سکتی ہے۔ اس لیے عرب ممالک اور اسرائیل، امریکہ کی طاقتور یہودی لابی کے ذریعے بائیڈن کی ٹیم پر اثر انداز ہو کر انہیں جوہری ایشو پر ایران کے ساتھ گفت و شنید دوبارہ شروع کرنے سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ٹرمپ کی جگہ اگر جو بائیڈن وائٹ ہاوس میں براجمان ہوئے تو امریکہ میں مسلم بین کا خاتمہ ہونا یقینی ہے۔ کسی حس تک مسلم مخالف جذبات پر قدغن لگنے کی امید ہے۔ ایمیگریشن قوانین میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جانے والے امتیازی سلوک میں کمی یا اس کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔ چین میں ایغور مسلمانوں کا ایشو لائم لائیٹ میں آنے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں