پونچھ میں اشتعال۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

پونچھ ڈویژن میں حال ہی میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا ہے۔حکومت نے قیمتوں میں اضافہ چالیس فیصد واپس لینے کا اعلان کیا گویا کہ پانچ سو روپیہ فی من اضافے کی بجائے تین سو روپے فی من اضافہ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔لیکن اس کے باوجود عوام کا غیض و غضب تھمنے نہ پایا اور 13 جنوری کو ایک مرتبہ پھر پونچھ ڈویژن خاص طور پر پونچھ اور سدھنوتی میں بھرپور ہڑتال ہوئی اور آزاد پتن کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے مابین مسلح تصادم ہوا۔بلا شبہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوامی اشتعال کی بڑی ہے لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔خطہ پونچھ کا ہر دور کی جہادی اور سیاسی تحریکوں میں بنیادی کردار رہا ہے۔پانچ اگست 19 کی بھارتی کارروائی کے بعد عوام میں شدید فریسٹریشن پائی جاتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکمران اس نازک لمحے پر وہ کردار ادا نہیں کر سکے جس کی ضرورت تھی۔صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کا کردار بھی مایوس کن رہا۔صرف زبانی بیان بازی اور سخت ردعمل کی تاریخیں دینے کے سوا وہ کچھ نہ کر سکے۔ قوم پرست عناصر نے مین سٹریم پارٹیوں کی بے عملی سے پہلے بھی فائدہ اٹھایا اور آٹے کی حالیہ تحریک میں بھی۔لیکن عوام میں ان کے نظریے کی پذیرائی نہ ہونے اوران کی طرف سے معاملات کواینٹی پاکستان رخ دینے کی کوشش کی وجہ سے ہر دو مرتبہ عوام نے اپنےآپکو اس تحریک سے علیحدہ کردیا۔ آٹے کی حالیہ تحریک کے دوران عوام سیاسی جماعتوں کے کنٹرول سے واضح طور پر باہر نظر آئے۔حالانکہ اس تحریک کے آغاز میں حالات کو پر تشدد اور مہنگائی سے زیادہ حکومت مخالف رخ دینے میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف پیش پیش رہی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی تحریک انصاف پاکستان میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ملک دشمنی سے تعبیر کرتی ہے۔لیکن احتجاج نے جب زور پکڑا تو عوام نے سیاسی جماعتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔یہ خوفناک بات ہے اور کسی کے لئے اچھی نہیں۔عوام کا ایک بے قیادت اور بے سمت ہجوم کسی بھی وقت ایک خوفناک الاو کی صورت اختیار کر سکتا۔آزاد کشمیر بہت حساس خطہ ہے تمام تر غیر فعالیت کے باوجود آج اگر تحریک آزادی کشمیر زندہ ہے تو اس میں مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے خون کے علاوہ آزاد کشمیر کے وجود کا بھی بڑا دخل ہے خود یہ آزاد کشمیر نام بھی آزادی دشمنوں اور بھارت کے ہمنواوں کے لئے کسی تازیانے اور ڈراونےخواب سے کم نہیں۔ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے الفاظ اس بات کا اعلان ہیں کہ ریاست کے مستقبل کاتعین ہونا ابھی باقی ہے۔اسی لئے بھارت کے پروپیگنڈے سے متاثرہ عناصر آزاد کشمیر کا لفظ بولتے ہوے بھی انقباض محسوس کرتے ہیں۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر تک فرسٹریشن کا شکار ہیں۔جس کا واضح اظہار ان کا تحریک حریت کے زیراہتمام 5 جنوری کو ہونے والے سیمینار میں خطاب ہے۔اس خطاب میں انھوں نے بھرپور جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوے دل کی خوب بھڑاس نکالی۔سب سے اہم بات یہ کی کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اول و آخر حق صرف کشمیریوں کو حاصل ہے۔انھوں نے بھی یہی رونا رویا کہ 5 اگست 19 کے بھارتی اقدامات پر موثر ردعمل نہ آنے کی وجہ سے ریاست کے سارے حصوں میں مایوسی اور فرسٹریشن ہے۔یہ نئی بات نہیں اس سے قبل جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر خالد محمود اور سابق امیر عبدالرشید ترابی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔عمران خان بھی متعدد مرتبہ کہ چکے ہیں کہ میری اقوام متحدہ میں تقریر کا فالو اپ نہیں رکھا گیا۔عوام عمران خان اور فاروق حیدر کی جانب سے صرف گلے شکووں کی داستان نہیں عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ساتھ ساتھ بیس کیمپ کی حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ جیسے اقدامات سے گریز کرے ۔لیکن وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اپنے وڈیو پیغام میں احتجاج کرنے والوں کی نہ صرف مذمت کی بلکہ احتجاج کرنے والوں کو یہ یہ طعنہ دیا کہ آپ کو گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیوں نظر نہیں آتا۔احتجاج کی حالیہ لہر نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ 5 اگست کے بعد کی بے عملی نے عوام میں شدید فریسٹریشن کی جو کیفیت پیدا کر رکھی ہے اس کے نتیجےمیں حالات کسی وقت بھی منفی رخ اختیار کر سکتے ہیں اور غیر فعال سیاسی قیادت غیر متعلقirrelevantI ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں