منصفانہ الیکشنز کیسے۔۔۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

آزاد کشمیر میں عام انتخابات کو سات ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔کافی حد تک الیکشن مہم بھی شروع ہو چکی ہے۔ابھی حال ہی میں جی بی کے الیکشن ہوے ہیں۔یوں تو الیکشن کی ساری تاریخ ہی بہت سے سبق اموز پہلو رکھتی ہے لیکن یہ الیکشن کیونکہ باالکل تازہ تازہ ہیں اس لئے ان کی روشنی میں سیاسی جماعتوں کے لئے غوروفکر کا کافی سامان موجود ہے۔آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے۔یہاں کی حکومت دراصل پوری ریاست جموں کشمیر کی ازاد حکومت ہوتی ہے۔لیکن یہ مقام اس حکومت کو اور اس اسمبلی کو تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب انتخابات ہر قسم کی دھاندلی سے پاک ہوں۔آزاد کشمیر کے مخصوص ماحول میں پولنگ والے دن دھاندلی کا امکان بہت محدود یوتا یے۔یہاں زیادہ تر پری پول دھاندلی ہوتی ہے۔تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کی حیثیت سے ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ یہاں اکثریت کی اسمبلی نہیں بلکہ تمام طبقات کی نمائندہ اسمبلی ہو۔پری پول دھاندلی کی کئی صورتیں ہیں کچھ بذیل ہیں
1۔مہاجرین کی نشستیں
2۔بلدیاتی الیکشن کی عدم موجودگی
3۔آخری سال میں ملازمتوں اور فنڈز کی بندر بانٹ
4۔انتخابی طریق کار
مہاجرین کی نشستیں
آزاد اسمبلی میں مہاجرین کے نام پر بارہ نشستیں رکھی گئی ہیں۔ان نشستوں کے لئے وہ لوگ ووٹر ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں پہلے ہی چار حکومتوں مرکزی صوبائی ضلعی اور مقامی کے لئے ووٹ دیتے ہیں۔ ان کو آزاد کشمیر اسمبلی کے الیکشن سے کوئی دلچسی نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ کہ حکومت وقت کی ایما پر میونسپل کمیٹی کے اہلکار ووٹ ڈالتے ہیں۔اس سے انداذہ لگائیں کہ وہ ایم کیو ایم جو سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے میں ایک نشست بھی نہیں رکھتی اس کی بھی ایم کیو ایم کے عروج میں دو نشستیں آزاد کشمیر اسمبلی میں رہی ہیں۔یہ سب کچھ آزاد کشمیر اسمبلی کو ایک مذاق بنا دیتا ہے اور ساتھ ہی پری پول دھاندلی کا ایک بڑا ذریعہ بھی۔کیونکہ آزاد کشمیر کے رائے دہندگان سمجھتے بھی ہیں اور ان کو سمجھایا بھی یہی جاتا ہے کہ 12 نشستیں یعنی ایک تہائی نشستیں پاکستان میں برسر اقتدار جماعت کی مٹھی میں ہیں لہذا حکومت اسی جماعت کی بنے گی۔عملا 85 کے الیکشن میں ایسا ہو بھی چکا ہے جب آزاد کشمیر سے بڑی تعداد میں ہارنے والی مسلم کانفرنس مہاجرین کی بارہ نشستوں کی بنیاد پر حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔2021 کا الیکشن مخلتف نہیں ہو گا۔پنجاب کے پی کے اور کراچی کی ساری نشستیں پی ٹی آئی حکومت کے بل بوتے پر جیت لے گی۔یہ بات ہر سیاسی کارکن سمجھتا ہے اور ووٹر بھی۔لہذا اس کا رحجان پہلے سے پی ٹی آئی کی طرف بن جائےگا۔اس پری پول دھاندلی کو ختم کرنا موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے لئے نا ممکن نہیں۔یہ نشستیں اولا تو ہونی ہی نہیں چاہییں لیکن اگر موجودہ اسمبلی ممبران ان کے خاتمے کی جرات نہیں کر سکتے تو ان پر انتخاب کا طریقہ کار بدل دیں۔ان کا انتخاب بالواسطہ کرتے ہوے آزاد کشمیر میں لئے گے ووٹوں کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کریں۔تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ مرکز کی سطع پر برسراقتدار جماعت کی حکومت بنائے گی۔
طریقہ انتخاب
آزاد کشمیر میں چار بڑے قبائل ہیں۔موجودہ سسٹم میں صرف ان کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔اور چھوٹے چھوٹے قبائل کے بہت باصلاحیت افراد نمائندگی اور سیاسی دھارے سے لا تعلق رہتے ہیں اسی طرح ووٹرز کی بڑی تعداد کے ووٹ ضائع ہو جاتے ہیں کئی جماعتیں لاکھوں ووٹ لینے کے باوجود نمائندگی سے محروم رہتی ہیں اسی طرح خود مختار کشمیر کے حامیوں کو بھی یہ شکوہ رہتا ہے کہ ہمیں ٹیکنیکل بنیادوں پر نمائندگی اور اسمبلیوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔یہ بات بیس کیمپ کی اسمبلی کے لئے مناسب نہیں بلکہ اس اسمبلی کو آزاد کشمیر کے تمام طبقات کا حقیقی نمائندہ فورم ہونا چاہیے۔
مندرجہ بالا کے علاوہ بلدیاتی الیکشن کروا کر بلدیاتی اختیارات اور وسائل بلدیاتی نمائندوں کے حوالے کر کے آزاد کشمیر کے آمدہ الیکشن میں پڑی پول دھاندلی کو روک کر حقیقی آزادانہ اور منصفانہ بنایا جاسکتا ہے۔یہ سب موجودہ اسمبلی حکومت اور اپوزیشن کے بس میں ہے۔اگر یہ آج یہ کردار ادا نہیں کرتے تو کل رونا دھونا بے معنی ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں