کرونا وائرس کے متاثرین کی نشاندہی بذریعہ ٹیکنالوجی۔۔۔نقطہ نظر: انیس قمر عباسی

ہم نے اپنے پچھلے آرٹیکل میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد کو بڑھانے کے لیے Pool Based Testing کے طریقہ کار کو آسان انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس مضمون میں اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ کیسے ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کے ساتھ کنٹیکٹ میں رہنے والوں کو پہچانا جا سکے گا۔اس ٹیکنالوجی کا استعمال سنگاپور نے کیا بھی ہے لیکن میں اس کو پاکستان میں استعمال کے حساب سے تجویز کرونگا۔

حکومت پاکستان کے ادارہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (PTA) کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق دسمبر 2019 میں پاکستان میں 165ملین لوگ موبائل استعمال کر رہے تھے جو کہ اب اس سے بھی بڑھ چکا ہو گا۔ یوں آبادی کا تقریبا 80 فیصد حصہ موبائل سروسز استعمال کر رہا۔
اسی ویب سائٹ کے مطابق 3G/4G استعمال کرنے والوں کی تعداد 76 ملین تھی اور 78 ملین لوگ براڈ برینڈ سروس استعمال کر رہے ہیں۔

یوں ہم کہہ سکتے کہ آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ سیلولر سروسز استعمال کر رہا اور حکومت اس بہت بڑی تعداد سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
فرسٹ ورلڈ ممالک میں کیونکہ ڈیٹا پروٹیکشن کے بہت سخت قوانین موجود ہیں اور حکومت کو بھی اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کسی انفرادی شخص کا کسی بھی طرح کا ڈیٹا کسی دوسرے کے ساتھ شئیر کر سکے یا اسے استعمال کر سکے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں کیونکہ ڈیٹا پروٹیکشن/پرائیوسی کے قوانین ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور اس سلسلے میں کوئی خاص قانوں موجود نہیں ہے اسی لیے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لوگوں کی پرسنل میڈیکل رپورٹس اور دیگر ڈیٹا بھی فیس بک جیسی پبلک اور اوپن ویب سائٹس پر دھڑا دھڑشیئر ہو رہا ہوتاہے اور اس کو روکنے کے لیے قانون موجود نہیں ہے۔

اصولی طور پر ایسے قوانین کا نہ ہونا یا ان کا صیحیح طریقے سے استعمال نہ ہونا کسی صورت بھی مہذب ضمرے میں نہیں آتا تاہم اس صورتحال میں ان قوانین کا نہ ہونا پاکستان جیسے ممالک کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا۔

پاکستان میں کرونا وائرس کےمریض شروع میں تو زیادہ تر باہرکے ممالک سے سفر کر کے آنے والے تھے لیکن حالیہ دنوں میں لوکل متاثرین کے جن کی کوئی ٹریول ہسٹری بھی نہیں ہے کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ۔ باہر کے ممالک سے آنے والوں کے متعلق تو حکومت کے لیے کچھ آسانی تھی کہ ان کو آتے ساتھ ہی متعلقہ قرنطینہ مراکز میں رکھا جاتا اور باقاعدہ ٹیسٹ اور ایک خاص مدت کے بعد ان کو گھر جانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن لوکل متاثرین کے لیے ایسا کرنا مشکل ہے اور سب سے مشکل یہ کہ ایک شخص اگر اس وائرس کا شکار ہو گیا ہے اور اس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے تو اس بات کا کیسے پتا چلایا جا سکے کہ یہ گذشتہ کچھ دنوں سے کتنے لوگوں سے مل چکا یا ان کے قریب رہ چکا کیونکہ ہم سب بخوبی جانتے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ ایک شخص سے دوسرے میں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھنے ، اکٹھے رہنے ، ایک جگہ پر اکٹھے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس وقت اس چیز کو ایسے ہینڈل کیا جاتا ہے کہ مثبت نتیجہ آنے والے شخص سے پوچھا جاتا کہ اس دوران آپ کا کنٹیکٹ کس کس سے رہا ہے تاکہ وہ لوگ نہ صرف ٹیسٹ بھی کروائیں بلکہ دیگر حفاظتی تدابیر بھی اپنائیں جو اس کو آگے پھیلانے کا باعث نہ بن سکے۔ اب وہ تمام لوگ جن کو وہ مریض جانتا تھا کہ مجھ سے ملے ہیں ان کے بارے میں تو وہ بتا سکتا ہے کہ اس سے رابطہ کریں یا پھر وہ تمام لوگ جن کو خود پتا ہوتا ہے کہ ہم اس دوران اس متاثرہ شخص سے ملے ہیں وہ خود ہی اپنا ٹیسٹ کروا لیتےہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرتےہیں ۔

اصل مسئلہ تب ہوتا ہے کہ جب مریض کو یہ پتا ہی نہ ہو کہ وہ کس کس کے قریب رہا ہے وہ ایسے کہ ہمارے شہر اتنے گنجان آباد ہوتے ہیں اور مارکیٹوں میں اتنا رش ہوتا ہے کہ ایک وقت میں ہزاروں لوگ ایک جگہ ہوتے ہیں اور کسی کو اس بات کا پتا نہیں ہوتا کہ دوسرا کون ہے اور نہ جانتے ہوئے متاثرہ شخص کا کنٹیکٹ سینکڑوں لوگوں سے ہو جاتا ہے اور ان لوگوں کو بھی یہ نہیں پتا ہوتا کہ ہمارا کنٹیکٹ کس کس سے ہو چکا ہے۔

کرونا وائرس کی علامات فوراً سے ظاہر بھی نہیں ہوتیں لہذا مشکل یہ ہیکہ جب تک کسی شخص کو علامات ظاہر نہ ہوں وہ تب تک سینکڑوں لوگوں سے مل چکا ہوتا ہے اور وہ وائرس ہو سکتا ہے آگے پھیل گیا ہو اسی لیے حکومت کی طرف سے گھر رہنے کو کہا جاتا ہے تاکہ ہمارا کسی ایسے متاثرہ شخص سے کوئی رابطہ ہی نہ ہو سکے جس کا ہمیں پتا بھی نہ چلے اور ہم گھر لا کر نہ صرف اپنے گھر والوں کو بلکہ باقی ملنے والوں تک پھیلا دیں۔

بات ہو رہی تھی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تو سنگا پور میں ایک ایسی ایپ بنائی گئی جس کو موبائل میں انسٹال کیا جاتا ہے اور وہ آپ کو یہ بتا دیتی ہے کہ گذشتہ دنوں میں آپ کس کس دوسرے شخص سے 2 میٹر سے کم فاصلے پر رہے۔ اس طرح حکومت نے یہ کیا کہ جس شخص کا بھی کرونا وائرس کا رزلٹ مثبت آتا اس کے موبائل ڈیٹا سے اس بات کا پتا چلایا جاتا ہے کہ وہ کون سے دوسرے موبائل تھے جو اس سے 2 میٹر سے کم فاصلے پر رہے ہیں ، ان ڈیوائسز کا پتا لگا کر متعلقہ شخص سے رابطہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آکر اپنا ٹیسٹ کروائے اور اپنے آپ کو احتیاط میں رکھے۔

جیسا کہ پچھلے پیرا گراف میں بیان کیا ہے کہ سنگا پور جیسے ممالک میں ڈیٹا پروٹیکشن و پرائیوسی کے قوانین سخت ہیں اس لیے انہوں نے اس کام کے لیے Bluetooth ٹیکنالوجی استعمال کی اور جو لوگ یہ ایپ انسٹال کرتے ان کو اپنی موبائل کی Bluetooth بھی آن رکھنا پڑتی ہے اور وہ ایپ اپنے پاس اس بات کا ریکارڈ رکھ رہی ہوتی ہے کہ یہ کن دوسری ڈیوائسز کے قریب رہا ہے۔ یوں ایک شخص کی پوری ہسٹری بن جاتی اور پھر اس کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔

سنگا پور کو اس کام کے لیے قانون سازی بھی کرنا پڑی اور سنگا پور نے اس ایپ کو اوپن چھوڑا ہے تاکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا سکیں یوں اب مغربی ممالک میں بھی اس کو استعمال کرنے کے حوالے سے قانون سازی ہو رہی ہے۔

پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانا چاہئے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن میری اس سلسلہ میں ایک اور تجویز بھی ہے جو بہت زیادہ Accuracy تو نہیں دے گی لیکن اس کا استعمال بہت آسان ہے۔

پاکستان میں کیونکہ ڈیٹا پرائیوسی کے زیادہ قوانین موجود نہیں ہیں اس لیے موبائل کی مدد سے کسی بھی شخص کی لوکیشن کو حاصل کرنا اور اس کو استعمال کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حکومت موبائل آپریٹرز اور جی پی ایس کی مدد سے متاثرہ شخص کی لوکیشن کی ہسٹری لے اور پھر اس ہسٹری کو استعمال کرتے ہوئے اسی جگہ اور اسی وقت پر موجود دیگر لوگوں کے ڈیٹا کو بھی چیک کیا جائے اور ان کی نشاندہی کی جائے۔

اس کا فائدہ یہ ہیکہ کسی بھی شخص کو کوئی نئی ایپ انسٹال کرنے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہر وقت Bluetoothیا Nearby services کو آن کرنے کی ضرورت ہے۔ تکنیکی طور پر اگرچہ لوکیشن 100 فیصد درست نہیں ہوتی کہ 2 میٹر سے کم کے فاصلے کو اس میں ماپا جا سکے لیکن کم از کم ایک خاص رداس میں موجود لوگوں کی نشاندہی ہو سکے گی اور ظاہر ہے ان میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو متاثرہ شخص سے 2 میٹر سے کم کے فاصلے پر ہوں گے ۔

یوں ان اشخاص سے اس وائرس کو آگے پھیلنے کو لیکر کسی حد تک روک تھام ہو سکے گی۔یہ سارے طریقہ کار اگرچہ موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا حل زیادہ اس بات سے ہے کہ ہم گھروں سے کم سے کم نکلیں تاکہ کسی ایسے شخص سے ہمارا رابطہ ہو ہی نہ سکے جسے خود نہ پتا ہو کہ وہ اس سے متاثر ہے اور آگے پھیلا رہا ہے۔

یہ مضمون کیونکہ ایک عام بندے کے سمجھ میں آنے کے لیے لکھا گیا ہے لیکن اس سلسلہ میں ٹیکنکل لوگوں کے تبصروں کا انتظار رہے گا۔
گھر رہیے اور محفوظ رہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں