تھوراڑ ہل بازار حسین بازار خوشحال بازار یہ بازار کیسے بنے

آج ان بزرگوں کا ذکر جنہوں نے تھوراڑبازار کو بنایا اور بنوایا محروم سردار شالم خان محروم سردار جلال خان نے اپنی زمین پر چند کچی دو کانیں بنا کر بازار کا آغاز کیا جس کا نام ہل بازار رکھا گیا اسی طرح محروم سردار جمال خان نے بھی اپنی زمین میں چند دوکا نیں بنا کر بازار کی بنیاد رکھی جو کہ حسین بازار کے نام سے مشہور ہوا اسی طرح ایک اور بازار جو بوائز ڈگری کالج کی طرف ہے محروم سردار خوشحال خان نے چند دوکانیں بنا کر آغاز کیا اور خوشحال بازار کے نام سے مشہور ہوا ۔ سنا ہے خوشحال بازار ہل اور حسین بازار کے بعد بنا یہ سب کچی دوکانیں تھیں میں اور میرے ہم عمر اور ہم سے بڑے جو ابھی حیات ہیں موجودہ بازار میں جتنی بھی بلڈنگ اور دوکانیں پکی بنی ہیں ہم سب نے بنتے دیکھی ہیں اور یہ بھی پتہ ہے کہ کون سی جگہ پر کیا چیز تھی اور اب وہاں پر کیا بنا ہوا ہے یوں تو ان تینوں بزرگوں نے سردار شالم خان سردار جلال خان سردار جمال خان نے نہ تو رنگ و نسل دیکھی اور نہ ہی برادری نہ ہی کوئی بغض رکھا کسی کے ساتھ ۔ ۔ جس کسی نے بھی کہا کہ میں یہاں دکان بنانا چاہتا ہوں مجھے جگہ چاہیے اس بندے کو جگہ ملی اور اس میں زیادہ کردار سردار شالم خان کا ہے انہوں نے خود بھی بازار میں دوکانیں اور بلڈنگ بنائیں اور دوسرے جس کسی نے بھی کہا کہ میں بھی یہاں د کان بنانا چاہتا ہوں تو سردار شالم خان نے ان کو جگہ دی آپ لوگ یہ نہ سوچنا کہ جگہ فری دیتے تھے بلکہ اس وقت کے لحاظ سے جو جگہ کی قیمت بنتی تھی وہ وصول کرتے تھے سردار شالم خان نے مسجد کے لیے بھی جگہ دی جو میں پچھلی کسی پوسٹ پر لکھ چکا ہوں سردار شالم خان کی دریا دلی بھی دیکھیں مسجد کے نیچے 13 دوکانوں کی جگہ بھی مسجد کے لیے وقف کر دی مگر دل میں یہ لالچ نہیں آئی کہ دکانوں کی جگہ میں اپنے پاس رکھ لو ں ان 13 دوکانوں کی تعمیر بھی مسجد انتظامیہ والوں نے کروائی اور کرایہ بھی مسجد اور مدرسے میں جاتا ہے یہ سب جگہ مسجد کی پراپرٹی ہے یہاں مسجد انتظامیہ کے علاوہ باقی کسی کی بھی کوئی عمل دخل نہیں ہے یہ میں صرف اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ان بزرگوں کا کتنا بڑا کردار تھا سردار شالم خان نے اپنی اولاد کے لئے بھی بہت کچھ کیا اور اپنے لیے بھی صدقہ جاریہ چھوڑ کر گئے جو قیامت تک ان کو اجر و ثواب ملتا رہے گا اور اسی طرح سے سردار جمال خان نے بھی مسجد کے مراب کے ساتھ پانی کی نکاسی کے لئے جو نالی اور راستہ مسجد کے باہر جو باتھ روم بنے ہوئے ہیں یہ جگہ انہوں نے ہی دی ہے اور ان کو بھی اجر و ثواب ملتا ہوگا ایک اور کردار ہے جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا محروم سردار قاسم خان ولد سردار شالم خان کے بیٹے تھے انتہائی ذہین اور ٹیکنیکل محنتی آدمی تھے بازار بنانے کی شروعات ہی ان دونوں باپ بیٹا نے ہی شروع کی تھوراڑ بازار بغیر کسی نقشے کے بنا ہوا ہے ہل بازار کی ڈیزائننگ بھی سردار قاسم خان نے کی اور جس کسی کو بھی جگہ دیتے اپنی موجودگی میں جگہ کی کٹائی اور تعمیر تک فری آف کاسٹ اپنی خدمات دیتے آخر ایک دن اچانک ایسی افسوسناک خبر آئی سردار قاسم خان کی جیپ کا کس بازار کے نزدیک ایکسیڈنٹ ہوگیا اور موقع پر ہی ان کی ڈیتھ ہوگی ان ہی بزرگوں کی کاوشوں کی وجہ سے آج تھوراڑ بازار اتنا بڑا مرکز بن چکا ہے پہلے ہم ضرورت کی جن چیزوں کے لئے راولپنڈی یا راولاکوٹ جاتے تھے اب وہ سب چیزیں ہمیں تھوراڑ بازار میں تقریبا 99 پرسنٹ دستیاب ہیں بازار میں ان لوگوں کا بھی کردار ہے جنہوں نے بیرون ممالک میں محنت مزدوری کرکے اپنی بساط کے مطابق تھوراڑ بازار میں دکانیں بلڈنگ اور مارکیٹیں بنوائی ہیں مگر میں یہاں دو افراد کا خاص کر ذکر کروں گا سردار طالب خان بانو پیلس والے اور سردار خالد مشتاق خان المشتاق پلازہ والےان دونوں حضرات نے تھوراڑ میں دو پلازے بنا کر تھوراڑ کی رونق میں مزید اضافہ کیا یہ الگ بات ہے جو انہوں نے سرمایا لگایا اس کے مطابق ان کو ریٹن واپس مل رہا ہے یا نہیں مگر ان دونوں حضرات نے اپنے شہر اور اپنے گاؤں کو ترجیح دی بہت سارے لوگوں کو ان دو پلازوں میں کاروبار کرنے کے لیے جگہ بھی میسر ہوئی تھوراڑ اور تھوراڑ کی گرد نواح کی عوام کے لیے بہترین اور صاف ستھری جگہ ماہیا کی جہاں شادی وغیرہ کی تقریبات اور سیاسی میٹنگ یا علاقائی میٹنگ بھی انہی دونوں پلازہ میں آجکل ہوتی ہیں میں تو ان دونوں حضرات کو زبردست خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتا ہوں انہوں نے اتنا بڑا سرمایا اپنے علاقے میں لگاکر آپنےلوگوں کو فائدہ پہنچایا ۔
تحریر سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص
2021۔1۔4

اپنا تبصرہ بھیجیں