تہلکہ۔۔۔۔تیسری دنیا کی غریب جنتا کی للکار۔۔۔۔۔ تحریر: نسیم شاہد

تہلکہ۔۔۔۔تیسری دنیا کی غریب جنتا کی للکار۔۔۔۔۔ تحریر نسیم شاہد

ایک طرف بھارتی پنجاب کے کِسان ، مرد و زن پیر و جوان ، گذشتہ دو ماہ سے مودی سرکار کی کسان کُش قانون سازی کے خلاف دارلحکومت دہلی میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں تو دوسری طرف یہاں کی جنتا مہاراج فاروق سرکار کے آٹے کی قیمتوں میں بے بہا و بے جا اضافے کے خلاف سڑکوں اور چوک چوراہوں میں سراپائے احتجاج ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وباء کی ماری جنتا کو کوئی ریلیف دیا جاتا۔ بجائے اسکے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا بم گرانا مرے کو مارنے کے مترادف ہے ۔ اسں پے بھی مستزاد یہ کہ مہاراج سرکار ایک ہی وقت میں آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرتی ہے اور ساتھ ہی 22 ویں گریڈ کے پاکستانی وائسرائے ٹائپ لینٹ آفیسران کیلیے ً سُپیریر ایگزیکٹو الاؤنس ً کے ساتھ ساتھ مقامی بیوروکریسی کیلیے بھی مختلف الاونسز اور مراعات کی نوازشات کرتی ہے تو ایسے میں کورونا اور مہنگائی کی ماری جنتا کے پاس صدائے احتجاج بلند کرنے کے سوا دوسرا کونسا راستہ باقی رہ جاتا ہے ؟
مہنگائی اور بلخصوص آٹے جیسی پیٹ کی آگ و بنیادی ضرورتِ زندگی کی مہنگائی جنتا کے ٹیکسز و ریاستی وسائل پے شاہانہ گزر بسر کرنے والی روایت، رجعت و قدامت پسند حکمران اشرافیہ اور اُسی کے ہمنوا عام اُمراء ( امیروں) کا مسلہ نہیں ۔ اس لیے موجودہ وقت بپھری جنتا کے سامنے حکمران اشرافیہ کی کھلبلی اور اُمراء کی خاموشی اور احتجاج سے دوری و کنارہ کشی کم از کم یہ حقیقت تو عُریاں بلکہ ننگا کر گئی کہ اصل جنگ صرف و صرف مفادات اور طبقات کی ہے ۔ ایک طبقہ حکمران اشرافیہ اور اُمراء کا اور دوسرا طبقہ ترقی یا انقلاب پسند بے وسیلہ و بے روزگار قوتوں اور عام جنتا کا ہے ۔
ایک وقت میں جب ریاستی کنٹرول والا الیکٹرونک میڈیا اور اُمراء کے کنٹرول و کاروبار والا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا امیر کبیر طبقے کے کنٹرول اور اسی کے مفادات کی ترجمانی اور ًسب اچھا ہے ً کی بولی بولتا تھا تو ترقی پسند قوتیں بمشکل اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہوتی تھی ۔ لیکن جب سے سوشل میڈیا ہر ایک کے ہاتھ آیا ہے تو اُس نے کم از کم میڈیا ( روز مرہ حالات و واقعات اور حقائق تک رسائی اور معلومات ) پے چلنے والی محض حکمران اشرافیہ و اُمراء کی یک طرفہ ٹریفک اور اجارہ داری کو ہِلا کے رکھ دیا ہے ۔ اب ترقی پسند قوتیں ، جو کہ بنیادی طور پے پڑھا لکھا طبقہ شمار ہوتی ہیں ، اس مہارت اور چابکدستی سے سوشل میڈیا کو عام جنتا کو موبلائز کرنے ، وسائل و مسائل کی اگہی کیلیے استعمال کر رہی ہیں کہ پہلی بار حکمران اشرافیہ ریاستی وسائل اور روایتی ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود بیک فٹ یا دفاعی پوزیشن پے نظر آ رہی ہے ۔ اگرچے حکمران طبقہ اس عوامی حِس و حرکت ، تنگ آمد بجنگ آمد ، مارو یا مر جاؤ جیسی صورتِ حال کو سیاسی کھیل اور غیروں کی آلہ کاری قرار دے رہا ہے ۔ لیکن دراصل یہ سب حقائق سے چشم پوشی ، عوامی غیض و غضب پے پردہ داری اور آہیں باہیں شاہیں ہے ۔ یکمشت پانچ ساڑھے پانچ سو روپے فی من آٹے کی قیمت میں اضافے کا احساس و ادراک وہی کر سکتا ہے جو بیچارہ بے روزگار ہے ، دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔ اُس بیچارے کیلیے تو پانچ سو پانچ ہزار کے برابر ہیں ۔ غریب جنتا کے خون پسینے سے نچوڑے ، ہڈیوں سے نوچے گئے ٹیکسز اور ریاستی وسائل پے گُل شرے اُڑانے والی حکمران اشرافیہ اور اس کے ہالی موالی اُمراء اس کا احساس ہرگز نہیں کر سکتے ۔ اس لیے کوئی اسے اپنے اپنے معنی پہنا رہا ہے اور کوئی خاموش رہ کے زندگی میں ہی اپنا ماتم کر رہا ہے ۔
تف ہے ایسی بے رحم و بے حِس حکمران اشرافیہ اور اُسکے ہمنوا و رکھیل اُمراء یعنی دو وقت کی روٹی روزی کی فکر سے آزاد زندہ لاشوں پر جو جنتا کے آٹے کی مہنگائی کیلیے احتجاج میں اُس کے ساتھ کھڑا ہونا اپنی توہین سمجھتی ہے ۔ کاش یہ جنتا ووٹ دیتے ہوئے اِس وقت کو نہ بھولے اور ووٹ مانگنے والے اُمراء اور سفید پوشوں کے منہ اسی ووٹ کے ً ترپُڑ ً سے منگلار کر کے چھوڑے ۔مگر ایسا فی الحال دیکھائی نہیں دیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں