ایس پی اکبر کیانی صاحب مرحوم

ایس پی اکبر کیانی صاحب کا تعلق ضلع پونچھ کے ایک گاوں پاک گلی کلر سے ہے۔1947 کی جنگ آذادی سے پہلے آپ نے سرینگر میں ایس پی کالج سے بی اے کیا اور اسی کالج میں ملازمت اختیار کی۔1947 کی جہاد آذادی کے دوران آپ نے سرینگر سے ملازمت ترک کی اور وطن آذاد کشمیر چلے آئے۔آپ نے جنگ آذادی سے قبل سرینگر میں شادی کی تھی مگر ہجرت کے وقت حالات کے تقاضوں کے تحت بچوں اور اہلیہ کو وہاں ہی چھوڑنا پڑا۔1947 کی ج۔گ آذادی کے بعد چونکہ موصوف کی آمد و رفت کا سلسلہ منقتع ہوگیا تھا اس لئے بیٹوں اور اہلیہ کو خیر باد کہہ کر پاکستان کے ایک شریف گھرانے سے شادی کر لی۔یہاں بھی ان کے دو بیٹے ہیں۔راجہ محمد اکبر کیانی مرحوم کا سرینگر سے ملازمت ترک کرنا اور وطن عزیز کا رخ کرنا ایک عجیب داستان ہے۔وہ اور ان کے ساتھی نزیر الاسلام ڈائریکٹر ایجوکیشن اور خواجہ علی محمد سیشن جج سرینگر میں پاکستان کی طرف سے سماجی کارکن تھے۔پاکستان اشہتارات وہاں عوام میں تقسیم کرتے ہوِئے پکڑے گئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاری کے بعد جب سزائے موت کا حکم سنایا گیا تو آپ نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے آذاد کشمیر کا رخ کیا۔چھبیس روز تک بے سروسامانی کی حالت میں چھپتے چھپاتے سفر کے کٹھن مراحل طے کرنے کے بعد براستہ پرکنٹھی بارڈر لائن عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔سرحد عبور کرتے ہی آپ باغ کے مقام پر پہنچے۔یہ جنگ آذادی کا دور تھا اور آپ ۔ے مجاہدانہ سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔پھر 1950 آذاد کشمیر کے تینوں اضلاع کے سنئیر سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئے۔محکمہ پولیس میں سروس مکمل کرنے کے بعد آپ بحثیت سربراہ تحفظ جنگلات پولیس پارٹی مقرر ہوِئے۔لیکن بہت جلد ہی آپ فیڈرل سیکورٹی پولیس پاکستان کح ڈائریکٹر مقرر ہوگئے۔بعدازاں کچھ عرصہ ڈائریکٹر سپورٹس بھی رہے۔موصوف اعلی درجے کے پامسٹ بھی تھے۔انہیں علم پامسٹری پر حددرجہ عبور حاصل تھا جس کے لئے پاکستان کی کئی اہم شخصیات نے آپ سے رجوع کیا۔راجہ محمد اکبر کیانی بے حد ذہین،حاضردماغ،معاملہ فہم،بہترین مفکر،اعلی منتظم اور مہمان نواز انسان تھے۔وہ اپنے بلند اخلاق اور خلاداد صلاحیتوں کے مالک ہونے کے باعث ایک امتیازی شان کے مالک تھے۔اور اچانک اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔اللہ پاک جنت میں اعلی مقام عطا کریں امین

اپنا تبصرہ بھیجیں