یہ کمپنی چلے نہ چلے سہیل وڑائچ کی کتاب اب بکے گی۔

فیض احمد فیض
جی ایم سید
حبیب جالب
سید منور حسن

پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت، ایوب، بھٹو، ضیاء اور مشرف کے مارشل لاء کے خلاف جتنا کھل کر یہ لوگ بولے یا جتنا انہوں نے لکھا۔ اتنا آج کے یہ صحافی یا سیاستدان کیا لکھیں یا بولیں گے۔ ان کے پاس نہ اتنا لکھنے کو کچھ ہے نہ بولنے کو۔

اس لئے سر ورق تضحیک آمیز جاری کرکے یا ٹوئٹر پر گالیاں دے کر خود کو حبیب جالب سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں۔

جس طرح فیض احمد فیض، جالب اور جی ایم سید نے جیلیں کاٹیں۔ جس طرح پورے پاکستانی میڈیا کی تنقید منور صاحب نے برداشت کی۔

آج کے سیاستدان یا صحافی اس کا عشر عشیر بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

بس جسے شہرت چائیے ہو فوج کو گالیاں دے۔ جو حقیقی معنوں میں اصلاح چاہتا ہو وہ گالیاں دینے کے بجائے دلائل دیتا ہے اور جہاں جسے عزت دینی ہو وہاں عزت بھی دیتا ہے۔

اور رہی بات میڈیا کی آزادی کی تو جو کچھ لکھنے کی آزادی امریکہ یا برطانیہ میں بھی نہیں وہ پاکستان میں کیسے ہو جائے؟

اور باقی آزادی کے اعتبار سے اپنے پڑوسی ملکوں انڈیا، بنگلہ دیش، چین کے میڈیا سے کمپئیر کرکے دیکھ لو۔ پاکستان کا میڈیا ان سے کئی گنا زیادہ آزاد ہے۔

کشمیر ایشو پر انڈین میڈیا اور پاکستانی میڈیا کو دیکھ لو۔ انڈیا میڈیا حب الوطنی میں سرعام جھوٹ کا بھی دفاع کر رہا ہے اور پاکستانی میڈیا پیسے کی خاطر سچ بھی چھپا رہا ہے۔

چوروں کا دفاع کرنے والا میڈیا پاکستانی میڈیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں