منشیات کے خلاف جہاد کل نہیں آج ۔ تحریر۔ روبینہ ناز ۔

آہیں سب مل کے منشیات کے خلاف جہاد کریں کل نہیں بلکہ آج سے جس طرح بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل منشیات اور دیگر نشے کا عادی بن رہی ہے اس سے پہلے کہ پوری نسل نو اس لعنت پہ لگ جاے آہیی ہم سب مل کر منشیات کے خلاف اور اسکے کاوبار کرنے والے بڑے ڈونوں کے خلاف کمر بستہ ہوجاہیی یہ ایک جان لیوا نشہ ہے جو آج کی نسل نو کو تباہی وبربادی کے دھانے پہ لے جارہی ہے مگر افسوس کہ آج تک ملک میی ان منشیات فروشوں کے خلاف کوہی قانون نہیں بنایا گیا اگر قانون ہے بھی تو اٍن غریبوں کے لیے جو چند پیسوں کے عوض یہ کاروبار کرتے ہیی یا جو افراد نشہ کرتے ہیی پولیس ان کو گرفتار کرتی ہے مگر جو اصل مجرم ہیی جو بڑے بڑے ڈون ہیی قانون کی گرفت سے آزاد ہیی اگر سچ کہوں تو قانون کے محافظ خود اس مکروہ دھندے میی شامل ہیی کہیں پولیس افسر اور اعلی شخصیات اس مکروہ دھندے کا کاروبار کررہی ہیی مگر وہ سب پھچے ہیی آگے ایک نشہ فروخت کرنے والے اور نشہ کرنے والے سرفہرست نظر آتے ہیی اورپھر پولیس خانہ پوری کے لیے نشہ آوروں کی گرفتاریاں کرکے اپنے آپکو پارسا سمجھتے ہیی مگر کوہی نہیں جانتا کہ قانون کے دوہرے معیار کی وجہ سے آج معاشرہ ان براہیوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور سب سے زیادہ نوجوان نسل اس نشے کا شکار ہے یہ نشہ چاے سگریٹ نسوار سے شروع ہو یا شراب ہیروہن آہس بھنگ وغیرہ سے آج یہ نشہ تعیلمی اداروں میں پہنچ گیا تھانوں کساتھ تعیلمی اداروں میی جب منشیات کا کاروبار ہورہا ہو اور طلبہ اس نشے کا شکار ہورہے ہوں اور کوہی قانون اس کی نظر سے اوجھل ہو تو یہ بات سو فصد سچ ہوگی کہ وہاں قانون نافذ کرنے والوں کا بھر پور ساتھ ہے انکی ملی بھگت سے منشیات تعیلمی اداروں میی سپلاہی کی جاتی ہے۔۔۔

قانون صرف کمزور طبقے اور ٹھیلے والوں پہ اپنی بھرتی دیکھاتا ہے کوہی کمزور ہوگا اس سے تھوڑی سی غلطی ہوگی تو کسی بااثر شخصیت کے کہنے پہ شاہد چوری ڈکتی قتل کا الزام لگا کہ اس غریب کی زندگی کا چراغ گل کیا جاتا ہے کوہی دیہاڑی دار مزدور ٹھیلہ لگا کہ اپنے بچونکی روزی روٹی کما رہا ہے تو پولیس مفت خوری کے چکر میی سب ہڑپ کرتی ہے اور جب کوہی بچارہ کھانے کے پیسے مانگے گا یہ پولیس اس پہ طرح طرح کے الزامات لگا کے حوالات میی بند کرتی ہے اصل درستگی اور بناو محکمہ پولیس کی ہونی چاہیے جہاں وردی کو بزور طاقت سمجھ کہ غریبوں مسکنوں پہ یہ پولیس ظلم وستم کرتی ہے مگر ان منشیات فروشیوں کی پشت پناہی کساتھ اپنا حصہ بھی لیتی ہے تب یہ منشیات فروش کھلے عام اور آزادی سے یہ مکروہ دھندہ کرتے ہیی
پولیس اگر بندوق کی نوک پر پولیو کے قطرے پلا سکتی ہے تو بندوق کے زور پہ ان منشیات فروشیوں کیوں کارواہی نہیں کرسکتی۔۔
اس وقت سب سے زیادہ نوجوان آہس جیسے نشے کا شکار ہے ان آہس کے موت کے سوداگروں کے قلع قمع کے لیے سرگرم عمل اور معاشرے کو منشیات کی وبا سے نجات دلانا قانون اور معاشرے کے ہر اس فرد کا فرض ہے جونوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پہ لے جارہے ہیی اس کے لیے سب سے پہلے ضلعی پولیس کا کردار ہے کہ وہ کیسے اپنے شہر اپنے ضلع کو اس لعنت سے چھٹکارہ حاصل کرواے جب تک ہر ضلعی پولیس اپنا فرض سمجھ کہ منشیات جیسے دھندے پہ قابو نہیں پاتی تب تک یہ بڑھتے بڑھتے دیہی علاقوں میی یہ نشہ سپلاہی ہوتا رہے گا اور یوں معاشرے میی یہ براہی اس قدر بڑھ جاے گی کہ بعد میی قانون بھی کنٹرول نہیں کرپاے گا۔۔
تعیلمی اداروں میں منشیات کا استعمال لمحہ فکریہ ہے تعیلم شعور دیتی ہے تعیلم آگاہی دیتی ہے طلبہ کو نشہ زییب نہیں دیتا بلکہ طلبہ خود منشیات کے خلاف جہاد کریی اور جہاں جہاں منشیات بالخصوص آہس کے سوداگروں سمگلروں اور اس کے فروخت کرنے والوں کے خلاف کارواہی کی جاے جب تک بڑے سمگلر گرفتار نہیں ہوتے تب تک چھوٹے فروخت کرنے والوں کو کوہی نہیں پوچھتا جو گرفتار ہوبھی جاے تو بڑے گرو ان کو آزاد کروادیتے ہیی
اگر دیکھا جاے تو اس وقت پاکستان میی سب سے زیادہ منشیات کا کاروبار ہے اور اب بھنگ کو بھی عزت مل گی ہے کیونکہ بھنگ کو عزت دینے والے کوہی عام نہیں وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عزت مآب جناب عمران خان ہیی اب تو ہر نوجوان کو ایک بہانہ مل جاے گا اگر بھنگ کی کاشت کی گی تو یاد رکھیے یہ ایک تباہی کے دہانے پہ لے جاے گی کیا ایک اسلامی ریاست مدینہ کے دعویداروں کو یہ نہیں معلوم کہ اسلام میی جس طرح شراب حرام ہے تو باقی کتنے نشے حلال ہوگے ہیی ریاست مدینہ میی کبھی کوہی نشہ آور چیز کی اجازت نہیں پھر ملک پاکستان میں ماشاءاللہ سگریٹ سپشل نسوار گھٹکا پان شراب افیون ہروہن آہس بھنگ اورنہ جانے کتنے نشے آزادی سے ہورہے ہیی اور پاکستان ریاست مدینہ بنے جارہاہے جناب وزیراعظم پاکستان تاریخ اسلام پڑھیے کہ ریاست مدینہ میی نشے کے کاروبار ہوتے ہیی آج بھی سعودی عرب میی منشیات سمگلر اورفروخت کرنے پہ سزاے موت ہے آج بھی کہیں پاکستانیوں کو منشیات فروشی کے جرم میی تختہ دار پہ چڑھایا گیا ۔مگر افسوس سب ملک بدل گے سب اپنے اپنے قانون کے پابند ہیی مگر ایک پاکستان ہے جہاں ایسے ایسے مزاحیہ قانون بناے جاتے ہیی کہ انسانیت شرما جاتی ہے ۔
ریاست مدینہ کے دعویدار بنا تو اسان ہے مگر اس پہ عمل کرنا عملی کام کرنا بہت مشکل ہے اگر ریاست مدینہ بنانا ہے توجناب عمران خان اسلامی شریعی سزا نافذ کریں تانکہ پتہ چلے کہ پاکستان بھی ریاست مدینہ بن گیا ہے سب سے پہلے منشیات فروشی کے دھندوں میی ملوس افراد کو أور زیادتی کرنے والے افراد کو سرے عام پھانسی دینے کی سزا کا قانون بناہیی اور اس پہ عمل کرتے ہوے ہر جمعہ کو منشیات فروش سمگلروں اور بچوں خواتین کساتھ ریپ کرنے والوں کو سرے عام پھانسی دینے کا قانون بناتے ہوے عمل کیا جاے تب قوم کو یقین آے گا کہ نیا پاکستان یے نئی تبدیلی ہے تب جناب عمران خان قوم آپ پہ اعتماد کرے گی جب معاشرے سے ہر براہی کا خاتمہ ہوگا آپے روز کچھ نہ کچھ نٸے پاکستان میی گل کھل رہے ہوتے ہیی
آج سب سے بڑا مسلہ منشیات کا پھیلاو ہے یہ شدت سے بڑھ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں