تعیلم پہ سیاسی کھیل بند کیا جاے۔۔۔تحریر ۔طیب دورانی

جناب وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر اور وزیر تعیلم افتخار گیلانی سے گزارش کی جاتی ہے کہ آپ کی حکومتی مدت پوری ہونے کے قریب ہے چار سال پہلے جب آپ اقتدار میں آے تو اس وقت عوام کو بہت سہانے خواب دیکھاے گے تھے بہت مھٹے بول بولے گے تھے ۔۔۔مگر آج تک کوہی وعدہ وفا نہ نھبا سکیں چلیں آپ جاتے جاتے کشمیری عوام کو کچھ ایسا ریلیف دے جاہیی کچھ ایسا کام کرجاہیں تانکہ آپکے چلے جانے کے بعد یہ قوم آپکے دور حکومت کو اچھے تعریفی کام سے ہمشیہ یاد رکھے چونکہ آج کل آزادکشمیر میی سیاسی پارہ ویسے بھی ہاہی ہے اور ہر ایک کی یہی کوشش ہے کہ وہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کرے ۔۔۔آج پھر وہی حسب روایت اور پرانے جملے داہرانے کا رواج ہے یہ سلسلہ الیکشن کی آخری مہم تک چلتا رہے گا۔۔
مگر وزیر اعظم آپ سے بالخوص وزیر تعیلم آپ سے مخاطب ہوں کہ آپ بطور وزیر تعیلم تعلیم میں کیا کیا تبدیلیاں لاہی ہیی آپ بھی حسب روایت روایتی وزیر تعیلم رہے ہیی ایسا لگتا ہے کہ وزارت کا قلمدان آپکے پاس ایسا ہے جسکی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے آپ نے اپنی دور حکومت میں کچھ کام نہیں کیا مگر جاتے جاتے خدا راہ تعیلمی معیار کو بہتر کرتے جاہیے جو جو تعیلمی مساہل ہیی انہیں حل کرتے جاہیے تانکہ یہ عوام آپکو اچھے لفظوں میں یاد کرسکے کہ کسی وزیر تعیلم نے یہ اچھا کام کیا ہے تانکہ آنے والی نسلیں بھی آپکو دعاہیی دیں

سب سے بڑا مسلہ تعیلم کا ہے تعیلم تو ہے مگر معیار تعیلم نہیں کیونکہ محض ڈگری لینا ہی مقصد نہیں ہوتا کہ کسی سٹوڈنٹ نے ماسٹر ڈگری لے لی تو حکومت نے بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا کہ ہم تعیلم کا معیار بہتر کررہے ہیی جناب والا سٹوڈٹنوں نے اپنے بل بوتے پہ اپنی محنت سے ماسٹر ڈگریاں لی ہیی مگر پھر بھی حصول روزگار کے لیے دھکے کھارہے ہیی۔۔

آج کل خبریں گردش کررہی ہیی کہ راوالاکوٹ اور مظفر آباد میں میریور بورڈ کی برانچوں کا آغاز ہوگا سب سے پہلے یہ نیک شگون ہے کہ اسکی ابتدا ہورہی ہے اس کا خیر مقدم کرتا ہوں مگر محض یہ خبر ہی نہ ہوبلکہ عملی کام بھی ہو اگر میرپور بورڈ راولا کوٹ اور مظفر آباد کی عوام اور طلبہ و طالبات کے لیے یہ سہولت دے تو سب سے اچھا اور تاریخی کام ہوگا لہذا وزیراعظم اور وزیر تعیلم اس پہ خصوصی توجہ دیی اور ان دو جہگوں پہ میر پور بورڈ کی برانچیں ہونی چاہیے تانکہ طلبہ دور جانے سے خواری اٹھانے سے بچ سکیں کیونکہ سب سسٹم میرپور میی ہے چاہے طلبہ ہوں استاتذہ ہوں ہیڈ کواٹر وہی ہے اگر دیکھا جاے تو یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھے کیونکہ ایک طالب علم یا ایک ٹیچر اہل او سی تیری نوٹ سے میرپور جاتے ہیی تو کتنی مشکلات ہوتی ہیی اسی طرح مظفر آباد کے گرد و نواع کے علاقے کیل اور تاو بٹ چناری لیپہ ویلی وغیرہ سے جب میرپور تک سٹوڈنٹ جاتے ہیی تو بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح حویلی فاروڈ کہوٹہ کے سٹوڈنٹوں کو مشکل در پیش آتی ہیی اگر میرپور بورڈ کی دو برانچیں راولاکوٹ اور مظفر آباد میی دی جاہیی تو عوام کو بہت سہولت میسر آے گی پوچھ برانچ سے حویلی فاروڈ کہوٹہ باغ سندھنوتی ہجیرہ کے لیے اسانی ہوگی جب کہ مظفر آباد برانچ سے کیل لیپہ ویلی تاو بٹ چناری ہثیاں بالا کے لوگوں کے لیے اسانی ہوگی
یہ عوام کا دہیرنہ مطالبہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور وزیر تعیلم افتخار گیلانی جلد ازجلد پورا کرواہیی تعیلم پہ کوہی بھی سیاست نہ چمکاے کیونکہ ایک تعیلم کا محکمہ ہے یہاں بھی ہر ایک سیاست چمکانے کی کوشش میی لگا ہے آج تعیلم کو بھی سیاستدانوں نے معاف نہیں کیا ہوا ہے اپوزشن ہو یا حکومت یا کوہی بھی سیاسی جماعت سب تعیلم پہ سیاست نہ کریی بلکہ ہر ایک اپنا کردار ادا کریی اور عوامی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوے پونچھ اور مظفر آباد میی میرپور بورڈ کی برانچیں فوری دیں تانکہ کچھ عوام کو سہولت میسر آے کیونکہ ایک غریب طالب علم کیل لیپہ ویلی یا حویلی سے جب میرپور بورڈ جاتا ہے تو بہت اخراجات ہوتے ہیی یوں سمجھیں ایک چکر میی گھر کا ایک ماہ کا خرچہ لگتا ہے تو کوہی غریب بچارہ سفری کرایوں میی پیسے خرچ کرے گا یا گھر کا نظام چلاے گا ۔۔الحمداللہ آزادکشمیر میی تعیلمی رشو پاکستان سے ہاہی ہے یہاں سب پڑھے لکھے مہذب لوگ رہتے ہیی مگر کچھ سیاستدانوں کی چپقلش سے معیار تعیلم پہ اثر پڑا ہوا ہے کیونکہ محکمہ تعیلم کے خود افسران بالا کسی نہ کسی جماعت کے امیدوار بن کہ تعیلم کو نقصان پہنچا رہے ہیں

میری ان سیاستدانوں امیدواروں اور سپورٹروں سے ہاتھ جوڑ کہ درخواست ہے کہ تعیلم کو سیاست نہ بناہیی بلکہ تعیلمی معیار بہتر بنانے میی ہر ایک اپنا کردار ادا کرے اور ریاست میی اچھے معیار تعیلم کو فروغ دیں لوگوں کو تعیلم کا بنیادی حق انکے گھر کی دہلیز پہ پہنچایا جاے
میرپوربورڈ وہی رہے گا اسکی صرف ایکسٹنشن دی جاری ہے اسکو تقسیم نہیں کیا جاریا ہے اس وقت اپوزشن لیڈر اور دیگر جو لوگ ان دوجگہوں کی برانچ نہ دینے کی مخالفت کرتے ہیی ان سے گزارش ہے کہ یہ متعصبی نہ کریی اس وقت تین لاکھ سے زاہد طلبہ راولاکوٹ اور چار لاکھ مظفر سے ہیی میرپور ڈویژن میی بھی جو آرہے ہیی تو بورڈ میرپور ہی رہنا چاہیے صرف اسکی ایکسٹنشین دی جارہی ہے اسکو تقیسم نہیں کیا جارہا ہے اپوزشن اور دیگر یہ اپنے ذہن سے نکال دیں اور ایک مہذب تعیلم یافتہ فرد بن کہ سوچیے حکومت کا کام عوام کو سہولیات دینا ہوتا ہے نہ کہ مشکلات دینا یا رکاوٹیں بنا آج اپوزشن مخالفت کرے گی تو کل ان سے کیا توقع رکھی جاے گی کہ اگر انکی حکومت ہو اور یہ عوام کے لیے کام کریی گے جو کام اچھا ہورہا ہے اسکا سب ساتھ دیی چاہیے کوہی اپوزشن لیڈر ہے یا دیگر جماعت سے کب تک دوسروں کی غلامی میی جی حضوری کرتے رہیی گے
وزیراعظم آزادکشمیر اور وزیر تعیلم آپ سے التماس ہے کہ اس معماملے کو قانون ساز اسمبلی میی اٹھاہیی اور جلد ہی اپنی حکومتی مدت پوری ہونے سے پہلے میرپور بورڈ کی برانچوں کا نوٹفکیشن جاری کریی اور اس معماملے میی کوہی متعصبی نہ دیکھاے ایک سیاستدان کو یہ چیزیں زیب نہیں دی.

اپنا تبصرہ بھیجیں