آٹھ اکتوبر کی کچھ یادیں….. سردار محمد حلیم خان

یہ آٹھ اکتوبر 2005کی صبح آٹھ بج کر باون منٹ کا وقت ہے۔اسامہ ایجوکیشن اکیڈمی راولاکوٹ کے دفتر میں بیٹھا ایک ساتھی سے فون پہ بات کر رہا تھا۔دوپہرکو سیاسی کمیٹی کی میٹنگ تھی۔اچانک فون بند ہو گیا ۔سوچا تار ہل گئی دیکھنے کے لئے جھکا لیکن یہ کیا ساری بلڈنگ کانپ رہی ہے۔باہر دیکھا تو باؤنڈری وال بار بار ایسے جھکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی جیسے زمین بوس ہوا ہی چاہتی ہے خیال گزرا قیامت آ گئی ہے۔بھاگ کے بچوں کو کمروں سے باہر نکالا۔اس اثنا میں زمین پہ طاری لرزہ تھم چکا تھا۔باہر نکل کے دیکھا تو عجیب ہولناک منظر تھا۔پی ڈبلیو ڈی کالونی مکمل مسمار ہو چکی تھی۔ایک بلڈنگ کے ایک غسل خانے میں سپریم کورٹ کے تب اسسٹنٹ رجسٹرار میرے کالج کے کلاس فیلو ظہور احمد محبوس تھے ان کے اپارٹمنٹ کا صرف کا یہ حصہ بچا تھا وہ ادھر ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔آگے بڑھا تو احاطہ عدالت اور انتظامی دفاتر سب کے سب زمین بوس ہو چکے تھے۔خیر سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔ہر کوئی کالج کی طرف دوڑ رہا تھا کہ خبر تھی وہ مکمل تباہ ہو گیا ہے اور سارے طلباء ملبے تلے آ گے ہیں راستے میں موجودہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فاروق محمود صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے بتایا سب کالج کی طرف ہی جا رہے ہیں سی ایم ایچ بھی مکمل تباہ ہو چکا ہے ہمیں ادھر چلنا چاہیے۔وہاں پہنچے تو زخمیوں اور شہداء کو ملبے سے نکالنے میں لوگ مصروف تھے۔بے بسی کی انتہا یہ تھی کہ شدید زخمیوں میں ہسپتال کے عملے کے افراد بھی شامل تھے وہ بتا رہے تھے فلاں دوائی لا کے دو میں اور فاروق صاحب ادھر دوڑتے آگے ہمیں سمجھ ہی نہ آتی یہ کون سا انسٹرومنٹ مانگ رہے ہیں اور کدھر سے لیں دوائی۔ یعنی دوائی موجود ہے لیکن اسی ہسپتال کا عملہ بھی بے بس ہے سب سے دردناک منظر یہ تھا کہ سی ایم ایچ کے کرنل کمانڈنٹ کی دو سالہ بیٹی کی مٹی میں دبی ہوئی لاش کو جب نکالا گیا۔یہاں بہت لوگ جمع ہو گے تو ہم نے حسین شہید ڈگری کالج کا رخ کیا وہاں بھی قیامت کا منطر تھا دو طلباء شہید ہو چکے تھے۔شام کو عدنان رزاق صاحب کے ساتھ گاڑی لے کے نکلے تو عجیب ہی منظر تھا صبح بڑے بڑے گھروں اور آرام دہ بستروں پہ انکھ کھولنے والے اس وقت کھیتوں میں بے سرو سامان پڑے تھے بارش اور اولے بھی پڑ رہے تھے اور بے حد سردی بھی۔ لیکن ان سے بچاو کے لئے کپڑے کی چادریں تان رکھی تھیں۔وہ جو انواع و اقسام کے ماکولات سے افطاری کا اہتمام کرتے تھے وہ آج افطاری کے لئے پانی سے بھی محروم تھے۔
لیکن افسوس قوم اس سب کو بھول گئی اور آزمائش میں ناکام اس طرح ہو گئی کہ نا فرمانیوں پر پہلے سے زیادہ دلیر ہو گئی۔
اب تو استفسار منانا اور استفسار کرنا بھی قصہ پاتیں بن گیا ہے ہر سال 8 اکتوبر آتا ہے اور گزر جاتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں