برفباری اور گلوبل وارمنگ۔ انیس قمر عباسی

آج پورے ملک کے بالائی علاقوں اور خصوصا آزاد کشمیر میں برفباری کی ایک نئ لہر آئی تو فیس بک بھی “چٹی سفید” ہو گئ۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے جب برفباری ہوتی تھی تو اندر سے دیکھ کر ہی “سیئال” پورے جسم پر چڑھ جاتےتھےلیکن آج تو مناظر ہی الگ تھے ہر کوئی کہیں برف پر بیٹھ کر، کہیں لیٹ کر اور کہیں تو پورا جسم برف میں ڈالے ہوے ہے۔ پچھلے دور میں برف میں برف کے گولے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے جاتے تھے ورنہ سب لوگ “بانڈی” کے اندر بڑے بڑے لکڑیوں کے “منڈے” لگا کر “تہواں تاڑی” میں بیٹھے ہوتے تھے اور “کیلوں” سے منہ ناک کالے ہوے ہوتے تھے۔۔ اوپر سے مکان کچے ہوتے تھے جس کہ وجہ سے چپہ چپہ “اتھروں” کے ناڑے لگے ہوتے تھے ۔۔ لوگ لگی بارش میں “پولیں” لگا کر چھت کی “بلیاں” اور باقی حصہ کو آٹے والی بوری جس میں 90 کلو آٹا آتا ہوتا تھا “نچوڑ ” رہے ہوتے تھے جس کی وجہ سے چھت کی سرخ مٹی پر مزے مزے کی ڈرائنگز بن رہی ہوتی تھی۔۔
سردی کو دور کرنے کے لیے دیسی “میتھروں کا کاڑہ” چلتا تھا اور پھر اسی کے چاولوں پر دیسی گھی اور چینی ملا کر کھائی جاتی تھی۔ رات کو دیسی رسی جسکو “بان” کہتے تھے ایک خاص قسم کی گھاس “برویا” سے بنایا جاتا تھا اور ہم جیسے چھوٹے بچے اس برویا کی “سرکی” دینے کے کام کرتے تھے۔ اس برویا کو استعمال سے پہلے پانی میں بھگو کر ایک “مولے” کی مدد سے خوب “کٹا” جاتا تھا۔۔ یوں لمبی راتیں گزاری جاتی تھی اس کے علاوہ بچوں کو خوب ڈروانئ کہانیاں سنائی جاتی تھی کہ ایک ایک پتے کے ساتھ بلائیں اور چڑیلیں نیچے آتی ہیں ۔
ہاتھ پیر ایسے “پھٹے ” ہوتے تھے جیسے کسی نے چھری سے کاٹے ہوں اور ان کے علاج کے کیے کوئی لوشن اور کریمیں تو تھی نہیں صرف “باسلین” لگا لگا کر گزارہ کیا جاتا تھا لیکن جب رات بھر اور صبح آگ کے اوپر رکھ رکھ کر ان پھٹے ہاتھوں میں خوب “کالخ” جم جاتی تھی جو صبح بلی مارکہ صابن سے رگڑ رگڑ کر بھی نہیں جاتی تھی اور اکثر بچے انہی کالے ہاتھوں کے ساتھ ہی سکول آتے۔۔
لیکن تب نہ تو کیمرے والے فون تھے اور نہ فیس بک کہ یہ سب کر کے دنیا کے سامنے شو کر دیا جاتا۔۔۔
جوں جوں “ترقی” ہوئئ نہ موسم ویسے رہے نہ برف ویسی رہی اسی لیے آج جب کوئی برف دیکھتا ہے تو سب سے پہلے موبائل نکال کر تصویر بناتا ہے کہ کہیں ختم نہ ہو جاے۔۔
یہ انسان ہی ہے جس نے اپنی حرکتوں سے کائنات کا درجہ حرارت بڑھا لیا ہے اور پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارش میں برف باری میں اور پانی میں کمی ہو رہی ہے اور یہ ترقی کہ رفتار ایسی ہی رہی تو قدرتی ذرائع آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے اور اس زمیں پر جینا مشکل۔۔
آئیے سب لوگ اس گلوبل وارمنگ کی کمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں