سولہ دسمبر۔۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

سولہ دسمبر جب بھی آتا ہے اس کی سرد ہوائیں پچاس سال قبل لگے پرانے زخموں کو تازہ کر دیتی ہیں ان زخموں سے پھر سے ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں۔جسمانی چوٹ تو وقت کے ساتھ مندمل ہو جاتی ہیےمگر جو چوٹ روح کو لگ جائے وہ روح کی بقا کے ساتھ باقی رہتی ہے۔سوائے ان لوگوں کے جن کی روح ہی مردہ ہو چکی ہو۔
مجھے ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے
کہ زندگی عبارت ہے تیرے جینے سے
آج سے تینتا سال پہلے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت آج کے دن دو لخت ہوگئی۔کوئی صاحب ضمیر و ایمان اس زخم کو کیسے بھلا سکتا ہے۔چودہ سو سال میں مسلمانوں کو اس سے بڑی ہزیمت کبھی نہ دیکھنا پڑی۔اس سے بڑی ہزیمت کیا ہو سکتی ہے کہ ایک خدا کو ماننے والی نوے ہزار کے قریب مسلمان فوج جس کے ایک ایک جوان کے دل میں شہادت کی تمنا مچل رہی تھی ڈھاکہ کے ہلٹن میدان میں دشمن کے سامنے کھڑی تھی۔ان کا کمانڈر نام نہاد ٹائیگر نیازی اپنے تمغے سجائے ہتھیار ڈالنے کی رسمی تقریب کے لئے موجود تھا۔گائے کا پیشاب پینے والے اور اس کے گوبر کو پوتر سمجھنے والے فاتحانہ گھمنڈ سے ٹہل رہے تھے۔پھر وہ المناک لمحہ آیا کاش کہ نہ آتا نیازی ان سب سمیت جام شہادت نوش کر لیتا۔لیکن ہونی ہو کر رہی۔شکست خوردہ فوج نے رسم کے مطابق جنرل اروڑہ کو سلامی دی اور ان کے کمانڈر جنرل نیازی نے اپنے تمغے اور رینک ۔ایک ایک کر کے اتارے اور جنرل اروڑہ کے حوالے کیے۔آخر میں اپنا ریوالوراروڑہ کے حوالے کر کے اس کو سلیوٹ کیا۔
اس کے ساتھ ہی اندرا گاندھی نے فتح کے نشے میں مخمور ہو کر اعلان کیا کہ آج ہم نے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا اوردو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔افسوس کوئی نہیں جوبھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھانے والوں امن کی آشا کا راگ الاپنے والوں اور بھارت میں شوگر ملیں لگانے والوں کو اندرا گاندھی کی وہ تقریر ہی سنا سکے.مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد اسی دن رکھ دی گئی تھی جب ڈھاکہ میں بنگلہ کو دوسری قومی زبان تسلیم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں پر گولی چلائی گئی۔کہا گیا قومی زبان صرف اردو ہوگی حالانکہ آج ستر سال بعد بھی اردو قومی زبان نہ بن سکی۔اس کے بعد سکندر مرزا نے ایوب خان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے بوگرہ حکومت کو برطرف کر کے یہ پیغام دیا کہ ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلے گا۔اج جمہوریت کا نانا بننے والے بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹواسی سکندر مرزا کی کابینہ میں پہلی مرتبہ وزیر بنے۔پھر فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں زبردستی ہرا کر اہل مشرقی پاکستان کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔دلچسپ بات یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو اس درباری مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری تھے جو فاطمہ جناح کے مقابلے میں جنرل ایوب کی حمایت کر رہی تھی۔وہ ایوب کی الیکشن مہم کے بھی انچارج تھے۔مسلم لیگی رہنما اور خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر گلی گلی فاطمہ جناح کے خلاف گندی تقاریر کے لئے مشہور ہوے۔
مشرقی پاکستان اور موجودہ پاکستان میں ہزاروں میل کا فاصلہ تھا بھارت دونوں حصوں کے درمیان حائل تھا۔دونوں بازووں کو اسلام کے عادلانہ نظام کی بنیاد پرایک ساتھ رکھا جاسکتا تھا کیوں کہ دونوں حصوں کی زبان نسل رہن سہن کچھ بھی مشترک نہ تھا سوائے دیں اسلام کے۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ کی بنیاد پر بنگال والوں نے پاکستان کے ساتھ ملنا قبول کیا تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد رابطے کی اس واحد ڈوری کو کمزور کرنے کی ہر ممکن سعی کی گئی۔اسلام کے عادلانہ نظام کی جگہ مغربی سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کو مسلط کیا گیا اور اللہ کی بجائے ریاست نے امریکہ کو الہ کا درجہ دے دیا۔جنرل ایوب کو چلتا کر کے ہر وقت شراب و شباب میں مست رہنے والے یحی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو حدود اللہ کی پامالی کی بھی انتہا ہو گئی۔قدرت نے بھی شاید کلمے سے بے وفائی کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا اور سزا کا کوڑا حرکت میں آ گیا۔ملک میں 7 دسمبر 70 کو عام انتخابات ہوے مشرقی پاکستان میں 162 نشستوں میں سے 160 عوامی لیگ نے جیت لیں۔مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی نے ایک سو ساٹھ میں سے صرف اسی نشتوں پر کامیابی حاصل کی۔لیکن ملک پر مسلط جرنیلی ٹولے کی اشیرباد سے بھٹو نے یہ عجیب و غریب نعرہ لگا دیا کہ ان کو بھی اقتدار میں شامل کیا جائے اگر ایسا کوئی فارمولہ نہیں بنتا جس میں انھیں اقتدار میں شامل کیا جائے تو وہ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کا بایئکاٹ کریں گے۔ایک اقلیتی پارٹی کی طرف سے یہ مطالبہ بلا جواز اور عوامی لیگ کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف تھا انھوں نے دھڑلے سے ادھر ہم ادھر تم کانعرہ بھی بلند کردیاکیوں کہ بھٹو کو اس معاملے میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحی خان کی پشت پناہی حاصل تھی۔اس لئے وہ محبوبانہ الربائی کا مظاہرہ کرتےکے ہوے یہاں تک چلے گے کہ ان سے معاملات طے ہونے تک اسمبلی کا 27مارچ کو ڈھاکہ میں ہونے والا اجلاس ملتوی کیا جائے۔یحی خان اور بھٹو ہم مقالہ اور ہم پیالہ تھے۔یحی نے بھٹو کے ہمراہ اندرون سندھ شکار سے واپسی پر اسبملی کا طے شدہ اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کردیا جس کے نیتجے میں مشرقی پاکستان میں شدید ہنگامے شروع گے۔بنگالیوں کی وفاق کے ساتھ رہنے کی آخری امید کو بھی بھٹو اور یحی کے گٹھ جوڑ اور ہوس اقتدار نے ختم کردیا۔بنگالیوں کو یہ پیغام گیا کہ آپ دو تہائی اکثریتی ووٹ لے کر بھی اقتدار کے ایوانوں میں داخل نہیں ہو سکتے۔مولانا مودودی مفتی محمود نوابزادہ نصراللہ خان اور ولی خان نے اجلاس ملتوی کرنے کی مذمت کی اور جرنیلی ٹولے کو اس کے مضمرات سے آگاہ کیا۔لیکن ان کی بات پر کان دھرنے کی بجائے 25 مارچ کو عوامی لیگ کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا۔بھٹو نے اس آپریشن کا خیر مقدم کرتے ہوے کہا اللہ کا شکر ہے پاکستان بچ گیا۔بھٹو کے علاوہ تمام قومی رہنمائوں نے آپریشن کی مذمت کی۔آپریشن کے نتیجے میں بنگالیوں کی بڑی تعداد انڈیا میں چلی گئی جہاں انڈیا نے پناہ گزین کیمپوں کے نام پر تربیتی مراکز قائم کر کے ہزاروں کی تعداد میں بنگالی نوجوانوں کو تربیت دے کر مکتی باہنی کے نام سے مشرقی پاکستان میں داخل کر دیا ان نوجوانوں کے ساتھ ہندوستان نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے تربیت یافتہ تخریب کار بھی مکتی باہنی میں شامل کر دیے جنہوں نے محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام شروع کر دیا۔اور سرکاری تنصیبات پر حملے شروع کر دیے۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوے جماعت اسلامی سے وابستہ مدارس کے طلبہ نے الشمس کے نام سے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں نے البدر کے نام سے منظم ہو کر ان تخریب کاروں اور قاتلوں کا مقابلہ شروع کیا۔دونوں تنظیموں کے تقریبا دس ہزار نوجوان وطن کے دفاع پر قربان ہوے وہ جن کے ذمے ملکی دفاع کی ذمہ داری تھی وہ تو جنرل اروڑہ کو سلامی دے کر جنگی قیدی بن گے لیکن یہ نوجوان کدھر جاتے ان کا تو گھر بار وہیں تھا یہ آخر دم تک کلمے کے نام پر حاصل ہونے والے ملک کے کے لئے کٹتے رہے۔مکتی باہنی کے غنڈوں کے لئے جنرل نیازی کے سر نگوں ہوتے ہی سارا مشرقی پاکستان مباح قرار دیدیا گیا۔لاکھوں محب وطن پاکستانیوں کو تہ تیغ کیا گیا۔ عورتوں کی عصمت دری کی گئ لیکن البدر و الشمس کے نوجوانوں نے اپنے سروں کی موجودگی تک ان غنڈوں کو اپنے اپنے علاقےمیں داخل نہیں ہونے دیا۔انھی میں ایک عبدالقادر ملا بھی تھے جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود ضلع میرپور کی تحصیل فرید پور میں پاکستان کا پرچم آخر وقت تک سر بلند رکھا

اپنا تبصرہ بھیجیں