اظہار مذمت ۔ تشویش کا اظہار ۔ سخت کاروائی کی یقین دہانی۔۔۔ تحریر: رفعت رشید عباسی

۔ اظہار مذمت
۔ تشویش کا اظہار
۔ سخت کاروائی کی یقین دہانی
۔ انصاف کیا جائے گا
۔ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا
۔ لواحقین کے غم میں شریک ہیں
۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرے گی
۔ تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گی
۔ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا
۔ آئی جی سے فوری رپورٹ طلب کر لی

ان سب بے روح الفاظ کی گردان کے
وقتی مرہم کے استعمال کے بعد
بس سنگدلی و بے حسی

100 کے قریب ریلوے حادثات
پی ائی اے طیارہ تباہ
پشاور ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے سے اموات
سانحہ ساہیوال
ماڈل ٹاون
نجیب اللہ قتل
کیا ان چند بڑے حادثات کے مجرم انجام کو پہنچ گے
جو اس قتل کے بھی پہنچ جائیں گے؟

بدقسمتی سے
بس چند دن کا شور
اور
پھر
ریاست
حکومت
عدلیہ
میڈیا
سب کی مصروفیات اور ترجیحات میں ان کی کوئی جگہ نہیں
دیگر معاملات ان بے گناہ چھینی گی انسانی جانوں سے زیادہ اہم قرار پائے کہ مرنے والوں میں کوئی “خاص” نہ تھا بلکہ 22 کروڑ میں سے چند ایک “عام” پاکستانی ہی تھے۔

اور ان عام پاکستانیوں کے

لواحقین ریاست و حکومت سے ملے اس غم کو دل سے لگائے اس ظالم نظام کو کوستے
سسکتے بلکتے موت کے انتظار میں دن گزارنے پر مجبور
اور
ہم سمجھتے ہیں یہ کرب صرف انہی کا ہے
جبکہ
حقیقت یہ ہے کہ
اذیت و ذلت کا طوق ہم سب کی گردنوں میں بھی پڑا ہوا
نہ معاشی آزادی
نہ سیاسی خودمختاری
نہ استحکام نہ اطمینان
وبائیں
حادثات
ا نتشار
یہ سب کیا ہے؟
ہم انصاف نہیں کریں گے
ظالم کو نہیں روکیں گے
ظلم ہوتا دیکھ کر آنکھیں پھیر دیں گے
تو
رب کی نگاہ رحمت پھر کیوں کر نہ ہم سے ہٹا لی جائے گی؟

اللہ کی رحمت کی بارش کبھی ظالموں پر بھی برسا کرتی ہے کیا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں