یوم حق خود ارادیت۔۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

ریاست جموں کشمیر کی قیادت نے 19 جولائی 1947 کو اپنے جذبات اور منشا کا اظہار قرارداد الحاق پاکستان کی صورت میں کر دیا۔قرارداد پاکستان مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں منظور کی گئی۔مسلم کانفرنس ریاست کی نمائندہ جماعت تھی جس نے پرجا سبھا کے ہر الیکشن میں دو تہائی سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔اخری الیکشن میں پچیس میں سے 19 نشستیں مسلم کانفرنس نے حاصل کیں۔قرارداد الحاق پاکستان مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری حمیداللہ کی صدارت اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار محمد ابراہیم خان کے گھر پر ہونے والے اجلاس میں منظور کی گئی۔عاملہ کے اجلاس میں عوام کے منتخب نمائندے اور مسلم کانفرنس کے زعماء شامل تھے۔ایسے میں اس قرارداد کی کشمیر میں وہی حیثیت ہے جو برصغیر میں مسلم لیگ کے دہلی کنونشن کی ہے۔اس قرارداد میں مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا گیا کہ تقسیم ہند کے اصولوں اور کشمیری عوام کے مجوزہ ریاست پاکستان کے ساتھ دینی تاریخی تہذیبی تمدنی رشتوں اور قدرتی جغرافیائی ملاپ کو مد نظر رکھتے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جائے۔
مسلم کانفرنس کی صاحب بصیرت اور بالغ نظر قیادت کو مہاراجہ کی چالیں اور نہرو عبداللہ گٹھ جوڑ نظر آ رہا تھا۔مہاراجہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔وہ مسلم ریاست پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن دوسری طرف نہرو عبداللہ گٹھ جوڑ اور کانگریسی قیادت کی طرف سے مستقبل میں جمہوری سیاسی نظام کے اعلان سے خائف تھا۔کیونکہ ریاست جموں کشمیر میں مسلمان غالب اکثریت میں تھے اور سو سالہ ڈوگری مظالم کی وجہ سے مہاراجہ سے شدید نفرت کرتے تھے۔مہاراجہ کو اپنا مستقبل ہر طرف مخدوش نظر آتا تھا۔وہ چاہتا تھا ہندوستان سے الحاق سے پہلے سکم کی طرح کے کسی ماڈل پر اتفاق ہو جائے جس کے نتیجےمیں ریاست بھارت کے زیر انتظام تو ہو لیکن اس کے سیاسی نظام کو نہ چھیڑاجائے اور ڈوگرہ دور ظلمت کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہے۔ سارے اندرونی مذاکرات اسی نکتے کے گرد ہو رہے تھے۔ایسے عالم میں 19 جولائی کی قرارداد کے باوجود جب مہاراجہ نے لیت ولعل جاری رکھی تو 15 اگست کو مسلمانوں نے باضابطہ مہاراجہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر کے مختلف علاقوں میں اس کے خلاف جہاد شروع کردیا یہاں تک کہ مجاہدین ریاسی اور سری نگر تک پہنچ گے۔24 اکتوبر کو ریاست کی آزاد حکومت قائم کر دی گئی جبکہ 26 اکتوبر کو مہاراجہ بھاگ کر جموں پہنچا اور بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا۔اقوام متحدہ نے فروری 48 میں جنگ بندی کی قرارداد منظور کی۔اور یکے بعد دیگرے کئی سفارشات پیش کیں۔13 اگست 48میں پہلی باضابطہ قرارداد سلامتی کونسل میں منظور کی گئی جس میں یہ قرار دیا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا تعین ریاست جموں و کشمیر کے عوام اپنی مرضی سے کریں گے۔یہ ایک مبہم قرارداد تھی جس میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ریاستی عوام کی مرضی معلوم کرنے کا طریقہ کار کیا ہو گا۔اس ابہام کو دور کرنے اور طریقہ کار کی دیگر تفصیلات کے لئے 5 جنوری 1949 کو اسی قرارداد کے تسلسل میں دوسری قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام آزادانہ طورپر پاکستان یا بھارت کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے۔یہ قرارداد بھارت کے گلے کی ہڈی بن گئی وہ اگلے پانچ سال تک ٹال مٹول کرتا رہا 1954 میں اپنے سارے وعدوں اور بین الاقوامی سطع پر کرائی گئی یقین دہانیوں سے کھلم کھلا منحرف ہو گیا اور ریاست جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔
5 جنوری 1949 کی قرارداد حق خود ارادیت اس مظلوم ریاست کو آزادی تو نہ دلوا سکی لیکن یہی وہ قرارداد ہے جو کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف مضبوط بنیاد ہے۔یہ ایسی دستاویز ہے جو بین الاقوامی سطع پر بھی تسلیم شدہ ہے اور بھارت کی طرف سے بھی۔اس کی موجودگی میں ریاست پر بھارتی قبضہ اور اس کا سٹیٹس تبدیل کرنے کا ہر ہتھکنڈہ جابرانہ ہی کہلائے گا۔جب یہ قرارداد منظور ہوئی تو ریاست جموں و کشمیر کے تمام باشندوں کے لئے یہ قابل قبول تھی ریاست کی دونوں جماعتوں مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کے باہمی اختلاف کے باوجود انھیں اس سے اتفاق تھا۔پوری ریاست کے کسی لیڈر حتی کہ ہری سنگھ یا اس کی اولاد کی طرف سے بھی اس قرارداد سے کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا۔یہ اس قرارداد ہی کا نتیجہ ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ ایک بے اثر ہی سہی لیکن کبھی کبھار کشمیر کا تذکرہ کرتا ہے اور اس کے مبصرین ریاست کے دونوں حصوں میں موجود ہیں جو اس کا کھلا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور یہ فیصلہ ریاست کے عوام نے کرنا ہے۔بھارت اس قرارداد سے جان چھڑانے کے لیے ستر سال سے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔ساٹھ کی دہائی میں جب پاکستان کی طرف سے کشمیر کی آزادی کی کوششوں پر کشمیر میں مایوسی پیدا ہوئی تو یہ خیال سامنے آیا کہ اس قرارداد میں حق خود ارادیت کو پاکستان اور بھارت تک محدود کر دیا گیا ہے اس میں کشمیر کی خود مختاری کا آپشن شامل نہیں ہے۔اس رائے کو پورے اخلاص پر مبنی سمجھنے کے باوجود بھی اس کا حل یہ نہیں ہے کہ پوری قرارداد کو مسترد کر کے بھارت کا موقف مضبوط کیا جائے بلکہ عمل درآمد کے مرحلے میں مرحوم امان اللہ خان کی تجویز پر غور کیا جاسکتا ہے کہ ریفرنڈم پہلے اس بات پہ ہو کہ کشمیری خود مختاری چاہتے ہیں یا الحاق۔اگر اکثریت الحاق کے حق میں ہو تو دوسرے مرحلے میں پاکستان یا بھارت میں انتخاب کا موقع دیا جائے اگر اکثریت کا فیصلہ خود مختاری کی صورت میں آئے تو دوسرے مرحلے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔5 جنوری کی قرارداد پاکستان کو بھی پابند کرتی ہے کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ریاستی عوام نے کرنا ہے نہ کہ وزارت امور کشمیر کی بیوروکریسی نے اس لئے آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے شگوفے چھوڑنے سے گریز کیا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگ اس قرارداد کو متنازعہ بنانے سے گریز کریں کیونکہ موجودہ عالمی حالات میں ایسی متفقہ دستاویز دوبارہ حاصل کرنا تقریبا ناممکن ہے۔اس کی بجائے متفقہ طورپر دنیا میں بھارت کو بے نقاب کرنے کے لئے بھرپور طریقے سے یوم حق خود ارادیت منایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں