تہلکہ — سیاست کا سکندر، جمہوریت کا سالار —- تحریر: نسیم شاہد

خاکم بدہن ! ہمارے ہاں سالارِ ۰۰۰۰ غازیِ ۰۰۰۰،مجاہدِ۰۰۰۰، نامور سپوت، جیسے بڑے بڑے القابات و خطابات اپنے اپنے وقت پے ایسے ہی دیے جاتے ہیں جیسے آجکل اخبارات کے صفحات اور سوشل میڈیا کی سکرینیں فرزندِ ۰۰۰۰اور فرزندِ ۰۰۰۰کے القابات اور خطابات سے بھری پڑی ہیں ۔ گو کہ بڑی حد تک ایسے خطابات پانے والے اپنی طویل جدوجہد ، دلیرانہ کردار اور کسی منفرد کارنامے کی بدولت ان کے مستحق بھی ہوتے ہیں لیکن اس کی بڑی وجہ کسی منچلے عقیدت مند کی نعرے کی لے یا جوشِ خطابت میں دیا جانے والا وہ لقب یا خطاب ہوتا ہے جو نہ صرف پانے والے کی آنے والی نسلوں کی متعلقہ شعبے میں میراث اور روزی روٹی کا ذریعہ بن جاتا ہے بلکہ عقیدت مندوں کی ایک ایسی کھیپ بھی تیار کر لیتا ہے جو نہ صرف سینہ بہ سینہ اس میراث کو محفوظ و منتقل کرتی ہے بلکہ ذہنی سکون اور بینائی کیلیے اپنے گھروں میں روزانہ صبح منہ لگائی و دیکھائی کیلیے بھی بڑے اہتمام کے ساتھ لٹکا کے سجا کے رکھتی ہے ۔
اللہ پاک عمر دراز کرے سالارِ جمہوریت کی کہ نوے کی پیٹی کی آخری نشانی ہی تو رہ گئے ہیں ۔ بطورِ سیاستدان و حکمران موصوف کی سیاسی زندگی سیاسی نشیب و فراز سے بھرپور تو ہے ہی لیکن موصوف کی جماعتی آنیاں جانیاں ، اچھل گود اور چھلانگیں مارنا شاید “ سیاست کے سلطان “ سے عمر کے حساب سے کم نہ بلکہ زیادہ ہیں اور بشرطِ زندگی مزید زیادہ اضافے کا امکان بھی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ سیاست کے سلطان نے نہ دایاں بازو ( مکتبِ فکر) دیکھا نہ بایاں جبکہ سیاست کے سکندر کی آنیاں جانیاں بظاہر دائیں بازو کی خیالات والی مسلم کانفرنس قیوم گروپ ، مسلم کانفرنس سکندر گروپ اور مسلم لیگ (نون) کے درمیان جاری و ساری ہیں اور بشرطِ زندگی شاید جاری رہیں گی ۔اگرچے بزرگ سکندر و سالار بطورِ سیاستدان ڈرائنگ روم کی سیاست کے ماہر اور موقع شناس شطرنج باز جبکہ بطورِ صدر و وزیرِ اعظم ایک کامیاب منتظم یا ایڈمنسٹریٹر کے طور پے اپنی مثال آپ رہے ہیں لیکن اُن کی اس سیاسی شطرنج بازی اور انتظامی کامیابی کے پیچھے شاید سردار عبدالقیوم صاحب ( مرحوم و مغفور) کی سیاسی بصیرت ، ذاتی مصلحت و مفاد پرستی کا بڑا ہاتھ تھا ورنہ موصوف اتنے سیاسی اور حکومتی عہدوں ، القابات اور خطابات کے ساتھ اس مقام پے نہ ہوتے ۔
خُدا حافظ کہنے والے پے الزامات کی بوچھاڑ اور خوش آمدید کہنے والے کی تعریف و توصیف قابلِ صد احترام سکندر و سالار کی آج کی نہیں بلکہ بہت پرانی ریت ہے اور اس کا سب سے زیادہ اور بڑا ٹارگٹ سردار عتیق صاحب ہی رہے ہیں ۔ موصوف پے جناب سکندر و سالار کے کرپشن ، والدِ محترم کے حکومتی اختیارات میں ناجائز مداخلت کے چھوٹے اور بونے الزامات تو کجا بلکہ کچھ عرصہ پہلے یہ الزام بھی دے مارا تھا کہ سردار عتیق نے سنہ نوے میں اپنے والد کو مظفرآباد جاتے ہوئے کوہالہ کے مقام پے گاڑی ایکسیڈنٹ کے ذریعے پارکر کے اقتدار پے قبضے کی ناکام کوشش کی تھی ۔
ایک زمانے میں مسلم کانفرنس باقاعدہ اعلانیہ طور پے دو دھڑوں ،مسلم کانفرنس قیوم اور مسلم کانفرنس سکندر ، میں تقسیم ہو گئی تھی ۔ موصوف جیسے الزامات آج نواز شریف اور فاروق حیدر صاحب پے بوچھاڑ اور برسا رہے ہیں تقریباً ایسے ہی الزامات اس وقت بھی سردار قیوم( مرحوم) اور سردار عتیق صاحب پے بوچھاڑے اور برسائے تھے ۔ سردار قیوم مرحوم چونکہ ایک ماہر سیاسی نباض اور موقع شناس تھے ساتھ ہی وہ موصوف کے لااُبالی پن سے بھی واقف تھے ۔ سو مرحوم بن بلائے ہی سکندر و سالار کے والد مرحوم کی برسی میں چلے گئے اور مسلم کانفرنس دوبارہ ایک ہو گئی ۔
آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کے مدِ مقابل نون لیگ کا قیام بھی کسی نظریاتی اختلاف کی وجہ سے نہیں بلکہ سکندر+حیدر بمقابلہ سردار عتیق اینڈ گروپ ذاتی ، جماعتی اور سیاسی مفادات کی وجہ تھا ۔ گو کہ سردار عتیق کی جنرل مشرف سے قربت اور ملٹری ڈیموکریسی کا راگ الاپنا بھی نواز شریف سے دوری اورخلیج کا باعث تھا لیکن سردار عتیق اپنی میکاولی طرز کی سیاسی چالوں سے وہ خلیج عبور کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے کہ سکندر اور حیدر آڑے آ گئے ۔
کسی ڈائی ہارڈ کبیر عقیدت مند کی گستاخی اور صغیر کی دِل آزاری کیلیے پیشگی معذرت کے ساتھ ۔ دراصل یہ مُسلے نام کے دو سیاسی فرقے ہیں جو وقت ، حالات اور سیاسی مفادات کی خاطر مِل بھی جاتے ہیں اور مٹی مُٹی ناراض بھی ۔ان کو نہ ملٹری سے غرض ہے نہ ڈیموکریسی سے ۔ اگر اقتدار ملٹری ملٹری کے وِرد سے ملنے کا امکان ہو تو بھی ٹھیک ، اگر ڈیموکریسی ڈیموکریسی کے وِرد سے ملنے کا امکان ہو تو وہ بھی ٹھیک – میاں و مریم کے “ووٹ کو عزت دو” کے نعرے اور بیانیے نے تو ایسے ہی راستے میں پڑل و پڑاؤ ڈالا ہوا ہے ۔ یہ آزاد کشمیر کی سرزمین اور وہ بھی ایک سیاسی فرقے کے بھیس میں چھپے دوسرے فرقے کے پروگرام میں ہرگز نہیں جھچتا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فلور کراسنگ کے شرط غیر موثر ہونے کے بعد کون کون چراغ بیگ کی جنج ڈولی میں شامل ہو گا اور کس کو ڈولی میں بیٹھنے کا اعزاز حاصل ہو گا ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں