سردار مختار خان ۔ایک مصلح ایک سیاسی کوچ ۔

تحریر: سردار محمد حلیم خان
اپنی زندگی کے پہلے جلسے میں بھی سردار مختار خان صاحب کو دیکھا اور راولاکوٹ پہلا جمعہ پڑھا تو وہاں بھی سردار مختار صاحب کو دیکھا۔ہر دو جگہ نمایاں حوالہ۔سردار مختار خان تحریک آزادی کشمیر کے ممتاز رہنما تھے۔1947 کے انقلابی سال وہ ریاست کے مسلمانوں کی حقیقی ترجمان جماعت آل جموں و کشمیر کے تحصیل سدھنوتی جس میں موجودہ ضلع پونچھ کے حلقہ پانچ کے سوا سارا پونچھ اور پورا ضلع سدھنوتی شامل تھے جنرل سیکریٹری تھے۔مسلم کانفرنس اہم اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے۔19 جولائی 47 اور پندرہ اگست 47 کے تاریخی واقعات کے عینی شاہد تھے۔مری میں قائم ہونے والی وار کونسل کے رکن اور اس کے پس منظر اور پیش منظر کے سب سے معتبر گواہ تھے۔
اپنے اس منصب کا ان کو بخوبی احساس تھا اور وہ نوجوان نسل اور سیاسی کارکنان کو خوبصورت پیرائے میں تحریک آزادی کشمیر کے نشیب و فراز سے آخر وقت تک آگاہ کرتے رہے۔الحمدلللہ ان کی زندگی میں ہی اس بات کا ادراک تھا کہ مختار خان صاحب ہمارے پاس ایک چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔وہ وڈیو کیسٹس کا زمانہ تھا ایڈیٹر روزنامہ پرل ویو شفقت ضیاءکے تعاون سے ان کا ایک وڈیو انٹرویو کیا تھا امید ہے ان کے پاس محفوظ ہو گا۔سردار مختار خان نے راولاکوٹ میں اور چئیرمین غلام محمد صاحب نے ہجیرہ میں جامع مساجد سے عوامی مسائل کی طرف حکومت کو متوجہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور مساجد کو حقیقی دینی مراکز کا کردار نبھانے پر گامزن کیا۔سردار مختار خان بہت بڑے سیاسی سماجی رہنما اور مصلح بلکہ سیاسی کوچ کی حیثیت رکھتے تھے لیکن مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کی مسجد اور قرآن پاک کے ساتھ محبت تھی۔ان کے ساتھ پہلی ملاقات جب ہوئی ہم ان کے بیٹے پروفیسر شاہد مختار تب ناظم اسلامی جمعیت طلبہ راولاکوٹ کے ساتھ ان کے گھر گے تو وہ تلاوت کر رہے تھے۔مرکزی جامع مسجد سے ان کے گھر کا فاصلہ پندرہ منٹ سے زائد کا ہے لیکن وہ بلا ناغہ تمام نمازوں میں صف اول میں موجود رہتے تھے۔یہ سلسلہ اس وقت بھی منقطع نہیں ہوا جب وہ پیدل مسجد پہنچنے کے قابل نہ رہے اب ان کے بیٹوں نے گاڑی پہ پانچ وقت ان کو مسجد پہنچانے کی ان کے حکم پر ذمہ داری سنبھالی حتی کہ 8 اکتوبر کے زلزلے والے دن جب ہر فرد کو جان کے لالے پڑے ہوے تھے زلزلے کے جھٹکوں کے ساتھ ساتھ عین تراویح کے وقت شدت کی ژالہ باری بھی شروع ہو گئی لیکن سردار مختار خان اس دن بھی تراویح میں موجود تھے۔انتہائی نفیس شخصیت جنہوں نے اپنے کردار کی طرح تا دم آخر اپنے لباس کو بھی میلا نہیں ہونے دیا پوری ان بان کے ساتھ آخر وقت تک ذاتی شیروانی اور پگڑی کو ہی نہیں تاریخ کی پگڑی کو بھی بلند رکھا یکم فروری 2012کو دار فانی سے دارالبقا کی طرف کوچ کر گے۔اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں