زنگ آلود نسلیں۔۔۔۔ تحریر: توقیر ریاض

اگر تلواریں زنگ آلود ہو جائیں تو ان کو پھر سے ٹھیک کیاجا سکتا ھے ، تیزدھار بھی واپس آ سکتی ھے اور چمک بھی لیکن اگر دماغ ماعوف ہوجائیں سمجھنے پرکھنے کی طاقت چھن جائے تو نسلیں برباد ہو جاتی ہیں تباہی بربادی مقدر ٹھہرتی ہے ، کچھ ایسا ہی بد قسمتی سے اسوقت بلعموم پاکستان بھر میں اور بلخصوص آزاد کشمیر میں ھو رہا ھے ، ہمارا زیاں تو اسلئے بھی قلب شکن ھے کے جس قوم نے اپنی آزادی کی تحریک کو آگے بڑھانا تھا بھاگ دوڑ سنبھالنی تھی شومئی قسمت وہ جگت باز ھو گئی ، وہ اپنے ہی محافظ کے در پے ھو گئی آرام دہ بستر پر لیٹ کر نہ صرف دشمن کو دھمکانے لگی بلکے جنگ کی بھرپور تیاری کر چکی ۔

جمعہ کے روز ھوئی بھارتی فوج کی ایل او سی پر گولا باری اس سال کی سب سے بڑی کاروائی تھی جس میں پانچ افراد کی شہادت کے اطلاعات ہیں ۔ لیکن اس کے بعد جو رویہ سوشل میڈیاکے توسط سے سامنےآیا وہ نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ شرمناک بھی تھا ۔ اسطرح کے واقعات کے بعد قوم پرستوں کا عمومی رویہ مایوسی پھیلانے کا ھوتا ہم نہ کہتے تھے ، اس پار اُس پار کشمیری ، اور قابض قابض کا شور شرابے میں اپنا چورن بیچا جاتا ھے ، ہری سنگھ کے وارث پاکستان پر چڑھ دوڑتے ہیں منافق اور قابض کا راگ الاپا جاتا ھے ، اور لوگوں کے دلوں میں افواج پاکستان اور ریاست پاکستان کے خلاف زہر بھرا جاتا ھے ،
اگر ہماری یاداشتیں کمزور نہ ھوں تو یہ قوم پرست ہی تھے جنھوں نے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی مداخلت کی سب سے پہلے مخالفت کی بلکہ انکا اسوقت کا بیانیہ یہ تھا کے پاکستان در اندازی کر رہا ھے تبہی جواب میں بھارت ایل او سی اور اندرون کشمیرمظالم ڈھا رہا ھے اس سے مسلۂ کشمیر تباہ ھو رہا ھے تو کوئی ان سے پوچھے آج ھو رہے کشمیر میں مظالم کا کیا جواز ھے ۔

قوم پرست جماعتیں ہمیشہ سے بھارت نواز رہی ہیں پہلے کا بیانیہ ھو یا آ جکا اسکا فائدہ ہمیشہ بھارت کو ھوا، اپنے گمراہ کُن پراپیگنڈے سے انھوں نے ہمیشہ نوجوان نسل کو ورغلانے کی کوشش کی ۔

اسی طرح سیاسی جماعتوں سے وابستہ کارکنان بھی حکومت مخالف اور ریاست مخالف بیانئے میں فرق کرنے سے قاصر ہیں اسوقت آزادی کشمیر کی ایک ہی امید کی کرن ھے اور وہ پاکستان ھے ورنہ جونا گڑھ سمیت بہت سی اور ریاستوں کا بھارت سے انضمام فوجی طاقت سے ھوا تھا مقامی لوگوں کی مرضی سے نہیں ، اگر بھارتی مارٹر راولاکوٹ باغ اور باقی جگوں تک نہیں پہنچ رہے تو وہ اسلئے نہیں کے وہاں تک انکی رینج نہیں بلکہ اسلئے کے آگے خاکی کھڑی ھے ،
اگر جمعے کے دن ھو جھڑپ کا آزادانہ تجزیہ کیا جائے تو سوشل میڈیا پر چل رہا سب کچھ جھوٹ کا پلندہ لگے گا ، مثلاً پاکستانی فوج کب جواب دے گی اور کب جذباتی ھو گی تو جناب بھارتی سرکاری اعداد کے مطابق اُس روز پانچ بھارتی فوجی مارے گے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ تعداد پانچ ھے لیکن اگر یہ سرکاری انکڑے ہیں تو اصل تعداد اس سے زیادہ ہی ھو گی ، بھارتی سرکاری بیان کے مطابق پاکستان نے در اندازی کی کوشش کی اور جنگجو بارڈر کراس کرنے کی کوشش کر رہے تھے ھو سکتا ھے یہ درست ھو کیونکہ کشمیر میں چل رہی جنگ آزادی کو آج بھی کہیں سے تو سپورٹ مل رہی ہے ورنہ آج تک اس جنگ آزادی کا زندہ رہنا محال تھا ۔

پھر اُس طرف کشمیریوں کے شہادتوں کی خبر کی آج تک کوئی آزادانہ تصديق نہیں ھو سکی ھے یہ محض افواہ ہی ھے ، مارٹر کے گولے کے پیچھے کو کوئی صوبیدار ھو یامشین گن والا حوالدار ہوں تو سارے اسی معاشرے کے مامے ، چاچے ، بھائی آپ کس ضمیر سے ان پر الزام لگا رہے ہیں کے وہ اُس پار اپنے مسلمان بھائیوں کا نشانہ بنائیں گے جو آج بھی آزادی کی شمع جلائے ھوئے ہیں

فوج مخالف جذبات بھی بھڑکانے میں زيادہ سیاسی مخاصمت کار فرما ھے ، ورنہ بھارتی نقصان کا ذکر تک نہ کیا کسی نے ، کارگل آپریشن پر لاکھ سیاسی اختلاف مگر کشمیری کیونکر اسکی مخالفت کر سکتے ہیں وہ اسی فوج نے صرف اور صرف کشمیر کی آزادی کے لئے کیا الجزیرہ کے مطابق اس میں چار سو کے قریب پاکستانی فوجی شہید ھوئے یہ شہادتیں ہم کیسے بھول سکتے ہیں کسی ایک جرنل کے مخالفت میں کسی ایک سیاسی رہنما کی محبت میں اتنا تو نہ گریں۔

کولیٹرل ڈمیج جنگ کا حصہ ھے معصوموں کے لاشے ھوں یا مقامی آبادی کا نقصان سب کربناک اور تکلیف دہ ھے مگر جنگ میں اپنی سپاہ کو حوصلہ بلند کیا جاتا ھے ، باوقار رہا جاتا ، بین اور سینہ کوبی کر کے نمبر ون اور جذبات کے تعنے دے کر ہمُ تو بالواسطہ دشمن کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں