تہلکہ ۔۔۔۔ حکمران عوام یا رعایا کا عکس ہوتے ہیں۔۔۔۔تحریر: نسیم شاہد

پچھلے دِنوں خلافِ معمول دورانِ سفر جمعے کی نماز کا وقت ہو گیا اور سرِ راہ ہی ایک جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کا اتفاق ہوا ۔ خوش قسمتی سے اُس دن واعظ کے وعظ کا موضوع مشکوٰت شریف کی یہ حدیثِ مبارکہ تھی کہ حکمران یا عوامی نمائندے عوام یا رعایا کا عکس ہوتے ہیں لہذا انہیں بُرا بھلا مت کہا کرو ۔ موضوع دلچسپ اور برمحل تو تھا ہی لیکن واعظ کا شیریں اور مدلل اندازِ بیاں اُسے اور بھی دلچسپ بنائے جا رہا تھا ۔ آگے چل کے اُنہوں نے اسلامی نقطہ ہائے نظر سے کسی حکمران یا عوامی نمائندے کا معیار/پیمانہ اور اوصاف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دورِ خلافت کا ایک واقعہ بھی بیان کیا۔
ویسے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے عدل و انصاف ، طرزِ حکمرانی کی بدولت مسلم خلفاء میں مشہور ہیں ہی لیکن مجھے اُن کی اس اِنفرادیت کی وجہ سے غیر مسلموں میں بھی اپنا ایک مقام و مرتبہ رکھنے کا احساس و ادراک چند سال پہلے لارنس کالج گھوڑا گلی مری کے سالانہ کنووکیشن کے موقع پے ہوا ۔ جس کی صدارت اُس وقت کے گورنر پنجاب شاہد حامد جبکہ مہمانِ خصوصی اُس وقت کے پاکستان میں امریکی سفیر ولیم بی مائلم تھے ۔ اُسی زمانے میں “ تہذیبوں کے ٹکراؤ “ کے نام سے امریکی مصنف ،سمئویل پی ہنٹنگٹن ، کی کتاب تازہ تازہ مارکیٹ میں آئی تھی ۔ ہر طرف اُسی کا شہرہ و چرچا تھا ۔ امریکی سفیر نے اپنے طویل خطاب میں دو تین بار حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عدل و انصاف و طرزِ حکمرانی کا ذکر کیا ۔ بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اب عمر بن عبدالعزیز کے دور جیسا عدل و انصاف اور اِسلام محض کتابوں جبکہ ان جیسے یونیک مسلم رولرز قبروں میں ہیں ۔ اور مجھے فخر ہے کہ میرا ملک ،امریکہ ، عمر بن عبدالعزیر جیسے عدل و انصاف پے گامزن ہے اس لیے ہمیں زوال کا اندیشہ نہیں جس کی پیشن گوئیاں کی جا رہی ہیں ۔ اُن کے خطاب میں طنز بھی تھی ، تفاخر بھی تھا اور ایک سبق بھی ۔
خیرخطیب صاحب نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے متعلق واقعہ یوں بیان کیا کہ مسندِ خلافت پے براجمان ہونے کے بعد اُنہوں نے جس شخص کو صوبے عراق ( جس میں موجودہ عراق ، اردن ، شام اور ایران کے کچھ علاقے بھی شامل تھے ) کا گورنر مقرر کیا اُس کا نام “ سعید” تھا ۔ ظاہر ہے عمر بن عبدالعزیز نے اُسے کسی پیمانے اور معیار کی بنیاد پے ہی گورنر مقرر کیا ہو گا ۔ بہرحال کچھ عرصے بعد جب حضرت عمر بن عبدالعزیز عراق تشریف لے گئے تو اُنہوں نے رعایا یا عام لوگوں سے گورنر سعید کے بارے رائے جاننا چاہی ۔ لوگوں نے گورنر سعید کے متعلق چار شکایات عمر بن عبدالعزیر کے سامنے رکھیں :
1) گورنر صاحب صبح دن چڑھے یعنی دیر سے امورِ رعایا نمٹانے کیلیے گھر سے نکلتے ہیں۔
2) گورنر صاحب رات کو جلدی گھر کا دروازہ بند کر دیتے ہیں ۔ کتنے ہی زور سے کیوں نہ کھٹکھٹایا جائے ہرگز نہیں کھولتے ۔
3) گورنر صاحب مہینے میں ایک دِن چھٹی کرتے ہیں ۔
4) گورنر صاحب رعایا کے امور نپٹاتے نپٹاتے اکثر بے ہوش ہو جاتے ہیں ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے گورنر/نائب ، سعید ، کے خلاف چار شکایات سن کر افسردہ ہو گئے کہ جسے سب سے قابل ،اہل، متقی اور پرہیز گارسمجھ کے اپنا گورنر مقرر کیا تو اسی کے متعلق رعایا کی چار بڑی اور ناقابلِ معافی شکایات ۔ آخر اس 22 لاکھ مربع میل سے زیادہ پے محیط خلافت کا نظام کیسے چلے گا ؟
بہرحال حضرت عمر بن عبدالعزیز نے گورنر سعید کو دربار میں طلب کیا اور رعایا کی موجودگی میں چاروں شکایات ایک ایک کر کے اُس کے سامنے رکھیں ۔
گورنر سعید نے جواباً کہا : “ خلیفتہ المسلمین ! یہ زار ہیں اوراگرانہیں راز ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے تاکہ بھرم قائم رہے ۔”
عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : “ سعید ایسا نہیں ہو سکتا ۔ رعایا کی شکایات کا جواب اسی کے سامنے دینا پڑے گا ۔ کیونکہ یہی عدل و انصاف کا بنیادی تقاضا ہے ۔”
بلآخر گورنر سعید کو نہ چاہتے ہوئے بھی رعایا کی شکایات اور اپنے رازوں کا خلیفہ اور رعایا کی موجودگی میں ایک ایک کر کے جواب دینا پڑا ۔
1) حضور ! “ میری بیوی نہیں ہے نہ ہی گھر میں کوئی نوکر چاکر یا کوئی اور ہے ۔ اس لیے امورِ خانہ داری یعنی کھانا پکاتے ، برتن وغیرہ صاف کرتے ہوئے دیر ہو جاتی ہے ۔ اس لیے گھر سے دیر سے نکلنا میری مجبوری ہے ۔”
2) حضور ! “ میں نے دِن رعایا (حقوق العباد ) کے امور کی بجا آوری کیلیے وقف کیا ہوا ہے جبکہ رات عبادت یا حقوق اللہ کیلیے وقف کی ہوئی ہے ۔ اس لیے رات کو دروازہ جلدی بند کرنا بھی میری مجبوری ہے۔”
3) حضور ! “ میرے پاس کپڑوں کا ایک ہی جوڑا ہے ۔ لہذا مہینے میں ایک دن چھٹی کر کے اُسے دھوتا ہوں ۔ اُس کے سوکھتے سوکھتے دیر ہو جاتی ہے اس لیے ایک دن چھٹی کرنا بھی میری مجبوری ہے ۔”
4) حضور ! “ مجھے قبول اسلام سے پہلے والی اپنی ایک لاپروائی یا غلطی ( معذرت مجھ پوری طرح صحیح یاد نہیں رہی )جب یاد آتی ہے تو خوف سے بے ہوش ہو جاتا ہوں ۔”
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی عوامی نمائندہ ، وزیر مشیر یا حکومتی اہلکار کسی میر اکبر یا کسی اور صاحب کی شکل میں اپنی اصلیت یا ہمیں ہماری اوقات دیکھائے تو دراصل یہ ہم ہی میں سے پردیس میں برتن مانجھنے یا گٹر صاف کرنے والا کوئی ہوتا ہے جو دراصل ہمارے اعمال کی سزا یا ہمارے شعور کا عکس ہوتا ہے ۔ اس لیے اُسے بُرا بھلا کہنے سے مُراد اپنے آپ کو بُرا بھلا کہنا ہے ۔ جب سردار میر اکبر صاحب جیسے لوگ اپنے مقتول بھائی کے سیاسی قتل کے نتیجے میں ماتمی ہمدردی کا ووٹ لے کے آن کی آن میں اس مقام پے پہنچیں گے ، عام آدمی سے ایلیٹ/امیر کلاس یا اشرافیہ میں شمار ہونے لگیں گے تو وہ اسی طرح ہمیں اپنی اوقات دیکھاتے رہیں گے ۔ حالانکہ کسی قریبی بھائی یا عزیز کے قتل یا نا گہانی موت کے نتیجے میں اُسی کے کسی قریبی کو اہلیت یا قابلیت کے مغائر ازرائے ہمدردی رسمی ووٹنگ کے ذریعے قیادت یا نمائندگی کی مسند پے بیٹھانا کونسی دنیا کا معیار یا اصول ہے ۔ ایسا تو صرف قرونِ اولا و وسطیٰ کی شہنشاہیت اور موروثیت میں بطورِ رسمِ تاج پوشی ہوا کرتا تھا ۔
دوسرا آج کی دنیا کا ایک عام سا معروف اُصول ہے کہ تعمیر و ترقی بلدیاتی اداروں ، سٹی ، ٹاؤن یا اربن کاونسلز کی ذریعے کی جاتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی ریاست کے ماتحت ہوتے ہیں ۔ اور ریاست عوامی ٹیکسز کو ترقیاتی فنڈز کی صورت میں تعمیر و ترقی کیلیے ان اداروں کے ذریعے خرچ کرتی ہے ۔ جبکہ ہمارے ہاں سب سے بڑی سیاسی رشوت تو تعمیر و ترقی کے نام سے عوامی و سیاسی نمائندوں کے ذریعے دی جانے والی کالی چٹی ٹینکیاں ، ٹوٹیاں ، کالے پیلے پائپوں کے رول ، آدھا یا پونا کلومیٹر روڑیں ہیں ۔ جنہیں یہ سیاسی نمائندے اپنے کارناموں کے طور پے گنتے اور عوام پے بطورِ احسان جتلاتے ہیں ۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ ہم ہی ہیں جو انہیں امریکہ ، کنییڈا ، یورپ اور گلف سمیت مختلف ملکوں کے دوروں ، دعوتوں پے بولا تے ، اِن کے اعزاز میں پارٹیاں اور عشایے دیتے اور پھر تحفے تحائفوں سے لاد کے واپس بھیجتے ہیں ۔ اور یہ واپس آ کر پریس کانفرنسز کرتے ہیں کہ ہم نے مسلہ کشمیر پے یہ تیر مارا ہے وہ تیر مارا ہے ۔ حالانکہ ان کی اوقات دنیا جانتی ہے ۔ بھلے عمر بن عبدالعزیر یا اُن کے گورنر سعید کی پیروی نہ سہی اگر ہم آج کی دنیا کے چند ایک اصولوں کی پیروی ہی کر لیں تو شاہد ہماری موجودہ حالتِ زار میں بدلاؤ آ جائے ۔لیکن جب تک ہم اس سیاسی نظام پے قابض نسل در نسل موروثیوں کو ہی سیاست و قیادت کا اہل اور اِسے اُن کا خدائی حق سمجھ کے ووٹ کے ذریعے زندہ رکھیں گے ، نو دولتیے ایجنٹوں اور ٹھکیداروں کی دولت و چمک کے سامنے اپنے شعور کا ہتھیار ووٹ کی صورت میں پھینکتے رہیں گے ، روایتی سیاست کے علمبرداروں کے سب سے بڑے ہتھیار و اوزار ٹینکی ٹوٹی ، پائپ کھمبے ، سڑک اور نالی والی سیاست کو ہی قیادت کا پیمانہ بنائے رکھیں گے ۔ عام آدمی کو اس کے متبادل کے طور پے برداشت نہیں کریں گے اُبھرنے نہیں دیں گے ، مروجہ سیاسی نظام کی ایسی تمام آلائشوں اور غلاظتوں کو ووٹ کے ذریعے دفن کرنے کی بجائے زندہ رکھیں گے ۔ تو وقتاً فوقتاً “ تیرا قائد میرا قائد” میں سے ہر ایک کا چھپا میر اکبر سامنا آتا رہے گا اور ہمیں اپنی اوقات یاد دلاتا رہے گا ۔ لہذا سیخ پا ہونے کی بجائے اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کئی اس کچھ کے ذمہ دار ہم خود ہی تو نہیں ، یہ سب کچھ ہم ہی کا عکاس تو نہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں