گلگت بلتستان ۔مسئلے کا واحد حل آزادانہ ریفرنڈم ۔۔۔ تحریر سردار محمد حلیم خان

گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔اس خطے کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت ہمیشہ سے مسلم رہی ہے۔ایک زمانے میں کمیونسٹ سوویت یونین اس سے محض واخان کی پٹی کے فاصلے پر تھا۔ جبکہ اس طرف برطانیہ کی عملداری تھی۔ نومبر 1947 میں مقامی مجاہدین نے ہری سنگھ کی فوج کو مار بھگایا اور 28000 مربع میل کا علاقہ آزاد کروا لیا۔وادی ہنزہ نے تو پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان بھی کر دیا تھا۔لیکن پاکستان و آزاد کشمیر میں اس وقت قائد اعظم اور سردار محمد ابراہیم خان حکمران تھے دونوں ماہرین قانون تھے طے یہ ہوا کہ الگ سے خطے کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کی بجائے پوری ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کے ساتھ اس خطے کا بھی فیصلہ کیا جائے۔دونوں طرف کے قائدین جانتے تھے کہ جزوی الحاق کے نتیجے میں مہاراجہ کے اس الحاق کو تقویت ملے گی جو وہ 26 اکتوبر کو بھارت کے ساتھ کر چکا ہے۔اس لئے 16 نومبر کو دوبارہ اس پر آزاد کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا۔یہ انتظام 28 اپریل 1949 تک چلتا رہا جب معاہدہ کراچی کے ذریعے حکومت آزاد کشمیر نے یہ علاقے عارضی طور پر حکومت پاکستان کے حوالے کیے گے۔خطے کی آبادی اکیاسی لاکھ اور رقبہ72971مربع کلومیٹر ہے۔یہ علاقہ بلتستان گلگت اور دیامر تین ڈویژن پر مشتمل ہےبلتستان ڈویژن سکردو شگر کھر منگ روندو گانچھے پر مشتمل ہے سیاہ چن گلیشیئر بھی اسی ڈویژن میں آتا ہےگلگت ڈویژن میں گلگت غذر ہنزہ اور نگر کے اضلاع جبکہ دیامر میں دار یل تانگیر اور استور کے اضلاع شامل ہیں۔ پاکستان کی قانونی پوزیشن یہ بنتی ہے کہ یہ علاقے نہ تو پاکستان نے جنگ میں فتح کیے نہ تقسیم برصغیر کے تحت پاکستان کے حصے میں آتے تھے۔پاکستان صرف اس امانت کا امانتدار ہے جو آزاد حکومت نے اس کے حوالے کی۔اب معاہدہ کراچی پاکستان خود بخود ختم کر کے یہ علاقے اپنا صوبہ قرار دے دے تو ایک تو کشمیری عوام کے ساتھ وعدے کی خلاف ورزی ہو گی اور دوسرا یہ قدم پاکستان کی ہندوستان پرستر سالہ اخلاقی اور قانونی برتری کو ختم کر دے گا۔اخر ایک ایسا خطہ جس کے عوام کی بھاری اکثریت پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کرتی اور اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنا چاہتی ہے اس کے عوام کی رائے معلوم کیے بغیر محلاتی سازشوں والا طریقہ کار کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟اگر عوام کی مرضی معلوم کیے بغیر یا پھر کسی اسمبلی کے ذریعے جو تعمیر و ترقی کے لئے وجود میں آئی ہو الحاق کا ٹھپہ لگانا ہے تو یہ کام بھارت 1954 میں کر چکا ہے۔
اس سارے عمل میں جو چیز سب سے زیادہ قابل اعتراض ہے وہ یہ کہ صوبہ بنانے کی تحریک پاکستان کی سول اور خاکی بیوروکریسی کی طرف سے آ رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کی بیورو کریسی کو یہ فیصلے کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ستر سال سے لاکھوں مسلمانوں کی قربانی تو دی ہی اس بنیاد پر گئی کہ ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیا جائے۔اگر آج گلگت والوں کی قسمت کا فیصلہ اسلام اباد کے کسی ڈرائنگ روم میں ہونا درست ہے تو ہندوستان کی طرف سے یکطرفہ فیصلوں کے خلاف آواز اٹھانے کا کیا اخلاقی اور قانونی جواز رہ جائے گا؟
اگر خدانخواستہ انڈیا حملہ کر دے تو پھر عسکری قیادت کی بریفنگ سمجھ میں آتی ہے یا عسکری قیادت نے یہ علاقے انڈیا سے چھینے ہوں تو بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن خالصتا سیاسی اور قانونی معاملات میں فوج کو ملوث کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟
شنید ہے کہ سراج الحق صاحب کے علاوہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کے دعویدار پارلیمانی رہنماؤں نے عسکری قیادت کی خوشنودی کے لئے صرف ہاں میں سر ہلایا کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں تھی کہ سیاسی معاملے پر فوجی بریفنگ پر اعتراض کرتا یا اس کا اظہار کرتا کہ ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے یہ فیصلہ تو وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔
غیر سیاسی لوگوں کے عاقبت نااندیشانہ فیصلوں اور سیاسی قیادت کی ان کے سامنے بھیگی بلی بن کر ہاں میں ہاں ملانے کی روش سے پہلے بھی پاکستان کو سخت نقصان پہنچا ہے اور ایسے کسی یکطرفہ اور طاقت کے ذریعے کیے گے فیصلے کو کشمیر کے کسی بھی حصے میں قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ 5 اگست کے بعد پاکستان کی طرف سے جرات مندانہ اقدامات کی بجائے زبانی جمع خرچ سے مایوس عوام میں مزید مایوسی پھیلائے گا۔آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں قیادت کا خلا ایک دفعہ پھر سامنے آیا ہے کوئی پارٹی اتنے بڑے مجوزہ بلنڈرکے خلاف عوام میں نہیں گئی فوری ردعمل نہیں ایا۔قیادت کا یہ بحران بھی کشمیریوں کی ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ہماری نظر میں پاکستان کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے آزاد کشمیر اسمبلی اور گلگت بلتستان کے عوام سے منظوری لینے کا پابند ہے۔کیونکہ پاکستان معاہدہ کراچی میں ان علاقوں کو ازاد کشمیر کا حصہ تسلیم کر چکا ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی اپنے ایک حصے میں ریفرنڈم کی اجازت دے تو پاکستان اس تجویز کو ریفرنڈم کے لئے گلگت بلتستان کے عوام کے پاس لے جائے اگر عوام کی اکثریت ریاست کے حتمی حل تک پاکستان کا صوبہ بننے کے حق میں رائے دے تو صوبہ بنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر عوام آزاد کشمیر کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں تو پاکستان کو ان کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔جب عوام فیصلہ کر لیں اس کے بعد بھی وہاں کی اسمبلی قواعد و ضوابط طے کرے کہ یہ الحاق کن شرائط کے ساتھ کن امور میں ہو گا۔اگر پاکستان کی طرف سے اس ترتیب کے ساتھ عوام کی رائے کا احترام کیا جائے تویہ عمل مقبوضہ کشمیر میں بھی حق خود ارادیت مہم کے لئے مہمیز کا کام دے گا اور دنیا کے سامنے بھارت پہ دباو پڑے گا کہ وہ اسی انداز میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی رائے معلوم کرے اور اسے تسلیم کرے۔
یاد رکھیں مشرف نے جب اپنے شہریوں پہ بمباری کی تو پاکستان اخلاقی طور پر بھارت کو بمباری سے روکنے کے قابل نہ رہا اسی طرح عوام کی رائے معلوم کیے بغیر طاقت کے زور پر گلگت بلتستان کو اپنے ساتھ ملانے کے بعد 5 اگست کے اقدامات کی مخالفت کا پاکستان کے پاس کیا جواز رہ جائے گا؟
ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا وہی فیصلہ قابل قبول اور پائدار ہو گا جو عوام کی مرضی سے ہو گا۔اس سے ہٹ کر کیا گیا فیصلہ پاکستان تحریک آزادی کشمیر اور گلگت بلتستان کےلئے سخت نقصان دہ ہو گا

اپنا تبصرہ بھیجیں