مرحوم قاری ارشاد صاحب تھوراڑ کی خدمات

مرحوم قاری ارشاد صاحب مولانا پروفیسر عبدالرزاق صاحب کے چھوٹے بھائی تھے ۔ قاری صاحب نے قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد مرکزی مکی جامع مسجد تھوراڑ میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانا شروع کیا اور رمضان میں نماز تراویح بھی مکی جامع مسجد میں پڑھاتے تھے اس دور میں ایک ہی جگہ پر نماز تراویح کا اہتمام ہوتا تھا کیونکہ اتنے حافظ قرآن موجود نہیں تھے تھوراڑ مسجد کے جتنے بھی قریب ترین علاقے . تھے وہ سب لوگ اسی مرکزی مسجد میں لال ٹین یعنی بتی کی روشنی میں آکر نماز تراویح ادا کرتے تھے اور مسجد کی طرف آتے جاتے وقت لا الہ الا اللہ کا بلند آواز میں سب لوگ ذکر کرتے تھے قاری ارشاد صاحب قرآن سناتے تھے اور سننے والے قاری سید الرحمان صاحب اندروٹ مولانا عطر صاحب کے بیٹے تھے اور اگر قاری سعید الرحمن صاحب مصروف ہو ں تو قاری سلیم صاحب راولاکوٹ سے آتے تھے کبھی کبھار قرآن سننے کے لیے کیونکہ ایک قاری آگے قرآن سناتے ہیں اور دوسرے قاری پیچھے صف میں سنتے ہیں تاکہ قرآن پاک پڑھنے میں کوئی غلطی نہ ہو جائے قاری ارشاد صاحب نے تقریبا 16 17 سال تھوراڑ مرکزی جامع مسجد میں نماز تراویح پڑھائی ہے اور قاری ارشاد صاحب کی مسجد کے لیے بھی بڑی خدمات ہیں قاری حنیف صاحب بھی ایک اور قاری صاحب تھے درمیانہ قد کے میں نام بھول گیا ان لوگوں نے بھی اپنی خدمات دی ہیں مکی جامع مسجد تھوراڑ میں اور لوگ بھی جو مسجد میں اپنی خدمات دے چکے ہیں یا ابھی تک دے رہے ہیں اللہ تعالی ان سب لوگوں کو اجر عظیم عطا فرمائے 1970میں مولانا عبدالعزیز صاحب کی سرپرستی میں قاری ارشاد صاحب نے قرآن پاک حفظ کی کلاسیں بھی شروع کی اس دور میں قبرستان کی طرف سے بھی مسجد کے اندر آنے کے لئے راستہ تھا مگر بعد میں جب بچیوں کے لیے مدرسے کی بلڈنگ بنیں تو یہ راستہ بند ہوگیا بچوں کےحفظ کرنے کے لئے جس طرف اب وضو کی جگہ بنی ہوئی ہے اس سائٹ میں تین چار کمرے بنے ہوئے تھے اور مسجد کے اندر حال میں بھی حفظ کی کلاس ہواکرتی تھی قاری ارشاد صاحب کے ناظرےاورحفظ کے بے شمار شاگرد ہیں اور بعد میں قاری ارشاد صاحب نے ہائی سکول تھوراڑ میں 28 29 سال مدرس بھی رہے تبلیغی جماعت کے ساتھ سالانہ چلہ بھی لگاتے رہے چالیس دن کے لیے اور 1990 سے لے کر 2009 تک ہر سال چالیس دن کا تبلیغی جماعت کے ساتھ چلہ لگاتے رہے اور تھوراڑ تبلیغی جماعت کے امیر بھی رہے 19_20 سال تک قاری صاحب نے لوگوں کے گھروں کی تعمیر بھی کرا نی شروع کر دی اور کئی لوگوں کو گھر تعمیر کر کے دیے تھوراڑ یادگار شہداء بھی قاری صاحب نے تعمیر کی تھوراڑ ریسٹ ہاوس کی بلڈنگ بھی قاری صاحب نے تعمیر کی کالج والی مسجد میرے مرحوم چچا اشرف خان نے قاری ارشاد صاحب سے تعمیر کروائی اور اسی مسجد میں قاری ارشاد صاحب خطیب اور امام بھی رہے قاری صاحب بیمار ہوگئے چل پھرنہیں سکتے تھے تو اب اسی کالج والی مسجد میں قاری صاحب کے بھتیجے مولانا جلیس خطیب اور امام مسجد بھی ہیں تھوراڑ شہداء کمیٹی کی طرف سے یادگار کی تعمیر و خدمات دینیہ پر ایک یادگار شیلٹ بدست وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات نے 5 اکتوبر 2002 کو قاری ارشاد صاحب کو دی قاری ارشاد صاحب 2015 .7۔23 کو ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہماری دعا ہے قاری ارشاد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی و ارفع مقام عطا فرمائے آمین .
تحریر سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص
2021۔1۔25

اپنا تبصرہ بھیجیں