قاری حنیف عزیز آبادتھوراڑ

قاری حنیف سابقہ نام کس بازار موجودہ نام عزیزآباد تھب تھوراڑ کے رہنے والے تھے تھوراڑ کے مشہور و معروف کہیں شخصیات محترم قاری حنیف کے شاگرد ہیں 1961یا 1962تھوراڑ مرکزی جامع مسجد مدرسہ تعلیم القران میں درس قرآن دینا شروع کیا اس وقت تھوراڑ مدرسہ میں قرآن حفظ کرانے کا کوئی خاص انتظام نہ تھا البتہ ناظرہ کی کلاس ہوا کرتی تھی قاری حنیف تھوراڑ مسجد میں زیادہ عرصہ نہیں رہے اسی دوران وہ اپنے شاگردوں سمیت 1962یا 1963میں دارالعلوم اسلامیہ تعلیم القرآن پلندری چلے گئے اس وقت ان کے ساتھ جو شاگردگئےان میں مشہور و معروف مفتی خادم حسین خان عزیز آباد تھوراڑ مرحوم قاری ارشادتھوراڑقاری جمیل سر ینہ گلہ قاری سعید الرحمان اندروٹ بقول مفتی خادم حسین خان کے ہمارے ساتھ تھوراڑ کے دو اور نوجوان بھی ساتھ تھے مرحوم سردار قاسم خان ولد شالم خان تھوراڑ سردار حنیف خان تھوراڑ یہ انسپکٹر یوسف کے چھوٹے بھائی تھے یہ دونوں بھی ساتھ تھے مگر چھوٹے ہونے کی وجہ سے قرآن پاک حفظ کرنے کی مشق نہ کرسکتے تھے تو یہ دونوں واپس آ گئے تھے بقول مفتی خادم حسین ہم چاروں نے یعنی مفتی خادم حسین خان قاری ارشاد قاری جمیل قاری سعید الرحمان ان سب نے پلندری مدرسہ سے مرحوم قاری حنیف سے قرآن پاک حفظ کیا قرآن پاک حفظ کرنا اور حفظ کرانا یہ آسان کام نہیں ہے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے استاد اور شاگرد کو تب جا کے استاد اور شاگرد آپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں قاری حنیف ایک بڑی شخصیت تھے کبھی انہوں نے اپنے آپ کو نمایاں کرکے پیش کرنے کی کوشش نہیں کی یہ تو چند افراد جو تھوراڑ کے تھے ان کا ذکر میں نے کیا اور کتنے ہی شاگرد ان کے ہوں گے جو مولانا مفتی قاری قرآن حافظ ہوں گے لیکن ہمیں معلوم نہیں کیونکہ محترم قاری حنیف زیادہ عرصہ پلندری اور راولاکوٹ مرکزی جامع مسجد میں رہے ہیں تھوراڑ میں ایک سال یا اس سے زیادہ کچھ عرصہ رہے ہوں گے 1961یا ایک آدھا سال آگے پیچھے بھی ہو سکتا ہے بقول مفتی خادم حسین خان کے مولانا پروفیسر عبدالرزاق بھی قاری حنیف سے قرآن پاک ناظرہ کی مشق کرتے تھے جب گورنمنٹ آزاد کشمیر نے سکولوں میں قرآن پاک ناظرہ پڑھنا لازمی قرار دیا تو آپ کا بھی تقرر بطور مدرس راولاکوٹ پائلٹ ہائی سکول میں ہوا کچھ عرصہ پائلٹ ہائی سکول میں فرائض انجام دینے کے بعد آپ کا تبادلہ تھوراڑ بوسہ گلہ ہائی سکول میں ہوا اورپھرساری سروس بوسہ گلہ ہائ اسکول میں ہی مکمل کر کے 29 یا 30 سال کے بعد ریٹائر ہوئے کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد 21 اپریل 2018 کو محترم قاری حنیف ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہماری دعا ہے اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین .
تحریر : سردار مصطفی خان تعصیل تھوراڑ خاص

اپنا تبصرہ بھیجیں