مولانا پروفیسر عبدالرزاق تھوراڑ شیخ القبیلہ سدھن قبائل

مولانا پروفیسر عبدالرزاق تھوراڑ شیخ القبیلہ سدھن قبائل

مولانا پروفیسر عبدالرزاق اس وقت مرکزی جامع مسجد مکی تھوراڑ کے سرپرست اعلیٰ و خطیب امام مسجد ہیں مولانا پروفیسر عبدالرزاق جامع اسلامی مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں 1980 میں مولانا پروفیسر عبدالرزاق تعلیم مکمل کرکے اپنے وطن تشریف لائے تو پاکستان فیصل آباد ایک یونیورسٹی میں ایک سال تک اپنے فرائض انجام دیتے رہے اس کے بعد آزاد کشمیر یونیورسٹی میں بھی ایک سال تک اپنے فرائض انجام دیے اور راولاکوٹ مرکزی جامع مسجد کے خطیب و امام بھی عرصہ دو سال تک رہے اس کے بعد مولانا عبدالعزیز بوائز انٹر کالج تھوراڑ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تقریبا 19 سال یا اس سے زیادہ عرصہ آپ اپنے فرائض انجام دیتے رہے اسی دوران 1984 میں مولانا عبد العزیز تھوراڑوی نے آپ کو کہا اب آپ مدرسہ اور مسجد کی طرف بھی توجہ دیں کیونکہ مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی کو بھی اپنا جانشین چاہیے تھا 1984 میں ہی مولانا عبد العزیز تھوراڑوی نے مسجد اور مدرسے کے تمام اختیارات آپ کو دے دیے اور خود سرپرست اعلی کی حیثیت سے مسجد اور مدرسہ پر اپنی نظر رکھی کہ میرے بعد مسجد اور مدرسے کا نظم و نسق کیسے چلے گا کیوں کہ جو دور اندیش سوچ رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں وہ آنے والے وقت کے لئے سوچ بچار کرتے ہیں کل جو گزر گیا اس کے بارے میں کم توجہ دیتے ہیں مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی کی اپنی جانشینی کا انتخاب ایسا درست ثابت ہوا شاید آنے والے دور میں تھوراڑ کی تاریخ میں ایسی مثال نہ ملے مولانا پروفیسر عبدالرزاق جس دانشمندی کے ساتھ مسجد اور مدرسے کا نظام اس وقت تک چلا رہے ہیں قابل تعریف ہے مولانا عبدالعزیز صاحب کے دور میں مسجد کی چھت ٹین کی چادروں سے بنی ہوئی تھی مسجد کی لمبائی اور چوڑائی پہلے بھی اتنی ہی تھی جتنی اب ہے صرف مدرسوں کا اضافہ ہوا تھوراڑ اور تھوراڑ کے گردونواح کے علاقوں کی آبادی کا تناسب جب بڑھنے لگا تو مولانا پروفیسر عبدالرزاق صاحب نے سوچا کہ مسجد کی چھت اب لینٹر والی ہونی چاہیے مسجد کی انتظامی کمیٹی اور معززین علاقہ تھوراڑ سے صلاح و مشورے کے بعد یہ طے ہوا کہ مسجد کی چھت پر دو حصوں میں لینٹر ڈالا جائے گا پہلے باہر صحن میں پھر مسجد کے اندر ھال کی چھت پر لینٹر ڈالا جائے گا مگر یہ فیصلہ بھی ہوا جب تک چھت پر آنے والے اخراجات کی رقم کا بندوبست نہ ہو جائے اس وقت تک مسجد کی چھت کے ساتھ کسی قسم کی بھی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے کیونکہ لنٹر کی چوڑائی اور لمبائی بہت زیادہ تھی رقم کا بندوبست ہو جانے پر باہرصحن پر پہلے لنٹر ڈالا گیا اس کے بعد 1998 یا 1999 میں مزید رقم کا بندوبست ہو جانے پر مسجد کے اندر ھال پر لینٹر ڈالا گیا جس کی لمبائی تقریبا 90 فٹ اور چوڑائی 43 فٹ ہے یوں مسجد کی پہلی منزل مکمل ہوئی اب تو ماشاءاللہ تین منزلیں مکمل ہو چکی ہیں تیسری منزل پر اب بھی چھوٹا موٹا کام باقی ہے سننے میں آیا ہے تیسری منزل پر دیوار کی جگہ چاروں طرف کلاس یعنی شیشے کی دیوار لگائی جائے گی مسجد کے لئے تھوراڑ اور تھوراڑ کے گردونواح کے علاقوں کے علاوہ تھوراڑ سے باہر کے لوگوں نے بھی دل کھول کر عطیات دیے خاص کر اوورسیز حضرات کا بہت ائیم رول ہے مسجد کی نئی اور جدید تعمیر انتظامی کمیٹی اور مولانا پروفیسر عبدالرزاق کی زیر سرپرستی اور زیر نگرانی میں ہوئی ہے یوں تو شروع سے ہی مسجد میں ناظرےکی کلاسیں ہوا کرتی تھی 1962 میں مولانا عبدالعزیز صاحب نے مسجد اور مدرسہ کورنمنٹ آزاد کشمیر کے پاس رجسٹر کرایا اور 1970 میں مولانا عبدالعزیز صاحب نے محروم قاری ارشاد صاحب سے باقاعدہ حفظ کی کلاسیں شروع کروائیں مگر 1984 کے بعد مولانا پروفیسر عبدالرزاق صاحب نے مدرسہ پر خصوصی توجہ دی بچوں اور بچیوں کے لیے الگ الگ مدرسہ بلڈنگ بنوائیں قرآن کریم حفظ کر انے کے ساتھ ساتھ بچوں اور بچیوں کے لئے دینی تعلیمات کا بھی بندوبست کیا یعنی مولوی قاری عالموں کا کورس بچوں کے لیے 7 سات درجے تک اور بچیوں کے لیے آخری درجہ تک جامعہ خدیجہ الکبری للبنات تھوراڑ کو وفاق المدارس کا درجہ ملا ہوا ہے بچیاں یہاں سے ہی عالمہ کا کورس مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوتی ہیں 1984 سے لے کر 2020 تک تھوراڑ اور تھوراڑ کے گردونواح علاقوں کے 900 سو بچوں اور بچیوں نے قرآن پاک حفظ کیا ہے جو بچے اور بچیوں دینی کتابیں پڑھ چکے ہیں ان کی تعداد میرے علم میں نہیں ہے آج تھوراڑ اور تھوراڑ کے گردونواح کے علاقوں سے ایک گھر چھوڑ کر دوسرے گھر میں آپ کو بچہ یا بچی حافظ قرآن مولانا پروفیسر عبدالرزاق صاحب کی بدولت ملیں گے مولانا پروفیسر عبدالرزاق صاحب تھوراڑ کے سماجی اور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں 2018 میں شیخ التفسیر مولانا اسحاق مدنی منگ والوں کی وفات کے بعد مولانا پروفیسر عبدالرزاق خان کو سدوزئی قبیلہ کے لوئیہ جرگہ سدوزئی ٹرائیبل کونسل نے شیخ القبیلہ تاحیات نامزد کیا آپ کی دستار بندی 2018۔10۔28 کو شہیدوں غازیوں کی سرزمین ضلع سدھنوتی کے پرفضا مقام پلندری ریسٹ ہاؤس میں ہوئی دستار بندی کی تقریب میں بلوچستان سے لے کر آزاد کشمیر تک سدوزئی ٹرائیبل کونسل کے ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی . دعا ہے مولانا پروفیسر عبدالرزاق صاحب کو صحت اور تندرستی والی لمبی زندگی عطا کرے آمین .
تحریر سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص
2021۔1۔19

اپنا تبصرہ بھیجیں