کھایا نہ پیا گلاس توڑا بارہ آنے۔۔۔تحریر: سردار محمد حلیم خان

کھایا نہ پیا گلاس توڑا بارہ آنے کی ضرب المثل پیپلز پارٹی کے حالیہ اجلاس اور فیصلوں کے بعد مولانا فضل الرحمان صاحب پر صادق آتی ہے۔مولانا نے اپنی جماعت کے مخلص ساتھیوں کے مشوروں کو نظر انداز کیا۔سیاسی بصیرت اور علماء کرام کی ساکھ کو داو پہ لگایا اور ایسی بازی کھیلی جس میں اب ان کی حالت یہ ہے نہ ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔مولانا کی غلطی یہ نہیں کہ وہ حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔یہ بھی نہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہے ہیں ان سے دو غلطیاں ہوئی ہیں۔پہلی غلطی یہ کہ وہ بار بار ڈسےجانے کے باوجود یہ سمجھ بیٹھے کہ پی پی اور ن لیگ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔دوسری غلطی یہ کہ انھوں نے زبان و بیان اور داو پیچ عین وہی اختیار کیے جو ایک دینی جماعت کے سربراہ کے طور پر ان کی شخصیت کوبٹہ لگانے کا باعث بنے۔بار بار بدلتے بیانات دعوے اور عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھنا صرف پاور کالٹیکس کرنے والی جماعت کو بھی زیب نہیں دیتا۔جس مغربی کلچر کے جمہوری رویوں کا ہمارے ہاں حوالہ دیا جاتا ہے اس میں غلط بیانی پہ بڑے سے بڑے عہدیدار کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔مشہور زمانہ واٹر گیٹ سکینڈل اسی کی مثال تو ہے۔لیکن ہمارے ہاں جھوٹ الزام و وشنام طرازی ایک عام چلن ہے اس پر لیڈروں کو کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔حد یہ ہے کہ اصول پسند کہلائے جانے والے جسٹس فائز عیسی نے بھی ٹیکس چھپانے کے لئے حیلہ سازی کی۔آپ کسی لیڈر کے خلاف عدالت چلے جائیں اس کے جھوٹ یا جھوٹے وعدے پہ کاروائی کا مطالبہ کر کے دیکھیں کوئی جج صحافی یا وکیل آپ کو سیریس نہیں لے گا۔ایسے معاشرے میں دینی جماعتیں جب مروجہ سیاسی کلچر میں آلودہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ کسی اتحاد میں شامل ہوتی ہیں تو ان کے اجلے دامن پر چھینٹے ضرور پڑتے ہیں۔مولانا کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ان کو پہلے یہ کہا گیا حکومت مارچ بیس میں ختم ہو جائیگی مولانا نے پورے اعتماد سے یہ بات پھیلا دی ۔پھر دعوی کیا حکومت دسمبر نہیں دیکھے گی۔کبھی کہا گیا دسمبر اخری ہے پی ڈی ایم میں ان کو آگے لگا کر پیپپلز پارٹی اور ں لیگ نے ایسے ہی انتہائ قسم کے اعلانات کروائے اسٹیبلشمنٹ کو ڈرا دھمکا کر اپنا کام نکالا۔ ایسے دعووں کی ناکامی سے لبرل جماعتوں کو کوئی فرق نہیں پرتا لیکن مولانا تو دینی رہنما ہیں عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ جو کہتے ہیں وہی حق ہے لیکن اے بسا آرزو ارزوکہ کہ خاک شدہ۔ پی پی اس وقت واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ کے صفحے پر آچکی ہے ن لیگ کا شہبازشریف دھڑا بھی مفاہمتی راستے پر ہے۔عین اس لمحہ جب مولانا حکومتی قلعے کے گیٹ پر چڑھ کر اس کو پھلانگنے کے لئے پر تول رہے تھے پیپپلز پارٹی نے ان کے نیچے سے سیڑھی کھسکا دی۔بہت جلد ن لیگ پینترا بدل کر یہی کھیل کھیلنے والی ہے کہا جائے گا یہ شہبازشریف کی پالیسی ہے لیکن دراصل پوری جماعت شہباز کے پیچھے پیچھے ہو گی۔ عنقریب وہ منطر دیکھنے والا ہو گا جب پی پی اور ن لیگ ضمنی الیکشن مین بھی حصہ لے رہے ہون گے اور سینیٹ الیکشن میں بھی۔جبکہ مولانا بلوچسستان میں اپنی پوزیشن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ پچھلے ایک سال کی مشقت میں مولانا کے ہاتھ کیا آیا۔وہ طلباء جنہیں اپنی دینی تعلیم پر توجہ دینی تھی وہ پورے پاکستان میں جلسوں کو کامیاب کروانے میں وقت برباد کرتے رہے۔دینی جماعت کے کارکنان جنہیں سوشل میڈیا پر دین اسلام کی ترویج کرنی چاہیے تھی اور لبرل انتہا پسندوں کے اشکالات کا جواب دینا تھا پیپلز پارٹی ن لیگ اور اے این پی کے وکیل صفائی بنے رہے۔تو مولانا کو کیا ملا؟
ہمارے خیال میں تو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا راستہ زیادہ درست ثابت ہوا کہ لبرل جماعتوں کو طاقت فراہم کیے بغیر حکومتی پالیسیوں ناکامیوں اور نا آپ کیوں کو بے نقاب کرتے رہے۔
ہمارے خیال میں مولانا یہ ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہی ہو گیا کھایا نہ پیا گلاس توڑا بارہ آنے۔
مولانا حکومت کے خلاف ضرور تحریک چلائیں یہ ناکام ترین حکومت ہے جس کے دامن میں ڈھائی سال گزرنے کے باوجود کوئی ایک بھی کامیابی نہیں جسے عوام کے سامنے رکھ سکیں اس کے مقابلے میں مہنگائی سے لیکر معاشی اور داخلہ پالیسیوں کے ہر محاذ پر ناکام ہے۔کسی حد تک عمران خان کا بھرم باقی ہے لیکن ان کی ٹیم میں ایک بھی ایسا ادمی نہیں جو معتبر کہا جا سکے۔جو ہیں وہ سائیڈ لائن کر دیے گے ہیں۔لیکن تحریک کے نام پر پھر سے اسٹیبلشمنٹ سے مدد مانگنا ان پر مداخلت کے لئے دباو ڈالنا اس دعوے کی نفی ہے کہ یہ سول بالا دستی کی تحریک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں