غریبوں کی چیخیں آسمان تک توسنائی دے رہی ہیں لیکن اسلام آباد بہرہ بنا ہوا ہے….تحریر: رفعت رشید عباسی

کہتے ہیں کہ کسی شہر میں گردوں کی بیماری اور سرجری کے حوالے سے بہت خوف پایا جاتا تھا۔
اتفاق سے جو ڈاکٹر صاحب اس علاقے میں تعینات ہوئے وہ بھی اس کے اثرات سے خود کو نہ بچا سکے۔ایک مریض کا آپریشن کرکےجب وہ باہر آئے تو مریض کے اہل خانہ ان کی جانب لپکے اور مریض کا حال احوال پوچھنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب نے خوشخبری سنائی کہ گردوں کا آپریشن کامیاب ہو گیا ہے
جس پر سب نے خوشی کا اظہار کیا اور ایک صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ مریض اب کیسا ہے ؟اس پر ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا”مر۔۔۔۔یض ….. وہ تو مر گیا ” کچھ یہی حال ہماری حکومت کا بھی ہے

پاکستان میں مہنگائی سے عام آدمی بری طرح متاثر ہو رہا ہے
پاکستان میں مہنگائی سے عام آدمی بری طرح متاثر ہو رہا ہے

معیشت ٹھیک کرنے کے چکر میں قوم کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے غریبوں کی چیخیں آسمان تک توسنائی دے رہی ہیں لیکن اسلام آباد بہرہ بنا ہوا ہے۔ اور لگتا ہے کسی دن حکومت خوشخبری سنائے گی کہ معیشت ٹھیک ہوگی ہے
لیکن اس وقت تک غربت کے مارے ہوئے موت کے منہ میں جا چکے ہوں گے ۔

حکمرانو! خدا کا خوف کرو، غریب کی آہ سے ڈرو
وہ غریب جسے اس کی کوئی خبرنہیں ہے کہ ڈالر کتنے روپے کا ہو گیا ہے۔ پی سی آئی ، جی ڈی پی ، افراط زر، رسد طلب، خسارہ، کساد بازاری سٹاک ایکس چینچ، ایف بی آر، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، ٹیکس ٹیکس ٹیکس۔ آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف ، ورلڈ بینک ، بینک بینک بینک  اندرونی قرضے، بیرونی قرضے، پوشیدہ قرضے، اعلانیہ قرضے۔ یہ سب کیا بلائیں ہیں۔

ہاں البتہ وہ ایک چیز کا تعارف خوب رکھتا ہے اور وہ ہے “مہنگائی”
جس کی وجہ سے اسے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ دن رات مشقت کاٹتا ہے بس بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بچنے کے لیے خان صاحب !یہ معیشت کے اصول، یہ مجبوریاں، یہ بندشیں، سب اپنی جگہ لیکن بھوک اور موت ان سب سے بڑی حقیقت ہیں ان روائیتی قاعدے ضابطوں میں پڑ کر غریبوں کو بے موت مرنے کے لیے بے بس نہ چھوڑیں غریب کو ہر لمحے بھوک اور موت کے ڈر کے سائے میں سسک سسک کے جینے کے عذاب سے تو آزاد کروائیں۔

اس کی چند بنیادی ضرورتوں کی قیمتیں تو دو سال کے لئے متعین کر دیں۔ اسے عالمی منڈی، ڈالر، قرضوں اور دیگر سے مشروط نہ کریں۔ اس کے نتیجےمیں جو بوجھ پڑے وہ حکمران اور امیر طبقہ اٹھائے۔جیسے چند دالیں (ساری نہیں) ، آٹا، مصالحے، سبزی گیس اور بجلی بس ( گوشت ، مرغی رہنے دیں ، غریب کو عید پر کوئی گوشت بھجوا دے گا تو اس کے بچوں کو اس کا ذائقہ بھی معلوم ہو جائے گا اور تعارف بھی، والد انہیں بتا پائے گا کہ یہ بھی ایک چیز ہے کھانے کی جسے اللہ نے تو ہمارے لیے حلال قرار دیا ہے لیکن اس ظالم نظام نے ہم سے چھین لیا ہے) ۔

چینی رہنے دیں اور
علاج اور تعلیم بھی رہنے دیں ، معیشت جو بہت کمزور ہے
تحفظ۔۔۔ تو غریب کے پاس ہے کیا کہ اس کے تحفظ پر خواہ مخواہ خرچہ کیا جائے
 عزت ۔۔۔ تو غریب کی اتنی عزت کم ہے کیا کہ آپ اس سے پوچھ کر حکمران بنے ہیں اور ہر پانچ سال بعد اس سے اگلے حکمران کی منظوری لی جاتی ہے ووٹ کی پرچی کے ذریعے سب رہنے دیں بس
غریب کو اس وقت دو روٹیوں کی ضرورت ہے اگر وہ آسانی سے مل جائیں تو اسے زندگی کی سب سے بڑی راحت نصیب ہو جائے گی۔

اس بنیادی ضرورت کو تو اس کی دسترس میں دے دیں۔ اس کی زندگی کی اس سب سے بڑی آزمائش سے تو اس کی جان چھڑا دیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں