پونچھ کے پانیوں سے نیلم کے پانیوں تک

تحریر:سردار کامران غلام
یہ وقت کی ستم ظریفی ہے، ہماری نا اہلی یا تاریخ سے نابلدی، ہمارے پالیسی سازوں کا قصور، ہمارے نصاب ترتیب دینے والوں یا پھر غلامی میں قومیں اپنی تاریخ، اپنے ورثے، ثقافت اور زبان سب کو بھول جاتے ہیں۔ غلامی بھی اپنے اندر ایک آفاقیت رکھتی ہے، یہ جہاں جہاں اپنے پر پھیلاتی ہے، اُس کے اندھیروں میں صرف اور صرف آزاد قوموں کی تاریخ نظر آتی ہے جبکہ اپنے اردگرد دور تک پھیلا ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرااُسے کچھ دیکھنے نہیں دیتا۔
ہم پوری دنیا کی تاریخ سے آگاہی تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اپنی تاریخ و ثقافت ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ ہمارے ہاں کشمیریات کسی بھی تعلیمی سطح پر نہیں پڑھائی جاتی، ماسوائے یونیورسٹی کے چند شعبوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ راقم الحروف کو اس بات کا ادراک اُس وقت ہوا جب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ راولاکوٹ کا ایک تفریحی دورہ لے کر اپنے ساتھی پروفیسر اشتیاق احمد اور پروفیسر خالد اکبر کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی جانے کا موقع ملا۔ وہاں پر راولاکوٹ کی دھرتی کے د و پروفیسرز نے ہمارا استقبال کیا۔ جن میں پروفیسر اصغر صاحب اور پروفیسر سعید صاحب شامل تھے۔ پروفیسر اصغر صاحب نے ہمیں شعبہ کشمیریات کا دورہ کروایا، اُس وقت تک ہماری آزاد کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ کشمیریات نہ تھا، حیرانی ہوئی کہ کشمیرکے اندر کشمیر کی جامعہ میں شعبہ کشمیریات نہ تھاجبکہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ کشمیریات تھا۔ خیر یہ خوشگوار حیرانی تھی۔ اب تو جامعہ کشمیر میں شعبہ کشمیریات موجود ہے۔ اندازہ تو اُس وقت بھی ہمیں خوب ہوا تھا جب آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے انٹرویوز کی تیاری کیلئے چٹھی میں کشمیریات کے نمبرز بھی شامل تھے مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ قاعدہ سے لے کر ایم اے تک کشمیر کی کوئی بھی چیز ہماری آنکھوں کے سامنے سے نہیں گزری ہوتی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے تمام سکولز و کالجز میں کشمیریات کا کوئی حصہ نمایاں طور پر شامل نہ ہے۔ تھوڑی تھوڑی باتیں شائد ہوتی ہوں مگر کیمبرج، آکسفورڈ اور مختلف قسم کے سلیبسز تو پڑھائے جاتے ہیں مگر کشمیریات کا کہیں کوئی ذکر نہیں آتا۔پھر ہوتا یوں ہے کہ جب ہمارے منتخب وزرائے اعظم کشمیر کو لے کر آنسو بہاتے ہیں تو ہماری تمام تر نسل حیران و پریشان اُسی طرح ہوتی ہے جس طرح پبلک سروس کمیشن کی جاری کر دہ چٹھی کو دیکھتے ہوئے کشمیریات میں آزمایا جانے والا اُمیدوار حیران ہوتاہے۔ اب دیکھ لیجیے کہ جو کشمیر کو دلچسپی کے طور پر دیکھے گا تو خود سے مطالعہ کرے گا وہ تو کشمیر سے واقفیت رکھ سکتاہے مگر یہ بھولا بسرا مضمون، بھولی بسری قوم کی طرح ہی ہے۔
“کتاب کا کفن”کرشن چندر کی ایک شاہکار افسانوں پر مبنی کتاب ہے جس کا ایک افسانہ ” جرا جری” یعنی “چھوٹا اور چھوٹی “ہے۔ کرشن چندر کسی تعارف کے محتاج نہیں، انہوں نے پونچھ کے پانیوں کو اپنے اِس افسانے میں خوب لکھا ہے، یہاں تک کہ پہاڑی زبان کی بے شمار الفاظ اِس افسانے میں آپ کو مل جاتے ہیں۔ تراڑ کھل کے ایک نواحی گاؤں ” گراٹا پار ” کا سفر کرنے کا مجھے موقع ملا۔ لفظ” گراٹا” میں نے جب سنا تو کرشن چندر کے اِس افسانے کا لفظ “گراٹ” میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، آج کی نسل کتنا اِس لفظ سے واقفیت رکھتی ہے؟اِسی طرح اِس افسانے کا مرکزی پیغام بڑی ریاستوں پہ تنقید کی صورت میں بھی ہے جس سے افسانے کے دو مرکزی کردار “جرا اور جری” اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر جرا جری نہیں رہتے بلکہ وہ اُن سے بھی بڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ دو قوموں کے درمیان “پُل”کا کردار ادا کرتے ہیں۔
پونچھ کے سفید پانیوں سے لے کر نیلم کے نیلے پانیوں تک پھیلی ہوئی تقسیم کا ذکر ایک طرف کرشن چندر اپنے افسانے “جرا جری “میں کرتے ہیں اور دوسری طرف سعادت حسن منٹو نیلے پانیوں کی تقسیم پر اپنے افسانہ ” ٹیٹوال کا کتا”میں کرتے ہیں۔ دونوں مصنف اِس بات کو مکمل طور پرسمجھنے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ دونوں اطراف میں پُل تو ہیں مگر آمد و رفت نہیں ہے۔ ایک ہی قوم، ایک ہی خاندان کے لوگ، آجا اور مِل نہیں سکتے۔اُس پر ستم یہ کہ آر پار کی گولہ باری کا اکثر و بیشتر نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں دونوں ممالک کی طرف سے سیز فائر کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا جس پر پوری دنیانے ان کو سراہا۔ خاص طور پر یہ اقدام مقامی آبادیوں کیلئے سب سے زیادہ راحت کا باعث ہے۔ دیر آئے درست آئے، اِن پانیوں کے اردگرد رہنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر نظر آتے تھے۔ افسانہ نگاروں نے پہلے سے ہی اِس بات کو سمجھ لیا تھا، اُن کے نزدیک انسانیت کا خون بہت قیمتی ہے، انسانیت کی راحت، اُن کی راحت ہوتی ہے، اور انسانیت کی تکلیف اُن کی تکلیف ہے۔
05اگست2019؁ء کو بھارت نے کشمیر کی نیم داخلی مختاری کو ضرب لگائی جس کا عملی ثبوت آج بھی ان پانیوں کے اردگرد کراسنگ پوائنٹس پہ صاف نظر آتاہے، اب کشمیریوں کو ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر میں اپنا جھنڈا لہراتا ہوا نظر نہیں آتا۔ یہ اس چیز کا بّین ثبوت ہے کہ ہندوستان نے کشمیریوں کی روح کو چھلنی چھلنی کر دیا ہے جبکہ اِس طرف سفید اور نیلے پانیوں کے اطراف میں پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ کشمیر کا جھنڈا آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا ہے جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں کی آزادی کا مقدمہ اب بھی زندہ ہے اور پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ کاش کہ وہ وقت بھی آئے کہ سفید اور نیلے پانیوں کے اس طرف اور اُس طرف کشمیر کا جھنڈالہرائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں