آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔۔۔۔ تحریر رفعت رشید عباسی

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
————-

آزاد کشمیر
نہ تعمیر و ترقی
نہ مقبوضہ حصے کی آزادی
نہ اچھا نظام حکومت
نہ نظام عدل
نہ نظام تعلیم (اساتذہ پڑھانے سے ہی انکاری اور حکومت ان کے مسائل حل کرنے سے منکر)
نہ نظام علاج
دارالحکومت مظفرآباد پینے کے صاف پانی اور دیگر سہولیات سے محروم
اور لاکھوں کی آبادی گونگی بہری، منتشر اور بے وزن
اور
سیاسی میدان میں سب سے زیادہ گند
ہر کوئی اپنی قیمت لگائے گاہگ کا منتظر ہے
نہ وفا، نہ فکر، نہ کردار، نہ اقدار
بس اقتدار اور بس اقتدار اور اس کے لیے “سب کچھ” کر گزرنے کو تیار
یہی کلچر پروان چڑھا ہے گزشتہ سات دہائیوں سے اور ہر شعبے میں یہ تباہی اس کا حاصل ہے۔

سب سے زیادہ دکھ پڑھے لکھے نوجوانوں کی حالت دیکھ کر ہوا
جو
تعلیم میں مشکلات
روزگارمیں مشکلات
سے گزر ہی رہے تھے سیاست میں بھی یہ بیچارے
دولت مندوں اور اقتدارپرستوں کے ہاتھوں کچلے و مسلے جا رہے ہیں
سب سے زیادہ استعمال اور استحصال انہی کا ہو رہا ہے
لیکن
اگر یہی نوجوان چاہیں تو حالات بدل سکتے ہیں
اس کے لیے اپنے آپ پر بھروسہ کریں
اپنی سوچ
کو
عصبیت، مفاد، خوف اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جانے سے بچائیں

آزاد سوچیں
آزاد جئیں
آزادی سے محبت کریں
عزت سے سرفراز ہوں گے
بالکل ویسے
جیسے مقبوضہ جموں و کشمیر کےنوجوانوں نے اپنی غیرت مند سوچ کو اپنا امام بنایا اور شخصیات کی اندھی تقلید اور حالات کے سنگین ہونے کا رونا رونے کے بجائے
حالات کو پلٹ دینے کا عہد کیا اور وہ اس میں کامیاب رہے
دشمن تین دہائیوں سے ان کے وجود کو مٹا رہا ہے
لیکن
ان کی سوچ کو شکست نہیں دے پایا ہے
اور نہ دے سکے گا
جیت ان شاء اللہ عزت سے جینے والوں کی ہی ہو گی
آزاد کشمیر
کو جہالت، ظلم اور عصبیت کی غلامی سے چھڑانے کی بھی یہی راہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں