آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست اور عوام کا عمومی رویہ

آزاد کشمیر میں آیںدہ سال قانون ساز اسمبلی کے لئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں . عوام کی وہ سادہ مسحور روحیں جو پانچ سال قبل ووٹ دے کر خوابیدہ ہو گئی تھیں اب پھر سے اگلی ڈوز کے لئے بیدار کی جا رہی ہیں. اسمبلی ممبران جو گزشتہ پانچ سال عوام کو متعلقہ حلقوں میں کہیں دکھائی نہیں دئیے ، آج عوامی درد کا نوحہ سینے پر سجاے گھر گھر مہم پر ہیں. عوام کا منتخب کیا ہوا یہ نمائندہ ..جو حلقہ کی عوام میں رات ،دن گھل مل رہا ہے ..کبھی بارات کے ساتھ ، کبھی کسی کی تائی کے سسر کے نانا کی تعزیت کرتے ہوے، کبھی کھیل کے میدان میں اور کبھی آدھا کلومیٹر روڈ کا افتتاح کرتے ہوے .. جگہ جگہ نظر آتا ہے تو خدا را ..خدا را … میرے “غیّور ” لوگوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان صاحب سے پوچھ سکے کہ بھائی گزشہ پانچ سالوں کی کارکردگی کیا ہے ..ذرا کچھ تو دکھاؤ ہم کو اپنا اعمال نامہ…تم سردار ہو ..چوہدری صاحب ہو …شاہ صاحب ہو ..چغتائی صاحب ہو ..”سبھی کچھ ہو …بتاؤ تو …حلقہ کے لئے کیا کیا .اس وعدے کا کیا بنا جو پانچ سال پہلے کیا تھا ؟

اگر اورکوئی نہیں تو کم از کم نوجوان لوگ جو تبدیلی کی آس امید ہیں اور اس فرسودہ طرز سیاست سے نجات چاہتے ہیں …مسا ۂل کے حل کی بات کرتے ہیں ..وہ تو آگے بڑھیں اور ان سے سوال کریں . انکے اس طرز سیاست کو رد کریں. ہر نمائندہ سے عرض کریں ..کہ یار مہربانی کر .. ہماری تعزیت چھوڑ ، ہمارے گراونڈ سے جا، رہنے دے ہماری شادی. بس ذرا اپنی کارکردگی کی کوئی چھوٹی موٹی وضاحت دے دے. کچھ ہمیں بھی پتہ چلے کہ ہمارے اس علاقے کی شان و شوکت اور ترقی میں آپکا کردار کتنا ہے .

بالفرض ہم میں کوئی بھی ایسا نہیں جو ان کی ناک اپنی ان کچی ناکارہ سڑکوں پر رگڑ سکے تو لگے رہیں ..شاباش ! پانچ سو میٹر سڑک کی پختگی کی نوید لے کر ، سو میٹر پائپ کی دولت نایاب پا کر ، پانی کی ٹنکی کا لارا لے کر ..مبارک بادیں دیے جاؤ ..اور “پا بجولاں ہی سہی ” ناچتے گاتے جاؤ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں