با خدا ، اب وہ بے خدا نہیں رہے

با خدا ، اب وہ بے خدا نہیں رہے
دیکھ ! پھولے کہیں سما نہیں رہے
اپنی اوقات کا انھیں پتا نہیں؟؟؟
یاخود اوقات میں وہ آ نہیں رہے!
چھوڑ رنگ قبا کے تذکرے میاں
سوچ وہ وقت کہ قبا نہیں رہے!
بند آنکھیں بھی روشنی ہیں مانگتی
خواب رستےبھی جگمگا نہیں رہے
شہر افسوس! تو اداس ہے بھلے
ہم بھی کوئی تمہیں بنا نہیں رہے !
چشم تر! دامن تر اٹھ کے آیا ہے
یہ نشانے ترے خطا نہیں رہے
یہ دریچہ بھی کھول کر دیا انھیں
جان سےبھی گزرکےجا نہیں رہے

شاعر: اعجازالرشید

اپنا تبصرہ بھیجیں