جیالوں کا سماء ٹی وی کی رپورٹر سنجے سادھوانی پر تشدد ۔۔تحریر۔۔ محتاب خان

جیالوں کا سماء ٹی وی کی رپورٹر سنجے سادھوانی پر تشدد انتہائی قابل مذمت ہے۔
یقین کیجیے، فلیڈ میں کام کرنے والے یہ رپورٹرز، کیمرہ مین، ڈی ایس این جی ورکرز۔ ڈرائیور انتہائی مظلوم لوگ ہیں۔ دو ہزار دو میں الیکٹرانک میڈیا آیا، پیمرا بنی، تو یہ آمریت کا دور تھا۔ پھر ق لیگ، پی پی پی، نون لیگ اور اب تحریک انصاف اپنا نصف عرصہ اقتدار مکمل کر چکی ہے۔ اس سارے عرصے میں آج تک الیکڑانک میڈیا کا سروس اسٹیکچر نہیں بنا۔آج شاید ہی کسی چینل کا کوئی رپورٹر ، کیمرہ میں یا دیگر نیوز اسٹاف کا فرد مستقل ملازم ہوگا۔سبھی کی نوکری سیٹھ کی خوشنودی سے مشروط ہوتی ہے۔

پورے ملک کے حقوق کی آواز اٹھانے والے یہ چوبیس گھنٹے کے ملازم خود ہر طرح کے حقوق سے محروم ہیں۔ تقریبا سبھی کسی کاغذی کمپنی کے ملازمین کے طور پر ظاہر کیے جاتے ہیں ، جن کی خدمات چینلز نے تھرڈ پارٹی کے طور پر ہائر کر رکھی ہیں۔ سبھی کو پوری سیلری یا سیلری کا بڑا حصہ کیش ملتا ہے۔ تاکہ کوئی شخص اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف عدالت سے رجوع نہ کر سکے، اگر عدالت کا مخالف فیصلہ آ جائے تو بھی غیر موثر ہو۔مہنگائی کے تناسب سے ان کی تنخواوں میں اضافے کی کوئی روایت ہی نہیں ہے۔گزشتہ دو سالوں میں پچاس فیصد لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ جو بے روزگار نہیں ہوئے وہ دگنا کام کرنے پر مجبور ہیں۔ مزید مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنخواوں میں بیس سے پچاس فیصد تک کٹوتی بھی کر دی گئی ہے۔کئی چینلز مہینوں تک سیلری نہیں دیتے۔

چینلز مالکان کبھی حکومت اور کبھی اپوزیشن سے ڈیل کرکے جانبدار پالیسی اپناتے ہیں۔ لیکن خمیازہ ورکرز بھگتے ہیں، کبھی پولیس اور ایجنسیاں پیٹتی ہیں تو کبھی اپوزیشن کے کارکن۔ کارکن پٹتے ہیں تو سیٹھ آزادی صحافت کا نعرہ لگا کر اسے کیش کرا لیتے ہیں۔

حکومت، انتظامیہ ، عدلیہ اور مقننہ، ادارے اور سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہوں، تو مفلوک الحال میڈیا ورکرز کی شنوائی کہاں ہو سکتی ہے؟؟
ایسے میں چند ضمیر فروشی سےاپنے لیے راحتیں خرید لیتے ہیں۔جبکہ نناوے فیصد ایمانداری کا علم اٹھائے گھٹ گھٹ کر جیتے ہیں، ساتھ ہی لفافے کی طنز بھی سہتے رہتے ہیں۔ کسی روز اچانک سے ہارٹ اٹیک کے باعث دنیا چھوڑ جاتے ہیں۔

ابھی حالیہ دنوں میں ہم اپنے دوستوں سردار جہانزیب اور فصیح بھائی ، روف چوہدری اور دیگر کو کھو چکے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی پنتالیس سال کا نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں