سید ابو الا علی مودودی صاحب کی تقریر سے اقتباس

اس اقتباس میں ہی بہت سوالوں کے جوابات ہیں لیکن اگر پھر بھی کسی کو کچھ جوابات نہ ملیں تو پوری تقریر پڑھنے میں وہ بھی مل جائیں گے انشاءاللہ۔

انسانی زندگی ایک کل ہے
جسے الگ الگ شعبوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

لہذا
انسان کی پوری زندگی کا ایک ہی دین ہونا چاہئے۔
دو دو اور تین تین دینوں کی
بیک وقت پیروی بجز اس کے کچھ نہیں کہ
ایمان ڈانواں ڈھول اور عقلی فیصلے کے مضطرب ہونے کا ثبوت ہے۔

جب فی الواقع کسی دین کے “الدین” ہونے
کا اطمینان آپ حاصل کر لیں
اور اس پر ایمان لے آئیں۔
تو لازما اس کو آپ کی زندگی کے تمام شعبوں
کا دین ہونا چاہئے۔
اگر وہ شخصی حیثیت سے آپ کا دین ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ
وہ آپ کے گھر کا،
آپ کی تربیت اولاد کا،
آپ کی تعلیم کا،
آپ کے مدرسے کا؟
آپ کے کاروبار اور کسب معاش کا،
آپ کی مجلسی زندگی اور قومی طرز عمل کا،
آپ کے تمدن اور سیاست کا
اور آپ کے ادب اور آرٹ کا دین بھی نہ ہو۔

جس طرح یہ بات محال ہے
کہ ایک ایک موتی تو اپنی جگہ موتی ہو
مگر جب تسبیح کے رشتے میں
بہت سے موتی منظم ہوں
تو سب مل کر دانہ نخور بن جائیں،
اسی طرح یہ بات بھی میرے دماغ
کو اپیل نہیں کرتی کہ انفرادی حیثیت سے
تو ہم ایک دین کے پیروکار ہوں
مگر جب اپنی زندگی کو منظم کریں
تو اس منظم زندگی
کا کوئی پہلو اس دین کی پیروی سے مستثنی رہ جائے۔

ان سب سے بڑھ کر ایمان کا تقاضہ یہ ہے

کہ
جس دین کے “الدین” ہونے پر اپ ایمان لائیں،
اس کی برکتوں سے اپنے ابنائے نوع کو
بہرہ مند کرنے کی کوشش کریں۔
اور آپ کی تمام سعی و جدوجہد کا مرکز و محور یہ ہو کہ

یہی
“الدین” تمام دنیا کا دین ہو جائے۔
جس طرح حق کی فطرت یہ ہے
کہ وہ غالب ہو کر رہنا چاہتا ہے۔
اسی طرح حق پرستی کی بھی یہ عین فطرت ہے
کہ وہ حق کو جان لینے کے بعد
اسے غالب کرنے کی سعی کیے
بغیر چین نہیں لے سکتی۔
جو شخص دیکھ رہا ہو کہ باطل ہر طرف زمین اور اس کے باشندوں پر چھایا ہوا ہے
اور پھر یہ منظر اس کے اندر کوئی بے کلی،
کوئی چھبن،
کوئی تڑپ پیدا نہیں کرتا،
اس کے دل میں اگر حق پرستی ہے بھی
تو سوئی ہوئی ہے۔
اسے فکر کرنی چاہئے کہ نیند کا سکوت کہیں موت کے سکوت میں تبدیل نہ ہو جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں