اکیسویں صدی کا آغاز اور دو ملکوں کی نئی ابتداء

دونوں اسلامی دنیا کی طاقتیں۔دونوں پر مغرب کی نظریں کہ انھیں اٹھنے نہ دیا جائے۔
دونوں کی معاشی حالت خراب۔
دونوں کی جمہوری تاریخ اچھی نہیں۔

ایک پر اس صدی کے آغاز سے چند مہینے قبل ہی پرویز مشرف کی صورت میں ایک ڈکٹیٹر مسلط ہوتا ہے۔ جو نام نہاد پارلیمنٹ میں جب خطاب کے لئے آتا ہے تو مغرب کے سامنے خود کو روش خیال بتانے کے لئے آس پاس دو کتوں کو بٹھاتا ہے اور خود کو کمال اتاترک کا پیروکار کہتے ہوئے اس کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کرتا ہے۔

دوسرےملک میں طیب اردگان کی صورت میں ایک لیڈر نمودار ہوتا ہے جو محض ایک شہر کا انتظام اتنے اچھے طریقے سے چلاتا ہے کہ اس کے ملک کی عوام اس کی گرویدہ ہو جاتی ہے۔ وہ 2001 میں اپنی پارٹی بناتا ہے اور جمہوری طریقے سے 2003 میں وزیرآعظم منتخب ہو کر یہ عہد کرتا ہے کہ وہ کمال اتاترک کے نظریات اور قوانین کو ختم کرے گا اور اپنے ملک میں اسلامی نظام اور کمال اتاترک سے پہلے والے قوانین کو زندہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

ابتدا میں مشرف والے ملک کو مغرب کی حمایت سے معاشی سہارا ملتا ہے اور اردگان والے ملک کو مغرب کی مخالفت سے معاشی چیلینجز کا سامنا رہتا ہے۔

لیکن آج 20 سال گزرنے کے بعد جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کمال اتاترک کے جانشین مشرف کا ملک وقتی فائدے کے بعد ایک طرف تو مغرب کا غلام بن کے رہ جاتا ہے دوسری طرف خانہ جنگی، لاقانونیت، قتل و غارت،ناانصافی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی زبوں حالی کا شکار ہو جاتا ہے۔ عورتوں، بچوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہتیں۔

جب کے کمال اتاترک کے نظریات کے مخالف اردوگان کا ملک ابتدا میں مشکلات کے بعد اب ایک معاشی طاقت بن چکا ہے، مغرب کا غلام بننے کے بجائے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہر انٹرنیشنل فورم پر ان سے مقابلہ کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ عوام کو اسلامی فکر سے ہمکنار کرتا ہے اور انھیں معاشی طور پر مضبوط کرتاہے۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھئے تو آپ کو ان دونوں ملکوں کی کامیابی اور ناکامی کی وجوہات کا علم ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں