بدلتے رویے۔۔؟؟ ۔ طیب شکور درانی کے قلم سے۔

آج ہمارا رویہ کیا ہے ہم دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں ہم دوسروں کی زندگیوں کو عذاب میں ڈالتے ہیں ہم آج اسلام کی رحمت اور شفقت کے پیغام کو بھی بھول چکے ہیں ہماری زندگیوں میں خوف وحراس کے منحوس ساہےَ پھیل چکے ہیں ہم خوف کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں آج ہمارے معاشرے میں انسانی جانوں کا کوہی ادب احترام نہیں ہے ہم ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں ۔؟

ایسا سب کچھ کیوں ہے صرف ہمارے بدلتے رویوں کی وجہ سے آج ہم بظاہر انسان تو ہیں مگر ہمارے اندر کی انسانیت ختم ہوگی ہے ہمدری بھاہی چارہ خلوص عزت سب ختم ہوتا جارہا ہے ۔۔پہلے راستے پہ چلتے کسی بزرگ کو دیکھتے تو انکی مدد کرتے انکی رہنماہی کرتے تھے مگر آج راستہ بدل لیتے ہیں کل ہم استادوں کو دیکھ کے خوفزدہ ہوجاتے اور عزت واحترام میں کھڑے ہوجاتے بات کرتے ڈر لگتا مگر آج ایک شاگرد اوراستاد میں فیری دوستی غرض ہر جگہ ہر مقام پہ ہمارے رویے بدل گے ہیں آخر اسکی کیا وجوہات ہے کونسی خرابیاں ہیں جنیں دور کرکے اپنے رویوں کو درست کیا جاے ۔کیا تربیت کی کمی ہے یا تعیلم کی یا علم کی کیونکہ ڈگری تو ہے تمیز نہیں تعیلم تو ہے علم نہیں کہیں جگہ یہ عالم ہے کہ ایک پژھا لکھا کرسی صوفے پہ ہوگا تو بزرگ زمین پہ ہونگے یہی ہمارے رویے ہیں جو اندر سے ختم ہوگے ہیی احساس ختم ہے ہمدردی عزت کرنا ختم ہوگی ہے کہنے کو ہم اعلی تعیلم یافتہ کہلاہیں گے
اس بدلتے رویوں پہ نوجوانوں کو سوچ وبچار کرنا ہوگی کیونکہ آج کا نوجوان اپنی روایات کساتھ ساتھ ادب احترام بھی بھولتا جارہا ہے میں سبکی بات نہیں کرتا سب ایک جیسے نہیں مگر اکثریت آجکل یہی ہےآہیں سب ملکر ان بدلتے رویوں کو درستگی کطرف لے جاہیں کیونکہ معاشرے کو بگاڑنے سنوارنے میں انسان کا کردار ہے معاشرہ خود خراب نہیں بلکہ معاشرے میں رہنے والے افراد میں خامیاں ہیی اچھے رویوں سے اچھا معاشرہ بنتا ہےاور برے رویوں اور خامیوں سے برا معاشرہ لہذا ایک اچھا اور مضبوط معاشرہ بنانے کے لیے اپنے اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا اپنے لہجوں کو بدلنا ہوگا مھٹی زبان کا استعمال کرنا ہوگا اپنے اندر کی نفرتوں اور تلخیوں کو ختم کرنا ہوگا تب جاکے ہم ایک اچھے معاشرے کے فرد کہلانے کے قابل ہونگے۔

ہم کسی کے دل میں نہیں جھانک سکتے
کتنی محبت اور خلوص ہے ۔۔
لیکن رویہ بتا دیتا ہے ۔
کہ کتنی محبت کتنا خلوص ہے

آہیں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہمشیہ اچھے رویوں کو پروان چڑھاے

اچھا رویہ اختیار کریں
کیونکہ وہ ہمشیہ دلوں میں زندہ رہتا ہے ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں