پاکستان میں برقی طریقہ تعلیم – کچھ خدشات ۔۔۔۔نقطہ نظر: انیس قمر عباسی

یوں تو انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ویسے ہی آج کی دنیا کو گھیر کے رکھا ہوا تھا لیکن حال ہی میں کرونا کی عالمی وبا نے جب لوگوں کو گھروں تک محدود کر لیا تو تب اس ٹیکنالوجی کا استعمال اور بڑھ گیا اور اس کی افادیت اور کھل کے سامنے آئی ہے۔ ہرایک میدان میں آن لائن کام کرنے کو کہا جا رہا ہے۔کہیں کمپینیز اپنے ملازمین سے گھر بیٹھ کر کام کروا رہیں۔ ایک ملازم کو اپنے دفتر آنے اور جانے میں جو اضافی وقت لگتا تھا اور جو سفری اخراجات آتے تھے وہ بچ رہے اور وہ اس ٹینشن سے دور رہ کر کام کرتا ہے کہ پتا نہیں پیچھے گھر میں کیا ہو رہا ہو گا۔

ایسے میں جب سارے سکول ، کالجز اور یونیورسٹیز بھی بند ہیں تو حکومت کوشش کر رہی ہے کہ کیسے ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تعلیم کے سلسلہ کو برقرار رکھا جا سکے۔اس حوالہ سے برقی تعلیم کے لیے 2 تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

اول یہ کہ آن لائن ایجوکیشن جس میں ٹیچر اپنے گھر بیٹھ کر پڑھائے گا اور طلباو طالبات انٹرنیٹ کے ذریعے اس کے ساتھ رابطہ استوار کرکے اسی وقت وہ لیکچر سن بھی سکتے اور سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں۔ یہ طریقہ Synchronous mode کہلاتا ہے جب اساتذہ اور طلبا ایک ہی وقت میں رابطے میں رہیں گے اور ورچوئل کلاس رومز کے ذریعہ تعلیم دی جائے گی۔

دوسرا طریقہ Asynchronous mode ہے جس میں ایک ہی وقت میں اساتذہ و طلبا کا رابطے میں ہونا ضروری نہیں ہو گا اور طلبا کو تعلیمی مواد (آڈیو، ویڈیو لیکچرز، نوٹس، اسائنمنٹس) مختلف ذرائع جیسے ای میل، وٹس ایپ، فیس بک گروپس کی مدد سے پہنچائے جائیں گے اور وہ اپنے اپنے گھر میں اپنی سہولت کے مطابق پڑھیں گے۔ اسی طریقے میں ٹیلی ویژن و ریڈیو کا استعمال بھی ہے کہ ان کے ذریعہ لیکچرز دیئے جائیں۔

آج کے مضمون میں اسی حوالے سے کچھ خدشات اور مشکلات کی نشاندہی کی جائے گی جن کو دور کرنے کے بعد ہی ہم جدید ٹیکنالوجی کے ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے اساتذہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر پیشہ تدریس کو اثر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں اور تعلیمی ادارے بھی اپنے انتظامی امور میں ٹیکنالوجی کو اختیار کرتے ہوئے اپنی انتظامیہ کو بہتر اور فعال بنا سکتے ہیں ۔

1۔ الیکٹرانک ڈیوائسز کی کمی:

اس سلسلہ میں سب سے بڑی مشکل یہ ہیکہ کہ ہر گھر میں لیپ ٹاپ، کمپیوٹر یا موبائل میسر نہیں ہیں یا اگر میسر ہیں بھی تو اگر ایک گھر میں ایک لیپ ٹاپ ہے تو وہاں3 یا 4 بچے مختلف مدارج پر ایک وقت میں پڑھنا چاہیں گے تووہ کیسے ایک وقت میں تعلیم حاصل کر سکتے۔

2۔ انٹرنیٹ کنکشن:

دوسری اور اہم مشکل یہ ہیکہ سارے علاقوں میں ایک معیاری اور پائیدار انٹرنیٹ کنیکشن نہیں ہے۔ براڈ بینڈ سروسز تو شہروں کی حد تک محدود ہیں تاہم جو موبائل کی 3Gیا 4G سروسز میسر ہیں وہ بھی تو اتنی ناقص ہیں کہ ایک ویڈیو چلاتے ہوئے بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں تو یہ سروسز بھی میسر نہیں۔ یوں طلبا و طالبات تک تعلیمی مواد کی رسائی انتہائی مشکل ہے۔

3۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے عدم واقفیت:

تیسری مشکل یہ ہیکہ سارے والدین ٹیکنالوجی اور جدید Gadgets کے استعمال سے واقف نہیں ہیں اور وہ اپنے بچوں کو کیسے اس کے ذریعے تعلیم دلوا سکتے ہیں خاص کر جب بچے سکول کے ہوں۔

4۔ نصاب کا ڈیزائن۔

پاکستان میں کیونکہ تعلیمی نصاب بالمشافہ طریقہ تدریس کو سامنے رکھ کر مرتب کیا جاتا ہے جو کہ مکمل اسی طرح اگر اس برقی نظام میں پڑھانے کی کوشش کی جائے گی تو یہ نہ صرف طلبا و طالبات کے لیے مشکل ہے بلکہ اساتذۃ کے لیے بھی بہت مشکل ہو گا۔

5۔ عملی مضامین کی پڑھائی۔

سائنس کے مضامین میں بالخصوص تجربات شامل ہوتے ہیں اور ان تجربات کے لیے مطلوبہ سازو سامان اور ایک خاص قسم کا ماحول صرف تجربہ گاہ میں ہی ممکن ہے ۔ اس برقی نظام کے ذریعہ عملی مضامین تو پڑھانے ممکن نہیں اور ان کے بغیر تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔

6۔ اساتذہ کی عدم تربیت:

نصاب کے ساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ بھی بالمشافہ پڑھانے کے عادی ہیں جہاں آپ اپنے شاگرد کی چہرہ شناسی اور دیگر حرکات سے یہ جان لیتے ہیں کہ آیا اس کو کسی خاص چیز کی سمجھ آ رہی یا نہیں یا طالبعلم کے پاس سوال پوچھنے کا موقع موجود ہوتا ہے جو کہ اس طریقہ تدریس میں (خاص کر آف لائن (Asynchronous) میں میسر نہیں ہو گا۔ یوں استاد بہتر طریقہ سے علم کو منتقل نہیں کر سکے گا۔

7۔ نظم و ضبط کا فقدان

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور مشکل نظم و ضبط کا فقدان ہو گا ، فاصلاتی نظام میں آپ کیسے ایک طالبعلم کے لیے یقینی بنائیں گے کہ وہ ان تمام چیزوں کا صحیح استعمال کر رہا یا نہیں۔

8۔ صاف شفاف طریقہ امتحان

اس طرح کے نظام میں طریقہ امتحان کو صاف شفاف رکھنا بھی بڑا مشکل ہے۔ بحثیت مجموعی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کمرہ امتحان میں جہاں نگران اور اساتذہ موجود ہوتے ہیں کے باوجود طلبا و طالبات نہ صرف ایک دوسرے سے مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ مددگار میٹیریل کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس برقی نظام میں اس کے امکانات اور بڑھ جائیں گے۔

9۔ والدین کے لیے اضافی اخراجات

موجودہ دور میں جب لوگ گھروں میں بیٹھے ہوتے اور ان کے روزگار بری طرح متاثر ہوئے ہوئے ہیں، دوسری طرف اگر ان کا بچہ یا بچی ایک نئے لیپ ٹاپ یا موبائل کا مطالبہ کرے گا تو یہ ان کے لیے اضافی اخراجات ہوں گے جو اس دور میں کافی مشکل کا باعث بن سکتے ہیں۔

اگر ان تمام مشکلات کے حل کے لیے کوئی پالیسی بنائی جاتی ہے تو پھر یہ طریقہ قابل عمل ہے۔نہیں تو پاکستان جیسے ممالک جہاں تعلیمی معیار پہلے ہی کمزور ہے، اس طرح کا کوئی تجربہ مزید کمزوری کا باعث بنے گا اور مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکیں گے۔

اس سلسلہ میں شعبہ تعلیم سے وابسطہ اور دیگر متعلقہ احباب کی آراء کا انتظار رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں