کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سُنا ہوتا

تہلکہ
•~•
غیروں سے کہا تم نے ،غیروں سے سنا تم نے
•~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~•

مشہور انگریز شاعر ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ کہتا ہے:
Not gold but only men can make
A people great and strong
Men who for truth & honour’s sake
Stand fast and suffer long
Who dare while others fly
They build a nation’s pillar deep
And lift them to the sky
“قومیں سونے کے ڈھیروں اور دولت کے بیش بہا خزانوں سے مضبوط اور توانا نہیں بنتیں بلکہ انہیں وہ لوگ ایسا بناتے ہیں جو حق اور سچ کی خاطر مصائب اور مشکلات جھیلنے کے باوجود اُس وقت تک ثابت قدم اور ڈٹے رہتے ہیں جب باقی سارے ہمت ہار کے راہ فرار اختیار کر دیتے ہیں ۔ وہی قوموں کو اوپر اُٹھاتے اور آسمانوں کی بلندیوں تک لے جاتے ہیں ۔”
المیہ یہ نہیں کہ غاصب اور قابض کیا کرتے یا کیا کہتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ایک غلام قوم از خود کبھی نام نہاد ملت اسلامیہ ،کبھی نام نہاد سیکیولرازم اور کبھی نام نہاد شوسل ازم کی پرتوں میں تقسیم رہتی ہے اور رہی سہی کسر قیادت کی مفاد پرستی ، انانیت پسندی ،شخصیت پرستی کے خول میں قید مقبول بٹ کے آزادی اور خود مختاری پسند نظریات کے پیرو کاروں نے پوری کر دی ہے ۔ اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ غلامی کی سیاہ رات کے اسباب اپنے اندر ڈھونڈنے کی بجائے ، اپنی خود احتسابی کی بجائے اسے غیروں میں ڈھونڈنے اور پانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ 5 اگست کے بعد آر پار کی قیادت کی بے بسی اور ٹسوئے بہانا اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔ یہی غلامی کی اس سیاہ اور طویل رات کا سب سے بڑا سبب ہے :
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سُنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سُنا ہوتا

اپنا تبصرہ بھیجیں