نیا پاکستان پراجیکٹ، اس کی ناکامی اور پاکستان کا مستقبل۔۔۔یاسر ممتاز

”نیا پاکستان” نامی پراجیکٹ کا بیانیہ بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل تھا.
پہلا یہ کہ عمران خان صادق اور امین ہے،اس کی نیت صاف ہے اور وہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا بخوبی ادراک رکھتا ہے. نیز اس کے پاس ہر شعبے میں بین القوامی شہرت یافتہ ماہرین کی ایک ٹیم ہے جو انتہائی مختصر عرصے میں پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دے گی.
اس غبارے میں سے ہوا ابتدائی چند مہینوں میں ہی نکلنا شروع ہو گئی جب آئی ایم ایف سے قرضوں کا مرحلہ پیش آیا. کپتان کی ٹیم کے سب سے “باصلاحیت” کھلاڑی اسد عمر سے شدید ناکامی پر وزارت خزانہ واپس لے لی گئی اور اسے آئی ایم ایف کو آوٹ سورس کر دیا گیا، دوسرے لفظوں میں ملک کے معاشی معاملات بین القوامی ساہوکاروں کے حوالے کر دیے گئے. اسی طرح سے دواؤں سے لے کر آٹے اور چینی جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی اور یوں بدعنوانی اور نا اہلی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے گئے. دو سال کے اندر اندر سابقہ حکومت کے پانچ سال کے برابر قرضے لیے گئے جبکہ اس عرصے میں ترقیاتی کام بھی تقریبا نہ ہونے کے برابر رہے.
پہلے سال کے اندر اندر ہی بڑے بڑے جغادری اور دانشور جو اس پراجیکٹ کی “مارکیٹنگ” میں پیش پیش تھے، سر عام اپنی غلطی تسلیم کرنے لگے، حتیٰ کہ کچھ نے مین سٹریم میڈیا پر خود پر لعنت ملامت بھی شروع کر دی.
اس بیانیے کی حمایت کرنے والے ایسے لوگ جن کا تعلق درمیانے طبقے سے تھا انھیں مہنگائی نے براہ راست متاثر کیا اور ان کی ایک بڑی تعداد ان دو سالوں میں نچلے طبقے میں جانے پر مجبور ہوئی. اب ان کی اکثریت یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ یہ حکومت انتہا درجے کی نااہل اور بدعنوان ثابت ہوئی ہے، کچھ نسبتاً خوش حال لوگ اب بھی ضد پر اڑے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے.

اب آتے ہیں بیانیے کے دوسرے حصے کی طرف، جس کے مطابق جو سیاستدان جولائی دو ہزار اٹھارہ تک “کنگز پارٹی” یعنی پاکستان تحریک انصاف کی لانڈری میں دھل کر اجلے نہیں ہو سکے وہ سب کے سب چور اور ڈاکو ہیں، خاص کر زرداری اور شریف خاندان. یہ لوگ ملک سے کھربوں لوٹ کر باہر لے گئے ہیں، ان کا احتساب ہو گا اور لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی جس سے ملک کی معشیت مضبوط ہو گی. دو سال کے بعد صورتحال یہ ہی کہ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو لمبے عرصے تک جیل میں رکھنے کے باوجود ابھی تک ایک پھوٹی کوڑی بھی وصول نہیں ہو سکی، الٹا ایک ٹھیکیدار کے چالیس ارب جو حکومت برطانیہ نے واپس کیے وہ اسے کیے گئے جرمانے کی قسطوں میں ایڈجسٹ کر دیے گئے.
احتساب کا یہ سارا بیانیہ کہ ملکی مسائل کی اصل وجہ صرف چند سیاست دانوں کی کرپشن ہے، انتہائی گھسا پٹا اور سستا پراپیگنڈہ ہے جس سے بہت ہی معصوم یا پھر بیوقوف لوگ متاثر ہوتے ہیں. پاکستان میں مجموعی مالی کرپشن کا زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس فیصد سیاستدانوں کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے، باقی زیادہ کرپشن جہاں ہوتی ہے وہ “نو گو ایریاز” ہیں.
بیانیے کے اس دوسرے حصے سے جو لوگ متاثر ہوۓ وہ ابھی تک ضد پر اڑے ہیں یا شاید یہ انھوں نے انا کا مسلہ بنا لیا ہے کیونکہ بیانیے کے دونوں حصوں سے رجوع کرنے کے بعد شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سر اٹھا کر چل نہیں سکیں گے، جن لوگوں کے سامنے بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے ان سے آنکھ نہیں ملا پائیں گے.
میرا خیال ہے کہ ہمیں ان دوست، احباب اور عزیزوں کی خطا کو کھلے دل سے معاف کر دینا چاہیے، غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے.
پاکستان کے مسائل کا اس وقت ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ سیاست میں اداروں کی مداخلت ختم ہو، تمام ادارے اور “محکمے” اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں. ملک میں نئے سرے سے صاف شفاف انتخابات کروائے جائیں اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے. حزب اختلاف اپنی ائینی ذمہ داریاں پوری کرے اور حکومت کی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرے. بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جائے. جب ملک میں جمہوری روایات مضبوط ہوں گی تو سیاسی جماعتوں کی اندر سے جماعت کی پالیسیوں پر بھی تنقید ہو گی اور یوں سیاسی جماعتوں میں بھی موروثیت کی بجائے جمہوری روایات پروان چڑھیں گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں