بوٹ شوٹ قانون شانون۔ تحریر توقیر ریاض

اسوقت پاکستان میں زیر بحث بلکہ یوں کہہ لیں کہ زیر سوشل بحث ایک ایسی قانونی ترمیم ہے جس سے فوج پر براہ راست تنقید ، تضحیک قابل سزا جرم ہو گا جسکی سزا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ اور دو سال تک قید ہو سکتی ہے ، یاد رہے کے آئین پاکستان میں پہلے سے ہی ایسی شقیں موجود ہیں جس سے ، عدلیہ ، فوج ، دوست ممالک وغیرہ پر تنقید قانوناً قابل سزا جرم ہے ، اب اس ضابطہ فوجداری ترمیم کا مقصد شائد سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے اُس شتر بے مہار کو لگام ڈالنا ہے جس کا ٹرینڈ یا فیشن آجکل فوج پر جائز ناجائز تنقید ہے ۔

جس طرح یورپی ممالک میں کبھی لائن دار داڑھی ، پھٹی ہوئی جینز ، وغیرہ کا فیشن آتا رہتا ہے ایسے ہی وطن عزیز میں بھی سوشل اور میڈیائی فیشن آتے رہتے ہیں ، اسی طرح آجکل کا فیشن فوج پر تنقید ہے ، اب ایسا بھی نہیں کہ فوج دودھ کی دہلی ھوئی ھے یا ایسی مقدس گائے ہے جس پر تنقید گناہ کبیرہ ہے ، لیکن مشرف کی آمریت ، یا حیات بلوچ کے قاتل پر تنقید کرتے وقت ایک ایسے ادارے کے وقار کا خیال رکھنا بہرحال ضروری ہے جو آج کے دورِ امن میں بھی آئے روز کبھی ماں کا اکیلا سپوت تو کبھی باپ کا جوان کندھا ، کسی نئی نویلی دلہن کا سہاگ تو کبھی معصوم بچوں کا باپ اس دھرتی پر قربان کر رہا ہوتا ہے ۔
دوسرا پہلو یہ بھی ہے کے تنقید کا معیار بھی ہونا چاہئے آپکے سامنے اور پیچھے سے آنے والی گولی کے سامنے اپنا سینہ رکھنے والے کا اتنا تو حق ہے کے بولنے سے پہلے تول لیا جائے ، ہائی مورال کتنا اہم ہوتا ہے یہ کوئی سپہ سالار یاسپورٹس مین ہی سمجھ سکتا ہے جب آپ کھیل کے میدان میں یا میدان حرب میں اُترتے ہیں تو اگر جیت کے پیچھے کوئی لگن یا جذبہ نہیں تو آپ آدھی شکست کھا چُکے ، بے شک میڈیا پر کچھ لوگ یا سوشل میڈیا اُس اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا جو لوگ بے لوث فوج سے محبت کرتے ہیں لیکن آج کے دور میں رائے تبدیل کرنے اور سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپاتے وقت نہیں لگتا ،ہمارے ملک کی جغرافیائی اور مذہبی ساخت ایسی ہے کہ فوج ہمیشہ سے میدان عمل میں رہی ہے اور رہے گی ، مشرف دور میں اور اُس کے بعد جب فوج کے حوصلے پست تھے ، تو اُسکا ملک کو کیا نقصان ہوا آپکے سامنے ہے اُس سے دشمن نے کیسے فائدہ اُٹھایا وہ بھی آپ سے چھپا نہیں ہے ۔

پاکستان کے نامور صحافی بی بی سی ، وائس آف امريکہ سمیت نامور غیر ملکی میڈیا چینلز سے منسلک رہے اور فوج کے فوجی ادواروں میں بھی بڑے ناقد رہے لیکن نہ کبھی کسی کو گھما پھرا کر چھوڑ یا گیا کہ اپنے نہ چلنے والے یوٹیوب چینل پر کوئی دو چار ملین لائکس لے لے یا پھر شمالیعلاقہ جات کا سیر سپاٹہ کروایا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں غیر معیاری صحافت کی وجہ سے روبہ زوال یہ طبقہ اپنے سروائیول کی جنگ لڑ رہا ہے پھر اینٹی اسٹبلشمنٹ ہونے سے واہ واہ بھی تو ہوتی ہے اور دوسرا طبقہ ان مخصوص صحافتی طوائفوں کا ہے جنکا کوٹھا جب سے ویران ہوا ہائے ، وائے ، مائے کا بین جاری ہے۔

آخر میں بی بی سی کے ایک آرٹیکل سے چھوٹا سا اقتباس ۔
“وہ کہتے ہیں کہ ’اصلی صحافی‘ جانتے ہیں کہ وہ اپنی بات کیسے کہہ سکتے ہیں۔’پاکستان میں کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے ساتھ کام کرنے والے بڑے صحافی نے کبھی سوشل میڈیا پر اظہار رائے پر پابندی کی شکایت نہیں کی۔ بدقسمتی سے اس وقت تو بعض صحافی بھی سمجھتے ہیں کہ گالی دیں گے تو ان کی بات میں وزن آئے گا۔ یہ ضروری ہے کہ صحافی یہ سمجھیں کہ جو بات وہ نشر نہیں کر سکتے، وہ سوشل میڈیا پر بھی نہ کہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں