تہلکہ۔۔۔مُنی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لئے

۔بظاہر بھولے بھالے ، معصوم سے مگر حقیقت میں لومڑی کی طرح شاطر دماغ دنیا کے ڈیفیکٹو یا اصل حکمران امریکی اگر آج دوحہ امن معاہدے کے باوجود افغانستان سے واپسی میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں ،کترا رہے ہیں تو اس کی بڑی وجہ سوویت اِنخلا کے بعد یونہی افغانستان کو چھوڑ جانے والی وہ غلطی ہے جسے وہ دوہرانا نہیں چاہتے ۔ کیونکہ بعد میں جو کچھ ہوا اسکی پیشن گوئی پینٹاگان کر سکا ، سی آئی اے کر سکی اور نہ ہی ان کے دنیا بھر کے سیاسی و فوجی مستقبل کی پیشن گوئیاں کرنے والے نوم چومسکی اور ہنری کسنجر کر سکے ۔ ظاہر ہے اگر وہ ایسا کر سکتے تو وہ کسی طور افغانستان کو ویسے حالات کے رحم و کرم پے چھوڑ کے نہ جاتے اور انہیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔ یہ افغان جنگ کے دوران ہی اور تاریخی طور پے بھی واضع تھا کہ دنیا کی دو بڑی سُپر طاقتوں کے اِنخلا کے باوجود افغانستان پاور شیرنگ یا انتقالِ اقتدار کی پُرامن اور متفقہ منتقلی پے منقسم یا باہم دست و گریباں رہے گا کیونکہ افغانی محاذِ جنگ پے بھی مذہبی بنیادوں پے تقسیم تھے ۔ ازبک ، تاجک ، ہزارہ اور دوسرے قبائل اپنے اپنے قبائلی اور علاقائی کمانڈروں اور شیعہ مسلک کی چھتری تلے شمالی اتحاد کی شکل میں سوویت فرنٹ لائن پے تھے جبکہ زیادہ تر پشتون قبائل سُنی مسلک اور اپنے اپنے علاقائی کمانڈروں اور قبائلی سرداروں کی سرکردگی میں امریکی اور پاکستانی فرنٹ لائن پے تھے ۔
جب افغانیوں کی اندرونی اقتدار کی جنگ غیرملکی طاقتوں کی ان کے ملک میں موجودگی اور جنگ سے بھی طویل و شدید ہو گئی لیکن نتیجہ کچھ نہ نکل سکا تو ًطالبان فیکٹر ً ابھر کر سامنے آیا ۔ اور بہت تھوڑے عرصے میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال کر آن کی آن میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ کئی صفِ ماتم تھیں تو کئی کامیابی و کامرانی کے شادیانے بجائے جا رہے تھے کہ اوّل و آخر انہوں نے کابل میں اپنی مرضی کی اور وہ بھی سُنی اور پھر وہ بھی دیوبندی حکومت قائم کر لی ہے ۔ امریکیوں کو تو یہ پتا تھا کہ یہ سب کچھ کون کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے لیکن وہ اس عجیب و غریب گیم پلان ، سیاسی کیمسٹری یا کھچڑی پے اتنے حیران تھے کہ سر پکڑ کے بیٹھ گئے ۔ اُسی زمانے میں اس منصوبہ سازوں کیلیے ً روگ آرمی ً یا بدمعاش فوج ( جو کسی کہنے ماننے یا کنٹرول میں نہ ہو ) کی اصطلاح ایجاد کی گئی ۔ بہرحال افغانستان کے ساتھ جو ہونا تھا وہ تو ہوا لیکن اصل منصوبہ سازوں کا ملک جب معاشی ابتری و بدحالی کی ہڈیوں کا ایسا پِنجر بن چکا کہ اس کی کرنسی افغانستان سے بھی نیچے چلی گئی تو ہاتھ کھڑے کر دیے کہ وہ اب علاقائی تنازعات کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ اب یہ پوچھنے کی جسارت کون کرے کہ اب کونسے علاقائی تنازعات کا حصہ بننے کی ہمت یا کنجائش باقی رہ گئی ہے ؟
مزے کی بات یہ ہے کہ تقریباً تین ہفتے پہلے جب چیف صاحب اسلام آباد میں “ سیکیوریٹی ڈائیلاگ “ کے فورم پے منتخب ملکی وزیرِ اعظم کے خطاب کے ایک روز بعد ریاستی ، علاقائی اور عالمی حوالے سے ً اپنی ریاستی پالیسی ً پے ارشادات فرما رہے تھے تو وہ نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا باالفاظِ دیگر اعتراف کر رہے تھے بلکہ موجودہ وزیرِ اعظم کو واقعی ایک ڈمی وزیراعظم ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس واعظ کی بھی تردید کر رہے تھے کہ ۰۰۰۰۰۰۰۰کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ سب سے بڑھ کے وہ اکتوبر میں سابق امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے پاکستان پے “ ڈیپ اسٹیٹ “ یا اندر کُجی ریاست کے اس الزام کی بھی تصدیق کر رہے تھے کہ جہاں کرنے والا کوئی اور ہو اور بھکتنے والا کوئی اور ، کہنے والا کوئی اور کرنے والا کوئی اور ۔ اگر کہنے والا کرنے والی کی مرضی کے برعکس کہے گا تو اٹھا یا مار لیا جائے گا ۔ جگر مراد آبادی سے معذرت کے ساتھ::

یہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
یہ جنابِ شیخ کا فلسفہ بھی عجب ہے سارے جہاں سے
جو آپ پیو تو حلال ہے جو وہ پیئں تو حرام ہے
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں کم نظر کا گزر نہیں یہ اہلِ ظرف کا کام ہے
جو اُٹھی تو صبح دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام ہے
تیری چشمِ مست میں ساقیا میری زندگی کا نظام ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں