تھوراڑ کی تاریخی شخصیت مرحوم الحاج مولانا عبدالعزیز تھورا ڑ وی ۔۔۔۔۔ تحریر سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص

قسط نمبر 1 کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے
تھوراڑ کی تاریخی شخصیت
محروم الحاج مولانا عبدالعزیز تھورا ڑ وی
مولانا عبدالعزیز تھورا ڑ وی مولانا محمد ایوب خان کے گھر بمقام پندی تھورا ڑ 1918 میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے ہی گھر اپنے والد سے حاصل کی ابتدائی تعلیم کے بعد پنجاب کا رخ کیا اور پنجاب کے مختلف اضلاع و دیگر مقامات سے ضروری علوم دینیہ کے حصول کے بعد اعلی دینی تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ دارالعلوم دیو بند ہند کا سفر کیا دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند ہند سے واپس اپنے گاؤں میں آ کر دینی تبلیغ اور رفاعی کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا اس سے آگے میں مرحوم سردار مختیار خان ایڈوکیٹ راولاکوٹ کی کتاب آزادی کا خواب پریشاں میں صفحہ نمبر 217 سے صفحہ نمبر 222 تک مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی کے بارے میں لکھتے ہیں ان کی دینی و سیاسی تربیت کچھ اس طرح کی تھی کہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انہوں نے دین و سیاست کویکجا کر دیا انہوں نے اپنی عوامی زندگی کا آغاز مسلمانوں کو شرک و بدعت سے بچا کر توحید خالص اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی تلقین سے کیا اور ماسوائے اللہ کےدنیا کی کسی طاقت سے خوف اور ڈر اور اللہ کے سوائے دنیا کی کسی اور ہستی سے نفع کی امید اور ضرر کے خطرہ کو ایمان کی کمزوری بلکہ اسلام کی منفی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو جرات اور بے باکی سے زندگی بسر کرنے کا درس دیا مولانا صاحب واعظ شیریں بیان بھی تھے شعلہ نوا انقلابی مقرر بھی تھوڑے ہی عرصے میں ان کی شہریت ریاست کے دور دراز رمقامات تک پہنچ گئی ان کے تبلیغی جلسوں میں دور دور سے لوگ آکر شامل ہوتے پنجابی زبان اور پنجابی لہجے میں حدیث اور قرآن پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے مولانا روم حالی اقبال اور حفیظ کے کلام سے ترنم کے ساتھ وضاحت کرتے تو مجمح پر سحر زد گی کی کیفیت طاری ہو جاتی ان کی آواز لاؤڈ اسپیکر سے بے نیاز بڑے سے بڑا مجمح کی ضرورت کو پورا کرتی تھی خوش الحان اور معلومات سے پُر یہ آواز مشکل سے مشکل ترین دور میں بھی گونجتی رہی آپ کا چرچا ریاست پونچھ دارالحکومت شہر تک پھیل گیا وہاں کی سیرت کمیٹی نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سالانہ تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دی جہاں سیرتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ موضوع پر مولانا کی دلنشین اور رقت انگیز تقریر نے اہل شہر کو اپنا گرویدہ بنا لیا پھر تو سالانہ اجتماع کے ہر موقع پر خصوصی دعوت پر شہر پونچھ میں ان کی تقریر معمول کا حصہ بن گئی جہاں دور دور سے مسلمان اور ہندو بھی ان کی تقریر سننے کے لئے پہنچتے اورمسلم خواتین بھی جو شہر پونچھ سے تعلق رکھتی تھی ان جلسوں میں پردے کا انتظام کر کے شامل ہوتی ان کا ذوق اور شوق اس قدر بڑا کہ پونچھ شہر میں آخری سیرت کانفرنس میں مولانا کے ایمان افروز خطاب کے بعد وہاں کی خواتین نے ایک الگ نشست کا اہتمام کیا جہاں صرف خواتین ہی تھی مولانا نے خواتین اسلام کی دینی خدمات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خواتین کی جان نثاری کے واقعات بیان کیے لوگوں کے تقریر سننے کے ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ خواتین کی مخصوص نشست کے دوران مرد حضرات جلسہ گاہ کے ارد گرد کھڑے ہو کر یہ تقریر سنتے رہے پونچھ شہر کے اس آخری خطاب میں مولانا کی تقریر کا ایک حصہ اس قدر انقلاب آفرین تھا کے اسے اعلان جہاد کہا جا سکتا ہے 1947 کے اوائل میں شہر پونچھ میں سیرتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجلاس میں وزیر پونچھ پنڈت بھیم سین بھی شامل تھے مولانا نے لا الہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی حاکم وحاجت روا نہیں نہ راجہ نہ بادشاہ اور نہ کوئی وزیر یا سپریڈنٹ پولیس مگر صرف اللہ انہوں نے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر لا الہ کا صحیح مفہوم سمجھ لیا جائے اور اس پر ایمان مکمل ہوجائے تو ریاست کے آٹھ لاکھ ہندو اس ریاست کے 32 لاکھ مسلمانوں پر کبھی حکومت نہیں کر سکتے انہوں نے دین اسلام کا دیگر مذاہب سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بڑے دلنشین انداز میں اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا اس موقع پر انہوں نے تو ہم پرستی اور غلو سے انسان کو محفوظ رکھنے اور اعلی اسلامی قدروں کی حفاظت کے لیے اسلام کی آفاقی تعلیم نے بنی نوع انسان پر جو احسان کیا ہے اس پر سیر حاصل واقعات اور دلائل پیش کیے انہوں نے ہندو مذہب کی بت پرستی اور تو ہم پرستی کو بالخصوص موضوع بحث بنایا مولانا نے اپنی اس تقریر میں ایک لطیفہ بیان کیا یاد رہے کہ مولانا جہاں سنجیدہ اور رقت انگیز تقریر سے سامعین کو رلا تے اور خود شدت جذبات سے سسکیوں میں گم ہو جاتے تھےاور پھر بڑی مشکل سے اپنی تقریر کا تسلسل قائم رکھتے تھے وہاں لطائف وظرائف کی ایک چلتی پھرتی کتاب معلوم ہوتے تھے سامعین کو ان لطائف و ظرائف سے لوٹ پوٹ کر دینے پر بھی قادر تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے
تحریر سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص
2020۔11۔30

اپنا تبصرہ بھیجیں