آزاد کشمیر یونیورسٹی کا راولاکوٹ کیمپس

جب آزاد کشمیر یونیورسٹی کے راولاکوٹ کیمپس میں بحیثیت لیکچرر(کمپیوٹر سائنس) تعیناتی ہوئی تو میری عمر بائیس برس تھی۔ پڑھائی ختم ہوئے ابھی چھ مہینے ہوئے تھے، راولپنڈی میں ایک مختصر انٹرنشپ اور ہائی سکول میں چند دن بطور کمپیوٹر انسٹرکٹر کے بعد یہ میری تیسری نوکری تھی۔ لیکچرر اور وہ بھی یونیورسٹی میں ہمارے ہاں ایک ٹھیک ٹھاک نوکری ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں مقامی زبان میں اسے لچکرار بھی کہا جاتا ہے، الگ بات ہے زیادہ ویلیو ہٹ دھرمی اور غیر لچکدار رویوں کی ہے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کے جس دن مجھے اپائنٹمنٹ لیٹرملا، مجھے بہت خوشی ہوئی تھی، اُس کے بعد زندگی میں کہیں بار اُس سے کہیں بہتر نوکریاں ملیں مگر ویسی خوشی مجھے پھر کبھی نہیں ہوئی۔ میرا خیال ہے خوشیوں کی اپنی اپنی قسم ہوتی ہے اور اُن کا ایک دوسرے سے موازنہ انگریزی محاورے کے مطابق ایپلز اور اورینجز کا موازنہ کرنے کی طرح ہے۔
اگلے دن یونیورسٹی میں حاضری دینی تھی، اس لیے صبح صبح راولاکوٹ کی طرح رخت سفر باندھا۔ راولاکوٹ شہر ہمارے گاؤں سے کوئی بیس، پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، دو کلومیٹر گھر سے لے کر قریب ترین پکی سڑک تک کا پیدل سفر ہے، جبکہ باقی آج سے بارہ، پندرہ سال پہلے فورڈ ویگنیں چلا کرتیں تھیں۔ راولاکوٹ شہر سے یونیورسٹی چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، یونیورسٹی کے ارد، گرد کا علاقہ چہڑ کہلاتا ہے۔ ان دنوں ہجیرہ روڈ سے چہڑ کے لیے سوزوکیاں چلا کرتیں تھیں۔ (“سوزوکی” در اصل جاپانی کمپنی سوزوکی کی ایک چھوٹی گاڑی ہوتی ہے جسے پاکستان میں”موڈیفائی” کرنے کے بعد مال برداری اور بندے برداری کے لے استعمال کیا جاتا ہے۔) میں یونیورسٹی جانے کے لیے ایک سوزوکی میں بیٹھا تو وہاں پہلے سے دو اور نوجوان بیٹھے ہوۓ تھے، مجھے جلد اندازہ ہو گیا کے وہ مقامی نہیں ہیں، کیونکہ ایک تو ان کی رنگت بھی میری طرح سرخ اور سپید نہ تھی (جیسے کے مقامی لوگوں کی اکثریت کی ہوتی ہے) اور دوسرا ان کا اردو کا لہجہ بھی مقامی نہیں تھا۔ میں سمجھا شاید پنجاب سے آئے طالب علم ہیں، لیکن مختصر تعارف کے بعد پتا چلا کے وہ میرے ساتھ سلیکٹ ہونے والے دوسرے دو لیکچرر تھے۔
شوکت اور مسعود ایک دن پہلے حاضری دے چُکے تھے۔ میرا خیال تھا میں نے حاضری کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ میں دینی ہو گی تو اُس کا پتہ پوچھتا دوسری منزل پر پہنچا۔ دروازے پر ایک گھنی داڑھی، اوپر کی طرف مڑی (ڈِنگی) مونچھوں اور سپاٹ چہرے والا نوجوان کھڑا تھا، اُس نے گھور کر مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور مقامی لہجے میں پوچھا۔ کِدھر (کُدھر) ماسیر؟ اندر کلاس ہو رہی تھی اور میں فوری سمجھ گیا کے نوجوان کیا سوچ رہا ہے، ہمارے ہاں اکثر اجنبی، مشکوک افراد تصور کیے جاتے ہیں اور اُن پر کڑی نگاہ رکھنا ہر شخص اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ معصومیت سے عرض کی کہ میں یہاں نیا تعینات ہونے والا لیکچرر ہوں۔ ہمارے آنے کی خبریں عام ہو چُکیں تھیں لہذا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ اندر ایک بڑا سا کمرا تھا جو بیک وقت کلاس روم اور کمپیوٹر لیب کے طور پر استعمال ہوتا تھا، کمرے کی پچھلی طرف دو چھوٹے چھوٹے کمرے تھے، جن میں سے ایک انتظامی امور کے لیے استعمال ہوتا تھا جبکہ دوسرا لیکچررز کے استعمال میں تھا۔ حاضری دینے کے بعد باقی سٹاف سے ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ یہاں ہمارے بارے میں خاصی چہ مگوئیاں چل رہی تھیں۔ مثلاً میرے بارے میں خبرعام تھی کہ لڑکے کا قریبی عزیز صدرِ ریاست کا کوآرڈینیٹر ہے، تعلیمی بیک گراؤنڈ بھی کچھ خاص نہیں ہے، سفارشی ہو گا۔ بات کِسی حد تک درست تھی چچا جان صدر صاحب کے کوآرڈینیٹر تھے، سفارش بھی انھوں نے کی ہو گی، جاب البتہ سفارش پر ملی یا میرٹ پر یہ بہرحال سلیکشن بورڈ کو ہی بہتر پتا ہوا ہو گا۔
دوسرے دن یہ طے پایا کہ میں سینئر کلاس کو دو سبجیکٹ پڑھاؤں گا۔ خوش قسمتی سے دونوں ہی سبجیکٹس میں نے تھوڑا عرصہ پہلے خود بہت اچھے ٹیچرز سے پڑھ رکھے تھے اور ایک کا تو کچھ پریکٹیکل تجربہ بھی تھا۔ میری بحیثیت اُستاد کارکردگی کیسی رہی یہ تو میرے شاگرد ہی بہتر بتا سکتے ہیں مگر میرے اپنے جو اُن پانچ ماہ کے تجربات ہیں، اُن کے بارے میں لکھنا ہی در اصل اس تحریر کا مقصد ہے۔
راولاکوٹ میں آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کا ایگریکلچر کا شعبہ اسّی کی دھائی میں قائم ہوا، جبکہ دو ہزار دو میں اِسی کیمپس میں کمپیوٹر سائنس کی کلاسز کا آغاز ہوا۔ ایگریکلچر کا شعبہ اُن دِنوں بھی کافی مستحکم ہوا کرتا تھا جہاں ایک بڑی تعداد میں پی ایچ ڈیز بھی موجود تھے جن میں سے کچھ پاکستان کے چوٹی کے ریسیرچرز بھی تھے۔
ہمارے کمپیوٹر سائنس کے ہیڈ اف ڈیپارٹمنٹ بھی زراعت کے شعبے کے ہی ایک پروفیسر تھے۔ مجموعی طور پر کمپیوٹر سائنس کا شعبہ ابھی تک ایک عارضی بندوبست دکھائی دیتا تھا جہاں ایک یا دو مستقل لیکچررز کو چھوڑ کر باقی لوگ کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے۔
کچھ عرصہ گزارنے کے بعد اندازہ ہوا کے ذرعی شعبہ کے پروفیسر صاحبان کی آپس میں خاصی ان بن رہتی تھی، مثلا کسی کی ترقی ہو رہی ہوتی یا کسی کی کوئی ریسرچ گرانٹ منظور ہو رہی ہوتی تو دوسروں کو کچھ خاص خوشی نہ ہوتی اُلٹا وہ اس میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے۔
دوسری طرف یونیورسٹی میں کچھ لوئر گریڈ کے ملازمین کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ وہ اپنے سے بڑے عہدے پر موجود لوگوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ تعلیم اگرچہ ان کی یہی کوئی میٹرک یا ایف اے ہوتی تھی مگر ان کے خیال میں ان میں کوئی ایسی پوشیدہ قابلیت موجود تھی جس کی بنیاد پر یونیورسٹی ڈین اور دوسری اہم پوسٹوں پر اصل میں ان کا حق بنتا تھا اور انُھیں وہاں تعینات نہ کر کے اُن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ یہ پوشیدہ قابلیت کیا ہے آج تک کسی کو پتا نہیں چل سکا، اس پر شاید ایک پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ میں نے قصے بھی کافی سنے اور خود بھی کچھ پروفیسروں کو ان “بڑے” صاحبوں کے آگے مجبور پایا۔ ہم نے اپنے ساتھ بھی کچھ اپنے والد صاحب کی عمر کے پروفیسر صاحبان کو مقابلہ کرتے دیکھا اور اُن کے کڑوے کسیلے فقرے بھی برداشت کیے اور کچھ ان “بڑے” صاحبان کے نخرے بھی کہ یہی وہاں کا دستور تھا۔
ضلع پونچھ تعلیمی اعتبار سے پاکستان کے پہلے چند اضلاع میں سے ایک ہے اور اس بات کا احساس مجھے راولاکوٹ میں اپنے قیام کے دوران بھی ہوا۔ میرے شاگردوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کی تعداد تقریبا برابر تھی، ہمارے معاشرے میں لڑکیوں پر گھر کی بھی کچھ نہ کچھ ذمہ داریاں ضرور ہوتی ہیں اس کے باوجود لڑکیوں کی اکثریت پڑھائی میں بہت اچھی تھی۔ لڑکوں کی راولاکوٹ میں پڑھائی اور کھیل کود کے علاوہ کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں مثلا راولاکوٹ کے گردو نواح میں سڑکوں کی لمبائی ماپنا، ہوٹلوں میں چاۓ کی کوالٹی چیک کرنا وغیرہ۔ اس لیے پڑھائی میں لڑکیوں کی نسبت کچھ کمزور تھے مگر ان میں بھی کافی لڑکے محنتی اور قابل تھے۔ انٹرنیٹ نام کا ہی تھا، یعنی اس سے پڑھائی میں کسی قسم کی مدد کے چانسز کم ہی تھے اس کے باوجود پروگرامنگ جیسے سبجیکٹس میں بھی طلبہ اور طالبات کی کارکردگی بہت اچھی تھی۔ بعد میں بہت سے طالب علموں اور طالبات نے اسلام آباد میں بہت سے اچھی کمپنیوں میں ملازمتیں حاصل کیں جہاں ان کا مقابلہ پاکستان کے بہترین اداروں سے فارغ ہوئے لوگوں کے ساتھ تھا۔ راولاکوٹ کے شاگردوں کے کچھ منفی پہلو بھی تھے مثلاً یہ کہ وہ کافی منہ پھٹ تھے۔ میں نے کچھ ایسے واقعات کے بارے میں بھی سُنا جہاں لیکچررز کو پوری کلاس کے سامنے شاگرد کہہ دیتے تھے کہ یہ سبجیکٹ پڑھانا آپ کے بس کی بات نہیں ہے آپ کوئی اور کام کر لیں۔ ایک مرتبہ ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا آپ نے میرے نمبر کم لگائے ہیں جبکہ لڑکیوں کوآپ زیادہ نمبر دیتے ہیں۔ اُس نے شاید مجھے دباؤ میں لانے کے لیے ہوا میں تیر چلایا تھا۔ میں نے کسی ایک لڑکی کا پوچھا اور نام بتانے پر اُسے اُس کا اور اُس لڑکی کا پرچہ دکھایا، اُس نے دونوں پرچے دیکھ کر تسلیم کیا کہ اُس کا الزام درست نہیں تھا اور وہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔
دوسرے سمیسٹر کے شروع شروع کے دن تھے۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ایک لیکچر کی تیاری کر رہا تھا جب میں نے اپنی میز پر پڑے بھاری کمپیوٹر مانیٹر کو اپنی طرف آتے دیکھا، میں سمجھا میرا سر چکرا رہا مگر پھر باہر سے شور بلند ہوا اور پوری عمارت لرزنے لگی۔ ہم بمشکل اپنی جان بچانے کی خاطر باہر بھاگے۔ خوش قسمتی سے راولاکوٹ میں ذلزلے کی شدّت مظفرآباد اور دوسرے علاقوں کے مقابلے میں کم تھی۔ ہماری عمارت مہندم ہونے سے بچ گئی اور نتیجتاً ہم بھی۔
آزاد کشمیر یونیورسٹی کے مظفرآباد اور راولاکوٹ کیمپس کچھ ماہ کے لیے بند کر دئیے گئے۔ ہمارے کنٹریکٹ عارضی تھے اُن کی تجدید نہ ہو سکی۔ بعد میں اگرچہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں عارضی کلاسز کا بندوبست کیا گیا مگر ہمارا راولاکوٹ یونیورسٹی کے ساتھ تعلق ختم ہو گیا۔
میرا خیال ہے کہ مقامی ہونے کی وجہ سے سٹاف اور شاگرد باقی لوگوں کی نسبت میرا کچھ زیادہ خیال رکھتے تھے، اِسی وجہ سے کافی اچھا وقت گزرا۔
کچھ مُشکلات بھی اگرچہ رہیں مگر میرے خیال میں وہ چند ماہ میری زندگی کے بہترین وقت میں سے ہیں۔

تحریر: یاسر ممتاز

اپنا تبصرہ بھیجیں