معاہدے کی پاسداری کی ضرورت

پاکستان میں دو روز سے جو کچھ ہو رہا ہے اس پہ عدل و انصاف کے مطابق رائے دینے کی بجائے معاملے کو سیاسی مسلکی اور فرقہ و نظریاتی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔ایک طرف لبرلز ہیں جن کو دین کے حوالے سے کوئی پر امن اسے پر امن کاوش بھی قبول نہیں لیکن جہاں دین کی مخالفت کا معاملہ ہو یہ اچھل کر اپنا وزن ریاستی جبر کے حق میں ڈال دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لبرلز کی این جی اوز ہوں یا میڈیا پہ موجود افراد وہ صرف غیروں کی بولی بولتے ہیں۔ان کا مقصد اپنے آپ کو ضالین اور مغضوبین کی صف میں شامل رکھنا ہوتا ہے اور اس مقصد میں وہ ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ مسلکی اختلاف کا بھی ہے۔ہر مسلک دوسرے مسلک کی کاوش کو مسلکی عینک سے دیکھتا ہے۔
موجودہ صورتحال کو ہی دیکھ لیں۔لبیک والوں کی تحریک پہ درج ذیل اعتراضات ہیں
1۔یہ پر تشدد ہے
2۔سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ نا معقول ہے۔
3۔اس کے پیچھے غیر جمہوری عناصر ہیں
پہلی بات یہ ہے کہ جو ذی ہوش بھی پاکستان کی پولیس کو جانتا ہے وہ اگر ضمیر کو تین طلاقیں نہیں دے چکا تو یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ پولیس کس طرح وحشی درندوں کی مانند نہتے عوام پر پل پڑتی ہے۔اس کی درندگی کے واقعات ساہیوال سے قصور تک اور کراچی سے کوئٹہ تک پھیلے ہوے ہیں کہ کس طرح نہتے افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا کس طرح ماڈل ٹاون میں عوامی تحریک کے کارکنوں کو بھون دیا گیا حتی کہ خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔لیکن ہر جگہ خاموشی سے گولیاں کھانے والے نہیں ہوتے۔آپ اس بات کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ امام مسجد سے جتنا بھی اختلاف ہو جب مقتدیوں کے سامنے اس کی توہین کی جائیگی اس کو سڑک پر لٹا کر بہیمانہ تشدد کیا جائیگا تو کمزور سے کمزور ایمان والا مسلمان بھی اس پہ خاموشی کو اپنی غیرت ایمانی کے خلاف سمجھے گا۔پھر وہ آپ پہ پھول نہیں برسائے گا۔پاکستان میں پولیس وردی کی اڑ میں عوام پہ اتنا ظلم ڈھایا گیا ہے کہ عوام کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ بھی حق اعتدال سے گزر جاتی ہے یہاں تو معاملہ ختم نبوت کا ہے۔کیا فلسفے جھاڑنے والے یہ نہیں جانتے کہ ایک دینی مسئلے پر مشتعل ہجوم کو روایتی جابرانہ ہتھکنڈوں سے نہیں حکمت سے قابو کیا جا سکتا ہے۔کیا ضرورت تھی سعد رضوی کی گرفتاری کی؟ اور گرفتاری کے بعد احتجاج ہوا تو انسو گیس کی بجائے گولی کے ذریعے ریاست کی رٹ بحال کرنے کی کوشش کیوں کی گئی؟اب بلی تھیلے سے باہر ا گئی ہے حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حالات خراب کیے تاکہ اس جماعت پر پابندی لگائی جائے۔حالانکہ ایک حکومتی اتحادی جماعت ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قتل بھتہ خوری اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کی بوری بند لاشوں کو رواج دینے کا ریکارڈ رکھتی ہے مگر اس جماعت پہ پابندی نہیں لگائی گئی۔عجلت میں سعد رضوی کی گرفتاری اور تحریک لبیک پر پابندی سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ حکومت ختم نبوت اور ناموس رسالت کے قوانین میں چھیڑ چھاڑ کا ارادہ رکھتی ہے۔اس لئے تمام دینی طبقات کو سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر حکومت کو واضح پیغام دینا چاہیے۔
یہ درست ہے کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری مسئلے کا حل نہیں۔آپ کس کس سفیر کو ملک بدر کریں گے اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ممبران کا مسلمانوں کے حوالے سے ریکارڈ افسوسناک ہے۔توہین رسالت اور توہین قران کے واقعات کی ان پانچوں کے علاوہ یوروپ بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے خود ہمارے اپنے ملکوں میں بیٹھے لبرلز ان کے الہ کار اور حاشیہ بردار ہیں۔سفیر کی واپسی سے فرانس کا کیا نقصان ہو گا فرانس کو پاکستان کی کیا ضرورت ہے جو متاثر ہو جائے گی۔اس کے مقابلے میں پاکستان اسلحہ سے لیکر بین ا لاقوامی فورمز تک اس کا محتاج ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ساری باتیں کیا لبیک سے معاہدہ کرتے وقت حکومتی وزراء کو یاد نہیں تھیں؟ کیا فرانس معاہدے کے بعد سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنا ہے؟
کیا معاہدہ ایک دھوکہ تھا اور کیا ہی توڑنے کے لئے گیا تھا؟
اگر ایسا ہی ہے تو ایسی حکومت کا کیا آئینی یا قانونی جواز ہے؟
پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کا تو مسئلہ ہی یہ ہے کہ ان مین کوئی آدمی قابل اعتبار نہیں ہے آخر جس حکومت کا ترجمان فواد چوہدری جیسا دین بیزار اور سیاسی لحاظ سے مستقل سٹیشن بدلنے والا فرد ہو اس کی دینی حوالے سے نیک نیتی پہ کون اعتبا کرے گا۔وہ تو جلتی پر مستقل تیل ڈال رہے ہیں عمران خان کے جذبات قابل قدر ہوتے ہیں لیکن ان کی ٹیم اور دائیں بائیں بیٹھے افراد کو دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ باتیں گلے سے اوپر اوپر ہو رہی ہیں باالکل ہا کی کی ٹیم سے کرکٹ کھیلنےکا منظر ہے۔اخر اس ساری ٹیم میں کون سے ایسے لوگ ہیں جن کی دینی حوالے سے رائے پہ عوام تو درکنار خود ان کی پارٹی کے باعمل لوگ اعتبار کرتے ہوں۔اس لئے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ جتنا بھی نا معقول ہو حکومت اس کو معاہدے میں تسلیم کر چکی ہے اور اس معاملے سے سمجھداری سے نکلنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔پابندی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کا آغاز ہے۔حکومت کی معاہدہ شکنی کے نتیجے میں جو بھی خون گرا ہے اس کا ذمہ دار معاہدہ شکنی کرنے والا فریق ہے۔ممتاز قادری کی شہادت سے آسیہ کی رہائی اور اس کے انعام کے طور پر ایک سابق چیف جسٹس کی بیرون ملک او بھگت اور وقتا فوقتا حکومتی ذمہ داران اور بیرونی فنڈز پر چلنے والی این جی اوز کی طرف سے کی جانے والی سرگر میاں عوام میں شدید اضطراب پیدا کر رہی ہیں یہ احساس عام ہے کہ دین دشمنی ایک فیشن بن گیا ہے جس کی سرپرستی ملکی اور بین الاقوامی سطع پر ہو رہی ہے۔یہ احساس ایک لاوہ بن کر پک رہا ہے تحریک لبیک ان جذبات کا بے سمت اظہار ہے۔مٹھی بھر لبرل انتہا پسند معاشرے کو اپنی سفلی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں اگر عوام اٹھ کھڑے ہوے تو اس سیلاب کو میڈیا ہاوسز ریاستی جبر اور گالی و گولی سے دبانا ناممکن ہو جائے گا۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس وقت تک درجن بھر لاشیں اٹھانے والوں کو غیر جمہوری قوتوں کا الہ کار قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ الہ کار تو حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہیں اور کچھ باہر بیٹھے الہ کار بننے کے لئے بیتاب ہیں۔
جب تک لبرل حکمرانوں کو یہ سمجھ نہیں ائے گی کہ دین اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت گناہ گار سے گناہ گار مسلمان کے نزدیک بھی اپنی جان سے بڑھ کر ہے یہ حکمران زرداری ہو یا نواز شریف یا عمران غلط قدم اٹھاتے رہیں گے اور بعد از خرابی بسیار پسپائی اختیار کرتے رہیں گے.۔۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

اپنا تبصرہ بھیجیں