معائدہ کراچی اور عبوری صوبہ۔۔۔ تحریر: توقیر ریاض

میرا چونکہ جس سکول آف تھاٹ سے تعلق ہے میں کل کے پاکستان کے اقدام کا حامی بھی ہوں اسے کسی طور آئین پاکستان یا یو این چارٹر سے متصادم نہیں سمجھتا ۔ اسلئے میرے اٹھائے گے سوالات صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو ساری عمر معائدہ کراچی کا کریڈٹ لیتے رہے اسے ہمارے روشن مستقبل کا ضامن بتاتے رہے کل سے وہ کچھ اور پاٹ پڑھانے کی کوشش کر رہے ہيں ۔
معائدہ کراچی ۱۹۴۹ پاکستان کے تب کے وزير امور کشمير ، صدر آزاد کشمیر سردار ابراہيم اور مسلم کانفرنس کے صدر چودھری غلام عباس کے مابين طے پايا ۔
اس معاہدے کی روح سے گلگت بلتستان کو تمام انتظامی کنٹرول پاکستان کے حوالے کر ديا گیا اور رياستی اسمبلی سے مکمل عليدہ گورننگ باڈی تشکيل دی گی ، حالانکہ اس معاہدے ميں گلگت سے کوئی نمائندہ شامل نہيں تھا ۔
اسی معاہدے کی روح سے ڈيفنس اور فارن پاليسی يہاں تک کے يو اين سے مزاکرات کا اختيار بھی پاکستان کو دے ديا گيا ۔
اگر پاکستان کا کل گلگت کو صوبہ بنانا تقسيم کشمير ھے تو معائدہ کراچی ميں گلگت اور آزاد کشمير کو دو عليدہ يونٹ بنا کر اپ نے کے بزرگوں نے کيا کيا تھا ؟
بغير کسی عوامی نمائندے کے جو اپ نے معائدہ گلگتی عوام پر مسلط کيا اس کے بعد آپ کیا توقع رکھتے تھے وہ کشميری کہلانے پر فخر کريں گے۔
ايک اور اہم سوال تاريخ کے دانشوروں سے کے کشمير اسلئے پاکستان کا حصہ نہيں کيوں کے ہماری تاريخ پرانی ھے جب وہ بر صغير تھے تم تب بھی کشمير تھے وغيرہ وغيرہ تو تاريخی طور پر گلگت کی تاریخ ۲۰۰۰ سال پرانی ھے وہ کيوں آئيں تمھارے ساتھ ۔
پھر تاريخی طور پر گلگت کب کشمير کا حصہ رہا ۱۸۶۰ سے ۱۹۴۷ تک صرف کشمير کے ساتھ ڈو گرا کے زير تسلط رہا ،
اگر چودھری غلام عباس اور سردار ابراہيم نے کوئی تاريخی کام کیا تھا جو آپ ساٹھ سال سے ہميں پاٹ پڑھاتے آئے ہيں تو آج بھی اس پر قائم رہيں ورنہ پہلے کئے گے جرم کا اعتراف کريں کفارا ادا کريں پھراُف اُف ہائے ہائے مل کر کرتے ہيں

اپنا تبصرہ بھیجیں