جموں پونچھ کشمیر لداخ گلگت بلتستان

یہ حقیقت ہے کہ جموں کے مہاراجہ نے طاقت کے زور پر پونچھ پر غاصبانہ قبضہ کیا۔

اس ظالم اور انگریزوں کے غلام مہاراجہ کو اس کی انگریزوں کو دی جانے والی خدمات کے پیش نظر انگریزوں نے کشمیر بھی بیچ دیا۔

مہاراجہ نے لداخ بشمول گلگت بلتستان پر بھی حملہ کرکے قبضہ کر لیا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے کبھی خود کو جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم ہی نہیں کیا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا جائے۔لیکن

کیا یہ سب کچھ انٹرنیشنل برادری سنے گی؟
کیا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر صوبہ بنا کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان، انڈین میڈیا کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر سکے گا؟
کیا اس سے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان نہیں پہنچے گا؟

جب یہ بات 100 فیصد یقینی ہے کہ اگر گلگت بلتستان میں ریفرنڈم کروایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ
پاکستان کا صوبہ بننے چاہتے ہیں
آزاد کشمیر جیسا سیٹ اپ چائیے
یا جیسا ہے ویسا ہی
تو 90 فیصد سے زیادہ عوام پاکستان کا صوبہ بننے پر ترجیع دے گی پھر ایسے ریفرنڈم کے بغیر صوبہ بنانے کی جلدی کیا ہے؟

نوٹ: گلگت بلتستان کے 90 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ ان کو کشمیرایشو کے ساتھ مکس نہ کیا جائے بلکہ پاکستان کا صوبہ بنایا جائے یہ اندازہ پونچھ یونیورسٹی جو پہلے آذاد کشمیر یونیورسٹی کا کیمپس ہوا کرتی تھی میں 2002 سے 2008 تک پڑھنے والے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ سے گفت و شنید کے بعد لگایا گیا ہے۔

اگر کسی کو شک ہو تو کل پونچھ یونیورسٹی میں جائے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے موجودہ طلبہ سے پوچھ لے یا پھر ہنزہ اور گلگت جا کر لوگوں کے انٹرویوز کر کے دیکھ لے۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کا صوبے کا یہ بہت دیرینہ مطالبہ ہے لیکن یہ مطالبہ پورا کرنے کے لئے پورے کشمیر کاز کو داو پر لگانا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہو گا۔ اس لیے ریفرنڈم کے ذریعے ہی ایسا ہونا چائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں